ایرانی صدر کا داعش کو ختم کرنے کا دعویٰ

22 نومبر 2017

ای میل

بیروت: ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے خطاب میں خطے سے شدت پسند تنظیم داعش کے خاتمے کا اعلان کردیا۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں برطانوی خبر رساں ادارے کی جانب سے بتایا گیا کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے گزشتہ روز سرکاری ٹی وی پر براہِ راست خطاب میں کہا تھا کہ خطے میں لوگوں کی مزاحمت اور اللہ کی رہنمائی سے ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کے سروں سے ان لوگوں (داعش) کو ختم کردیا یا کم کردیا ہے۔

ایک سینئر فوجی کمانڈر نے بھی ہزاروں شہیدوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ایران کی جانب سے عراق اور شام میں عسکریت پسند گروپ کو شکست دینے کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

ایرانی صدر نے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردوں کی کچھ باقیات موجود ہیں تاہم ان کی جڑوں اور ان کی بنیاد کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے۔

اپنے خطاب میں حسن روحانی نے الزام لگایا کہ امریکا اور اسرائیل خطے میں داعش کی حمایت کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: مشرقی وسطیٰ میں امن کیلئے امریکا کے خلاف قدم اٹھانے کا عندیہ

ایران پاسدارانِ انقلاب کی نیوز ویب سائٹ سیپاہ پر جاری ایک پیغام کے مطابق سینئر کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو بھیجے گئے پیغام میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ داعش کو خطے سے شکست دے دی گئی ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کی جانب سے اکثر قاسم سلیمانی کی تصاویر اور ویڈیو دکھائی جاتی ہیں جس میں انہیں پاسدارانِ انقلاب کی برانچ ’قدس فورس‘ کی سربراہی کرتے دکھایا جاتا ہے جو ایران سے باہر آپریشن کی ذمہ دار بتائی جاتی ہے اور یہی فورس فرنٹ لائن پر عراق اور شام میں داعش کے خلاف جنگ میں مصروف رہی تھی۔

خیال رہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایک طاقت ور فوجی فورس ہے جو اربوں ڈالر مالیت کی اقتصادی سلطنت کی نگرانی بھی کرتی ہے جبکہ یہی فورس شام میں صدر بشارالاسد اور بغداد میں مرکزی حکومت کی حمایت میں لڑ رہی ہے۔

شام اور عراق میں پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈروں سمیت ہزاروں فوجی مارے جاچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مغربی پالیسیاں 'ناکام' ہوچکی ہیں: آیت اللہ خامنہ ای

شام کا تنازعہ ہفتے کو نئے مرحلے میں داخل ہوا جب حکومت اور اس کی اتحادیوں کی جانب سے البو کمال نامی شہر کو داعش کے قبضے سے خالی کرایا گیا۔

عراق اور شام میں داعش کے خلاف جنگیں لڑنے والی مختلف فورسز کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ وہ لوگ روپوش ہوگئے ہیں اور خیال ہے کہ وہ لوگ گوریلا بغاوت کی طرح سلیپر سیل اور بمباری کا استعمال کریں گے۔

خیال رہے کہ 2014 میں شدت پسند تنظیم داعش نے شام اور عراق کے متعدد علاقوں پر قبضہ کر کے خود ساختہ خلافت قائم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے شام اور عراق، اتحادی افواج کے ساتھ ملک کر داعش کے خلاف جنگ میں مصروف تھے۔