اسلام آباد: سپریم کورٹ کو ایک دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت بیرونِ ملک غیر قانونی طور پر قید یا حراست میں رکھے جانے والے پاکستانیوں کو قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے لائحہ عمل ترتیب دے۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی فلاحی تنظیم کے سربراہ محمد داؤد اور تھالینڈ میں غیر قانونی طور پر قید شخص کی والدہ نے سپریم کورٹ میں وفاقی حکومت سے مدد طلب کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ معاشی حالات سے تنگ آکر کئی پاکستانی تھائی لینڈ پہنچے جہاں انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لے لیا گیا جنہیں انصاف فراہم نہیں کیا جارہا، اس ضمن میں حکومت بھی کسی قسم کا قانونی تعاون کرنے کو تیار نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: بیرونِ ملک قید پاکستانی اور حکومتی لاپرواہی

درخواست میں سیکریٹری قانون، وزارتِ خارجہ، وزاتِ داخلہ اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں (اوور سیز پاکستان) کی وزات سمیت قومی اسمبلی کو فریقین بناتے ہوئے جواب طلب کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

سکینہ بی بی نے درخواست میں انتہائی افسوس کے ساتھ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ’میرا بیٹا دلدار حسین تھائی لینڈ کی جیل میں قید ہے اور اُسے پاکستانی سفارت کار کی جانب سے کسی قسم کی کوئی قانونی مدد فراہم نہیں کی جارہی‘۔

درخواست میں والدہ نے مزید مؤقف اختیار کیا ہے کہ زبان کی رکاوٹ کے باعث بیٹے کا بیان نہیں لیا گیا اور تھائی لینڈ کی عدالت نے اُس کے خلاف فیصلہ جاری کیا، اس ضمن میں متعدد مرتبہ پاکستانی حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے ترجمان کی سہولت تک مہیا نہیں کی۔

واضح رہے کہ پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد روزگار کے لیے بیرونِ ملک جاتی ہے اور وہاں انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے، اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد جیل میں موجود ہے علاوہ ازیں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی صورتحال حکومتی تعاون نہ ہونے کی وجہ سے بدتر ہے۔


یہ خبر 16 نومبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی