اگر آپ بھی نوکری پیشہ ہیں اور بچت کرکے کچھ پیسے بچا رکھے ہیں، جنہیں بہتر اور محفوظ جگہ لگا کر منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ڈان بلاگز اِس حوالے سے آپ کی رہنمائی کرنے کے لیے ایک بلاگ سیریز شروع کررہا ہے۔ یہ سیریز کا پہلا بلاگ ہے۔


کراچی میں سندھ سیکریٹریٹ سے کچھ فاصلے پر برنس روڈ کے قریب ایک چائے کے ڈھابے پر چند سرکاری ملازمین شام کی چائے پینے کے لیے موجود تھے۔ اُس ہوٹل پر بہترین چائے کے ساتھ گپ شپ کا بھی اچھا موقع مل جاتا ہے۔

حامد میاں، ریاض بھائی اور احتشام بھائی چائے پینے بیٹھے تھے۔ تینوں ہی اپنی عمر کا بیشتر بہترین حصہ گزار چکے ہیں اور پچاس کے پیٹے میں ہیں۔ حامد بھائی اُن میں سب سے سینئر ہیں اور آئندہ ماہ ریٹائر ہونے والے ہیں۔

حامد میاں خوش تھے کہ اُنہیں ریٹائرمنٹ پر 10 لاکھ روپے ملیں گے۔ گفتگو کا رخ حامد بھائی کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی پر مڑ گیا۔

حامد میاں نے احتشام سے پوچھا کہ یہ بتاؤ اِس رقم کو کون سے بینک میں رکھا جائے جہاں باعزت منافع مل سکے، اور جب ضرورت ہو تو اپنی اصل رقم بغیر کسی کٹوتی کے مل بھی جائے۔ احتشام بھائی بولے: بھائی بینک میں ہی کیوں رقم رکھنا چاہتے ہو؟

حامد میاں نے جواب دیا کہ میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں بینک دراصل نفع و نقصان کی بنیاد پر کام کرتے ہیں۔ خبروں میں پڑھا ہے کہ آج کل بینکوں کا منافع بہت بڑھ رہا ہے۔ تو میں بھی اِس نفع میں اپنے 10 لاکھ روپے سے شراکت داری کرلوں گا۔

احتشام بھائی بولے: واہ بھئی آپ نے تو پورے کا پورا حساب کر رکھا ہے۔ تو بتائیے، بینکوں نے کس قدر منافع کمایا ہے؟

حامد میاں نے اپنے اسمارٹ فون پر ایک خبر اردو اخبار کی ویب سائٹ احتشام کے سامنے کردی، جس میں لکھا تھا کہ سال 2013ء سے پاکستان میں کم ترین شرح سود پر بینکاری صنعت کام کر رہی ہے، مگر حیرت انگیز طور پر بینکوں کے منافع میں ہوش ربا اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ سال 2013ء میں بینکوں کا ٹیکس سے پہلے کا مجموعی منافع 162 ارب روپے تھا جو 2015ء میں بڑھ کر 329 ارب روپے ہوگیا ہے۔ حالانکہ سال 2016ء میں یہ منافع کسی قدر کم ہوا ہے؟ اِس خطیر منافع کی مثال پاکستان کی گزشتہ تاریخ یا دنیا میں کہیں نہیں ملتی ہے۔

ابھی گفتگو جاری ہی تھی کہ بیچ میں ریاض بھائی بھی کود پڑے اور کہنے لگے، ’بھائی یہ بینکس بھی نا، عجب کاروبار ہے۔ ہینگ لگی نہ پھٹکری، رنگ چوکھا۔‘ میری حیرت اور بڑھی اور پوچھا، ’بھائی وہ کیسے؟‘ تو کہنے لگے، ’آپ کو پتہ ہے بینک کام کیسے کرتے ہیں؟‘

ہم سب نے یک زبان ہوکر پوچھا، ’کیسے؟‘

کہنے لگے، ’بینک دراصل اپنے سرمائے کے بجائے انگریزی کی اصلاح او پی ایم پر کام کرتے ہیں۔‘

حامد میاں نے بات اچک لی، ’اچھا ۔۔۔ اوپیئم، یعنی افیون۔‘

اُس پر ریاض بھائی جھلا گئے اور کہنے لگے، ’بھئی اوپیئم نہیں، OPM، یعنی Other Peoples Money پر کام کرتے ہیں۔ بینک ہمارے جیسے یعنی چھوٹی چھوٹی بچت کرنے والوں کی محنت سے کمائی گئی رقم جمع کرتے ہیں اور اِس رقم کو بڑے بڑے سرمایہ کاروں کو اُدھار دیتے ہیں اور سرمایہ کار اِس رقم سے اپنی دولت کئی گنا بڑھا لیتے ہیں جبکہ غریب کو کیا ملتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔‘

حامد میاں نے کہا ’چھوڑ یار ریاض، تو ابھی تک سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغض دل میں لیے بیٹھا ہے۔ بھائی سوشلزم کمیونزم اور لیبرازم کب کے دفن ہوگئے۔ اب تو بس دھن ہی دھن کی بات ہے۔ اب تو چھوڑ دو یہ لیڈری۔‘ مگر ریاض بھائی بھی کہاں پیچھے ہٹنے والے تھے۔ نوکری کیا کی، بس ساری عمر محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں گزار دی۔

پڑھیے: کیا سیونگس اکاؤنٹ آپ کے لیے مفید ہیں؟

ریاض بھائی بولے، ’میں لیڈری نہیں کر رہا بھائی، یہ باتیں تو مجھے میرے بیٹے نے بتائی ہیں جو کہ اب اللہ کا شکر ہے 'بی بی اے' کر رہا ہے اور جلد ہی کسی بینک میں ملازم لگ جائے گا۔‘

حامد بھائی بولے، ’اچھا تو برخوردار نے کیا بتایا ہے؟‘

ریاض بھائی نے پھر بولنا شروع کردیا:

’پاکستان میں 80ء کی دہائی میں معیشت کو اسلامی بنانے کے لیے بینکوں میں رکھی گئی رقوم سے متعلق بنیادی قانون سازی کی گئی اور بینکس اب اپنی پسند کی شرح سود دینے کے بجائے کھاتے دار کو بینک کے مجموعی منافع میں شراکت دار بنانے کے پابند ہیں۔ اِسی قانون سازی کے بعد حکومت نے بینکس کے کھاتوں کو سود سے تبدیل کرکے نفع اور نقصان کی بنیاد پر منافع دینے والے کھاتے میں تبدیل کردیا۔ یعنی اگر بینک کو نفع ہوا تو کھاتے دار کو بھی اُسی شرح سے نفع میں شامل کیا جائے اور اگر خسارہ ہوا تو کھاتے دار بھی اُس خسارے کو برداشت کرے۔ اِسی لیے اِن کھاتوں کو PLS Accounts یا Profit and Loss اکاؤنٹ کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔‘

احتشام نے کہا، ’چلو اچھا ہے، اگر ایسی ہی بات ہے تو حامد میاں کی رقم کسی بینک میں رکھوا دیتے ہیں۔ اگر منافع میں کئی سو گنا اضافہ ہورہا ہے تو کھاتے داروں کو بھی اچھا منافع مل رہا ہوگا۔‘

جس پر ریاض بھائی تقریباً جھڑکتے ہوئے بولے، ’پہلے پوری بات تو سن لیں، پھر بولیں۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کہتے ہیں کہ بینک قرضوں پر 9.60 فی صد کی شرح سے سود حاصل کررہے ہیں۔ مگر کھاتیداروں کو جو منافع دے رہے ہیں وہ صرف 3.49 فی صد منافع دیا جاتا ہے۔ اِس طرح بینکس 6.11 فی صد کے فرق (اسپریڈ) کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ اِسی لیے تو بینکوں کے منافع میں اضافہ ہورہا ہے۔ مگر کھاتیدار پس رہا ہے۔‘

ریاض بھائی کی باتیں سن کر سب کا منہ تو جیسے لٹک ہی گیا تھا۔ چہروں کی کیفیت دیکھ کر ریاض بھائی بولے، ’ابھی ٹھہرو، میرا بیٹا مجھے لینے آرہا ہے۔ باقی باتیں اُسی سے پوچھ لینا۔‘

چند منٹ کے لیے بات چیت کا سلسلہ رک گیا اور سب اپنی اپنی چائے پر توجہ دینے لگے۔ چند ہی منٹوں میں چائے کے ہوٹل کے قریب ایک موٹر سائیکل رکی جس سے ایک نوجوان نے اتر کر ریاض بھائی اور دیگر کو سلام کیا۔

ریاض بھائی نے کہا، ’لو جی نوجوان آگیا ہے۔ اِسی سے پوچھ لو۔ چل بیٹا بتا کہ بینکوں میں رقم رکھنے کی تو کیوں مخالفت کرتا ہے؟‘

نوجوان نے کہا کہ ’پہلے تو اگر وہ فکسڈ ڈیپازٹ نہیں کرواتے تو پھر اُن کو وہی 3.49 فی صد سالانہ منافع ملتا ہے۔‘

حامد میاں بولے، ’بیٹے ذرا آسان لفظوں میں بتاؤ کہ کتنا ملے گا۔ یہ فی صد وی صد ہماری سمجھ سے باہر ہے۔‘

نوجوان گویا ہوا: ’چلیں اِس کو یوں سمجھیں کہ سالانہ 3.48 فی صد منافع کا مطلب ہے، ہر سو روپے پر سالانہ 3روپے 49 پیسے منافع ملے گا۔ ایک ہزار روپے پر یہ منافع 34 روپے 90 پیسے، دس ہزار پر 349روپے اور ایک لاکھ پر 3490 روپے سالانہ ہوجائے گا اور دس لاکھ روپے پر 34900 روپے سالانہ یعنی ہر ماہ کا منافع ہوگا 2980 روپے۔‘

حامد میاں بولے بیٹا یہ رقم تو میری ماہانہ ادویات کی ضروریات بھی پوری نہیں کرتی ہے۔ شوگر اور دل کی بیماری کی دوائیاں اِس سے زیادہ میں آتی ہیں۔ مگر نوجوان تو اُن کے دل پر مزید بجلی گرانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ اُس نے کہا کہ، ’کیا آپ کو پتہ ہے کہ یہ شرحِ منافع دراصل منفی ہے۔‘

’منفی منافع؟ اِس کا کیا مطلب ہوا بیٹا،‘ حامد میاں نے سوال کیا۔

مزید پڑھیے: مڈل کلاس آمدنی سے پرسکون ریٹائرمنٹ کیسے ممکن؟

تو نوجوان نے الٹا سوال داغ دیا کہ، ’افراطِ زر کیا ہوتا ہے، یہ پتہ ہے؟ (سب نے نفی میں سر ہلا دیا) تو نوجوان بولا، ’قیمتوں میں اضافے کی شرح یا روپے کی کم ہوتی قوتِ خرید، جسے عام لفظوں میں مہنگائی کہتے ہیں۔ ایک مہینے انڈے 100 روپے درجن تھے تو دوسرے مہینے انڈے 103روپے درجن ہوگئے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ روپے کی قوت خرید 3 روپے کم ہوگئی۔‘

کوئی تاثر نہ پاکر نوجوان پھر بولا، ’وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق جولائی سے اکتوبر کے دوران پاکستان میں اوسط افراطِ زر کی شرح 3.95 فی صد رہی یعنی روپے کی قوت خرید میں 3.95 فی صد کمی ہوئی، جبکہ اسٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں کا کھاتوں پر دیا جانے والا مجموعی منافع 3.49 فی صد تھا۔ اِس طرح حقیقی شرح منافع منفی اعشاریہ چار چھ فی صد رہی۔ یعنی ہر مہینے آپ کو ملنے والی رقم اور اصل زر کی قوت خرید میں اضافے کے بجائے کمی ہورہی ہے۔‘

اب حامد موجودہ حکومت کو کوسنے لگے کہ جب سے یہ حکومت آئی ہے، اِسی طرح عوام کو لوٹ رہی ہے۔

نوجوان نے پھر بات کاٹ دی، اور کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے بینکوں میں شرح منافع منفی ہی ہے اور ابھی تو یہ منفی شرح کم ہوگئی ہے، اور سال 2012 میں بینکوں نے کھاتوں پر 6 فیصد سالانہ اوسط منافع دیا۔ جبکہ افراطِ زر کی شرح اوسطاً 12 فیصد تھی۔ اِس طرح حقیقی شرح منافع منفی 6 فی صد رہی۔

اب ریاض بھائی کو بھی بات کرنے کا موقع مل گیا اور کہنے لگے، ’بھائی اِسی لیے تو ملک میں بچت کی شرح خطے میں سب سے کم ہے۔‘

سال 2004 میں پاکستان میں بچتوں کی شرح 15.7 فی صد تھی، مگر بینکوں کی جانب سے بچت کھاتوں کی حوصلہ شکنی اور اسٹیٹ بینک کی پشت پناہی نے بچت کی شرح مالی سال 2016ء میں کم ہوکر صرف تقریباً 8.2 فیصد رہ گئی۔

نوجوان نے اپنی بات میں وزن شامل کرنے کے لیے ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کاروبار کرنے والے پانچ بڑے بینکوں کا بینکاری کی صنعت کے مجموعی منافع میں حصہ 60 فیصد ہے۔ 2000ء کے معیار کے حساب سے بینکوں نے جنوری 2001ء سے جون 2016ء تک اپنے کھاتے داروں کو دی جانے والی شرح گرا کر تقریباً 1400 ارب روپے کم دیے۔

’اچھا تو بیٹا جو پہلے منافع مل رہا تھا وقت کے ساتھ ساتھ اُس میں بھی کمی ہو رہی ہے؟‘

نوجوان نے ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اِسی لیے تو سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ ابھی موجود ہے۔اور 9 سال سے التواء کا شکار ہے۔ اگر شاہد صاحب کے اِس مقدمے کو عدلیہ سن لے تو اُمید ہے کھاتے داروں کو اچھا منافع ملنے کی کرن پیدا ہوسکتی ہے۔

نوجوان کی بات کچھ سمجھتے اور بہت کچھ نہ سمجھتے ہوئے حامد میاں کے دل سے دعا نکل رہی تھی کہ اللہ کرے سپریم کورٹ کو پاناما اور نااہلی کے مقدمات سے فرصت ملے تو 9 سال سے التواء کا شکار مقدمہ پھر سے کھل جائے اور اُنہیں کم از کم اتنی رقم تو ملے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد باعزت زندگی گزار سکیں۔

نوجوان نے کہا، ’تو حامد انکل آپ اپنی رقم فکسڈ ڈیپازٹ کروا دیں۔ شاید کچھ اچھا منافع مل جائے۔ حامد میاں نے کہا میں چاہتا تھا کہ رقم جب چاہوں مل جائے تاکہ اگر کوئی گھر کی ضرورت ہو تو پوری کی جائے۔ مگر بتاؤ فکسڈ ڈیپازٹ میں کیا ملے گا؟‘

نوجوان نے کہا، ’انکل فکسڈ ڈیپازٹ میں ہر بینک کا منافع مختلف ہے۔ اسلامی بینکوں کا تو کوئی مقرر نہیں ہے، وہ کم زیادہ کرتے رہتے ہیں۔ مگر روایتی بینکوں کا منافع ابھی اُن کی ویب سائٹ سے مل جائے گا۔ اچھا بہت سی ویب سائٹس ہیں جو کہ موازنہ پیش کرتی ہیں یا شرح منافع بتاتی ہیں، مگر یہ ویب سائٹس بروقت اپ ڈیٹ نہیں ہوتیں۔ اِس لیے بینک کی اپنی ویب سائٹ پر ہی منافع دیکھنا چاہیے۔

جانیے: کیا کمیٹی ڈالنے سے واقعی پیسوں کی بچت ہوتی ہے؟

’نیشنل بینک کے پی ایل ایس پلس ٹرم ڈیپازٹ پر منافع سالانہ بنیادوں پر 13.35 فی صد ہے، لیکن یہ منافع اُس صورت میں ملے گا جب آپ دس سال کے لیے رقم اِن کے پاس رکھواتے ہیں، لیکن اگر پانچ سال کے لیے رکھوائیں گے تو منافع 8.70 فی صد ملے گا۔

’الائیڈ بینک کے ٹرم پلس ڈیپازٹ میں دس سال کا منافع 7.45 فی صد سالانہ ہے، جبکہ ماہانہ منافع کی ادائیگی پر منافع 4.95 فی صد ہے۔

’اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ماہانہ اضافہ اکاؤنٹ میں شرح منافع 6 فی صد ہے۔‘

’یو بی ایل، ایم سی بی اور ایچ بی ایل کے پاس بچت کے کئی اکاونٹس ہیں۔ جن میں شرح منافع اور شرائط مختلف ہیں۔ اِس کا پتہ تو برانچ جا کر ہی ہوگا۔‘

حامد میاں کو فکسڈ ڈیپازٹ پر شرحِ منافع کا معلوم کرکے کچھ اطمینان تو ہوا۔ جس پر انہوں نے کہا کہ ’چلو فکسڈ ڈیپازٹ ہی کروا دیتے ہیں، کچھ اچھا منافع بھی مل جائے گا۔‘

نوجوان نے کہا کہ، ’انکل فکر نہ کریں، چند دن بعد پھر ملاقات ہوگی تو آپ کو سرمایہ کاری کے کچھ مزید طریقے بھی بتا دوں گا، جس میں اصل رقم بھی محفوظ رہے گی اور ماہانہ اچھا منافع بھی مل جائے گا۔‘

نوجوان ریاض صاحب سے مخاطب ہوا اور کہا، ’چلیں ابو، مجھے گھر پہنچ کر بچوں کو ٹیوشن بھی دینی ہے۔ بچے گھر پہنچ چکے ہوں گے۔‘

ریاض صاحب اور نوجوان نے حامد میاں اور احتشام سے ہاتھ ملایا اور سب اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دیے۔


نوٹ: اِس مضمون کے تمام کردار تمثیلی ہیں۔ اِس مضمون کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا ہے۔ قارئین کو سرمایہ کاری یا مالیاتی فیصلے لینے سے پہلے خود سے احتیاطاً ریسرچ کر لینی چاہیے۔