یہ ماہرہ خان کی دوسری فلم ہے جس پر سنسر بورڈ نے پابندی لگائی —۔
یہ ماہرہ خان کی دوسری فلم ہے جس پر سنسر بورڈ نے پابندی لگائی —۔

پاکستانی فلم ’ورنہ‘ پر لگی پابندی کے حوالے سے کئی قیاس آرائیاں گزشتہ روز سامنے آئیں، تاہم اب سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز (سی بی ایف سی) نے اپنا حتمیٰ فیصلہ دیتے ہوئے شعیب منصور کی فلم پر پابندی لگادی ہے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے سی بی ایف سی کے چیئرمین مبشر ہارون کا کہنا تھا کہ ’سنسر بورڈ کے پینل نے فلم کے خلاف متفق اعتراضات اٹھائے ہیں اور ہم ابھی ان پر غور کررہے ہیں‘۔

اب تک یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ آخر فلم میں کس بات پر اعتراض اٹھائے جارہے ہیں اور اس پر پابندی کیوں عائد کی گئی، تاہم اگر وقت پر فلم ساز اپیل دائر کردیں تو شاید فلم نمائش کے لیے پیش کی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں: کیا سنسر بورڈ نے ’ورنہ‘ کی ریلیز پر پابندی لگادی؟

اس حوالے سے مبشر ہارون کا کہنا تھا کہ ’اگر فلم کے پروڈیوسر نے پینل کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تو سینٹرل بورڈ اس فیصلے پر ریویو کرے گا، تاہم اگر پروڈیوسر نے اپیل دائر نہیں کی، تو پینل کا فیصلہ حتمیٰ ہوگا جس پر عمل کیا جائے گا‘۔

مبشر حسن کے مطابق فلم کی ٹیم کے پاس اپیل دائر کرنے کے لیے 15 دن کا وقت ہے، ورنہ سنسر بورڈ کا فیصلہ مان لیا جائے گا۔

جبکہ شعیب منصور نے اپنے ایک بیان میں سی بی ایف سی سے اپیل کی ہے کہ ان کی فلم کو ریلیز کی اجازت ملے۔

ماہرہ خان نے بھی گزشتہ روز فلم پر لگنے والی پابندی کی خبروں کے حوالے سے بتایا تھا کہ ’اس وقت میری بس امید ہے کہ یہ فلم 17 نومبر کو ہی ریلیز ہو، میں نے اس فلم میں کام کیا ہے، اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے کسی کو شکایت ہونی چاہیے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم یہی سوچ رہے ہیں کہ آخر فلم میں ایسی کون سی چیز ہے جس پر سوال اٹھایا جارہا ہے، لوگوں کو مسائل ضرور ہوسکتے ہیں لیکن اس پر پابندی لگانا کوئی حل نہیں ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: 'رئیس'غیر موزوں قرار، پاکستان میں ریلیز پر پابندی

خیال رہے کہ یہ ماہرہ خان کی دوسری فلم ہے جسے پاکستانی سنسر بورڈ نے نمائش سے روکا ہے۔

اس سے قبل ان کی بولی وڈ فلم ’رئیس‘ کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے اس پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔