کلبھوشن کی اہلیہ کوملاقات کی پیشکش پربھارتی جواب پاکستان کو موصول

اپ ڈیٹ 18 نومبر 2017

ای میل

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو کی اہلیہ سے ملاقات کی پیشکش پر بھارت کی جانب سے جواب موصول ہوگیا ہے جس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے بھارت سے 10 نومبر کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے گرفتار افسر کلبھوشن یادیو کی اہلیہ سے اس کی ملاقات کرانے کی پیش کش کی تھی۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی کمانڈر کلبھوشن یادیو اور ان کی اہلیہ کی ملاقات کا انتظام کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم ترجمان وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو کی اس کی اہلیہ سے ملاقات پاکستان مِیں ہی کرائی جائے گی اور اس حوالے سے اسلام آباد میں موجود بھارتی ہائی کمیشن کو آگاہ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی کلبھوشن یادیو سے اہلیہ کی ملاقات کی پیش کش

ذرائع کے مطابق بھارت کی جانب سے موصول ہونے والے جواب میں کہا گیا ہے کہ ’انسانی حقوق کی بنیاد پر کلبھوشن کی والدہ بھی اپنے بیٹے سے ملاقات کی حق دار ہیں اس لیے پاکستان پہلے والدہ کو ویزہ فراہم کرے جن کی درخواست پاکستانی ہائی کمیشن کے پاس موجود ہے‘۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بھارت کلبھوشن کی اہلیہ کو اکیلے پاکستان بھیجنے سے گریزاں ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے بھارتی جواب کا جائزہ لیا جارہا ہے اور مکمل غور و خوض کے بعد ترجمان کی جانب سے تمام تفصیل بتائی جائے گی۔

یاد رہے کہ ’را‘ کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتارکیا گیا تھا۔

بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا جس میں اُس کا کہنا تھا کہ ’را کی جانب سے مجھے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی‘۔

یہ بھی پڑھیں: حتمی فیصلہ آنے تک پاکستان کلبھوشن کو پھانسی نہ دے، عالمی عدالت

پاک فوج کی جانب سے کلبھوشن کے 2 اعترافی ویڈیو پیغامات بھی سامنے آچکے ہیں جن میں اُس نے کراچی اور بلوچستان میں موجود نیٹ ورک اور دہشت گردی کا اعتراف کیا تھا۔

بعدازاں 10 اپریل 2017 کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جاسوسی اور کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پرسزائے موت کا حکم دیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ جنرل کورٹ مارشل (ایف جی سی ایم) نے پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت کلبھوشن یادیو کا ٹرائل کیا اور سزا سنائی جس کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مجرم کی سزائے موت کی توثیق کی۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے پاکستان آرمی ایکٹ 1952 کے سیکشن 59 اور سرکاری سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 3 کے تحت ٹرائل کیا گیا۔

واضح رہے کہ بھارت نے عالمی ثالثی عدالت میں کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کو چیلنج کرتے ہوئے سزا پر عمل درآمد رکوانے کی اپیل کی تھی جس کی سماعت رواں سال مئی میں ہوئی تھی۔

کیس کی سماعت کے پہلے مرحلے میں عالمی عدالت میں بھارت کے دلائل پیش کئے جبکہ پاکستانی ٹیم نے دوسرے مرحلے میں اپنے دلائل پیش کیے۔

اسے بھی پڑھیں: کلبھوشن یادیو کون ہے؟

عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف کیس کی سماعت کے موقع پر پاکستانی وفد میں سفیر معظم احمد خان، ڈاکٹر محمد فیصل اور سید فراز حسین موجود تھے۔

ان کے علاوہ پاکستان کی جانب سے خاور قریشی نے عدالت میں دلائل دیئے جبکہ قانونی ٹیم میں اسد رحیم خان اور جوزیف ڈیکے بھی شامل تھے۔

پاکستانی وکلا کی ٹیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کلبھوشن کا کیس عالمی عدالت انصاف کے دائرہ کار میں نہیں آتا اس لیے یہاں کیس نہیں چلایا جاسکتا۔

آئی سی جے نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے خلاف ہندوستان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن کو پھانسی روک دی۔

بھارتی درخواست پر فیصلہ عالمی عدالت انصاف کے جج رونی اَبراہم نے فیصلہ سنایا تھا جس کو 15 مئی کو محفوظ کیا گیا تھا۔

انہوں نے پاکستان کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے حکم امتناع جاری کر تے ہوئے کہا تھا کہ عالمی عدالت اس معاملے کی سماعت کا اختیار رکھتی ہے۔

جج رونی ابراہم کا فیصلہ سناتے ہوئے کہنا تھا کہ کلبھوشن کو پاکستانی آرمی ایکٹ کے تحت سزائے موت سنائی گئی جبکہ کلبھوشن یادیو کی جانب سے کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی۔