• KHI: Clear 30°C
  • LHR: Partly Cloudy 29.5°C
  • ISB: Partly Cloudy 26.7°C
  • KHI: Clear 30°C
  • LHR: Partly Cloudy 29.5°C
  • ISB: Partly Cloudy 26.7°C

گھٹن میں تازگی کا احساس دینے والی سبطِ حسن کی دو کتابوں کا ذکر

شائع November 29, 2017 اپ ڈیٹ November 30, 2017

جب بھی میں ان کتابوں کی ریڑھ پر ’سبطِ حسن‘ کا نام پڑھتا ہوں، تو ایک عہد ساز شخصیت کا خاکہ میرے ذہن میں اُبھرتا ہے: سفیدی مائل بالوں والے شخص، ہاتھ میں پائپ اور واضح اور مدلل انداز میں گفتگو کرتے ہوئے۔

کراچی میں پلنے بڑھنے کی وجہ سے میں نے سبطِ حسن کو شہر کے دانشورانہ منظر پر ایک جانی پہچانی شخصیت کے طور پر جانا، مگر میڈیکل کالج میں داخلے کے بعد ہی مجھے اُن کی کتابوں تک رسائی حاصل ہوئی جنہیں طلباء حلقوں میں ذوق و شوق سے پڑھا جاتا تھا، مگر ایک دوسرے کو احتیاط سے دی جاتی تھیں۔

جب ضیاء الحق کی آمریت ملک پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے قوم پرست و دائیں بازو کے گھٹن زدہ نظریات کو فروغ دے رہی تھی، تو اُس وقت یہ کتابیں بہت انمول معلوم ہوتی تھیں۔

میری عمر کے کئی لوگوں کے لیے سبطِ حسن کی کتابوں کو اُس وقت سے علیحدہ کرنا ناممکن ہوگا جب ہمارا اُن سے پہلی بار واسطہ پڑا تھا۔ ویسے تو میں مکمل طور پر اُن کے خیالات اپناتے اپناتے رُک گیا تھا، مگر اب بھی اُن کی یا اُن کے بارے میں نئی کتاب اُٹھاتے ہوئے اپنے اندر ایک مانوس سی سنسنی محسوس کرتا ہوں۔

حسن نے اپنی تمام زندگی نہایت گرمیءِ جذبات کے ساتھ لکھا، اور وہ ایک انتھک لکھاری تھے۔ انہوں نے صحافتی ذمہ داریوں کو ایک کارکن کے تحفظات کے ساتھ متوازن انداز میں نبھایا۔ کتاب ’سبطِ حسن: ادیب اور سماجی عمل‘ میں موجود مضامین، جنہیں ڈاکٹر ایس جعفر احمد نے مرتب اور ایڈٹ کیا ہے، ایک بھرپور زندگی سے ماخوذ ہیں۔ اِس کتاب میں اکٹھا کیے گئے مضامین، جو مختلف اوقات میں مختلف مقاصد کے لیے لکھے گئے، کافی دلچسپ ہیں۔

کچھ مقامات پر ایسا لگتا ہے کہ حسن دوسرے مقامات پر کہی گئی اپنی کسی بات سے مختلف بات کر رہے ہیں؛ کچھ جگہوں پر شدید دل چاہتا ہے کہ کاش وہ یہاں دلیل اور آگے بڑھاتے۔ اِن مضامین میں آپ کو وہ گندھے ہوئے دلائل نہیں ملیں گے جو اُن کی بہترین کتابوں ’ماضی کے مزار‘ اور ’موسیٰ سے مارکس تک‘ میں ہیں، مگر اِن کے انداز کی روانی اور جس بارے میں وہ لکھ رہے ہیں، اِس بارے میں اُن کے خیالات کی شفافیت نہایت حیرت انگیز ہے۔

ڈاکٹر احمد نے اپنے دانشور گرو سبطِ حسن کی بکھری ہوئی اور متفرق تحریروں کو جمع کرکے محفوظ رکھنے کو اپنی زندگی کا عظیم مقصد بنایا ہے؛ یہ اِس طرح کی غیر جمع شدہ تحریروں کا تیسرا مجموعہ ہے جسے اُنہوں نے ایڈٹ کیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی سوچے کہ سبطِ حسن صاحب کی بہترین تحریریں تو پہلے سے دستیاب ہیں، اور اِس لیے یہ کتاب ہماری آراء میں تبدیلی یا اِن میں مزید گہرائی لانے میں کامیاب نہیں ہوگی، مگر حسن بہت وسیع فکر لکھاری تھے اور یہ مجموعہ اِن کے کام کو نئے زاویے فراہم کرتا ہے۔

کتاب دو حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلے حصے میں زیادہ فکری اور تجزیاتی مضامین ہیں، جبکہ دوسرے حصے میں مختلف مصنفین پر کئی مضامین ہیں۔ اردو زبان کی تاریخ پر ایک طویل مضمون کتاب ’اردو کا ابتدائی زمانہ: ادبی تہذیب و تاریخ کا پہلو‘ کے مصنف شمس الرحمان فاروقی کے خیالات سے اتفاق کرتا ہے کہ جسے پہلے ہندی یا ہندوی کہا جاتا تھا، اُسے بعد میں اردو کہا جانے لگا۔

کارل مارکس اور اجنبیت کے حوالے سے اُن کے تصور پر ایک مختصر مضمون ہمارے اندر یہ خواہش پیدا کرتا ہے کہ کاش وہ اِس موضوع پر مزید گہرائی میں گئے ہوتے۔ ایران میں جدید شاعری پر اُن کا مضمون اُن کے اوائلی سالوں میں لکھا گیا جبکہ اب کافی پرانا محسوس ہوتا ہے۔ ایک اور حیرت انگیز مضمون قومی اور علاقائی ثقافت کے درمیان تعلق پر ہے، یہ وہی دلیل ہے جسے اُنہوں نے آگے چل کر پاکستان تشکیل دینے والے خطوں میں ثقافت کے ارتقاء کے متعلق وسعت دی ہے۔ جس مضمون کے عنوان پر اِس کتاب کا نام رکھا گیا ہے، وہ ایک لکھاری کی سماجی ذمہ داریوں کے بارے میں ایک اچھا خلاصہ ہے۔

دوسرا حصہ مولانا حسرت موہانی کے لیے ایک شاندار خراجِ تحسین سے شروع ہوتا ہے۔ حسن اِس بے خوف مولانا سے اپنی پہلی ملاقات یاد کرتے ہیں جب مولانا ایک مقامی نلکے سے پانی بھر رہے تھے۔ حسن مولانا کا ثابت قدم رویہ بتاتے ہیں، جب اُنہوں نے ترقی پسندوں کو اُس چیز کے خلاف بیان دینے پر کھری کھری سنائی تھیں جسے اُس وقت 'فحاشی' تصور کیا جاتا تھا، اور ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ عصمت چغتائی، سعادت حسن منٹو اور میرا جی کے دور میں یہ کس قدر مشکل رہا ہوگا۔

اختر حسین رائے پوری کے لیے اُن کا خراجِ تحسین مختصر اور تعریفی ہے۔ یہ اُن تمام متنازع معاملات سے بچ نکلتا ہے جو سبطِ حسن اور اختر حسین رائے پوری کے درمیان اُٹھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے ڈاکٹر رائے پوری کا اُن کے آخری دنوں میں انٹرویو کیا تھا، تو اُن کے ایک تبصرے پر سبطِ حسن کو شدید غصہ آیا تھا، جنہوں نے مدیر کے نام خط لکھ کر اپنا مؤقف واضح کیا۔ میں حسن کو ایک سخی انسان کے طور پر جانتا تھا جو ہمیشہ اِس طرح کے تنازعات سے بچتے تھے، مگر میری خواہش ہے کہ کاش میں نے کہانی کے دونوں رخ جاننے کے لیے اُن کا بھی انٹرویو کیا ہوتا۔

مخدوم محی الدین کے نام ایک خط اور فیض احمد فیض کی وفات کے صرف چند دن بعد ایک انٹرویو میں اُن کے بارے میں یادگاری تبصرے انمول ہیں، جو کہ سالہا سال کے تعلق کا نتیجہ ہیں، مگر رسول حمزہ توف کی کتاب ’میرا داغستان‘ پر اُن کا تعارفی مضمون ایک ناقابلِ فراموش تحفہ ہے، جو کہ اُسی خوش فطرت توانائی کا مظہر ہے جو کہ کتاب میں بھی موجود ہے۔

اِس طرح کے مجموعات کے بارے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ پہلے چھوٹ چکی دلچسپ تحریریں مل جاتی ہیں۔ میرے لیے مجاز لکھنوی کے بارے میں ایک نہایت مختصر مضمون ایک حیران کن دریافت ہے جسے میں نے پہلی بار پڑھا۔ یہ دلچسپ اِس لیے نہیں ہے کہ یہ ہمیں مجاز کے بارے میں بتاتا ہے (ایسا کچھ بھی نہیں جو ہم پہلے نہیں جانتے تھے) بلکہ اُس وقت مشہور اور اب گمنام ہوچکے شاعر سلام مچھلی شہری کو اُس میں ایک روکھا سا جواب دیا گیا ہے۔ حسن سلام مچھلی شہری کے اِس الزام کو مختصراً رد کرتے ہیں کہ ترقی پسندوں نے اُن کے کام پر اِس لیے توجہ نہیں دی کیوں کہ ترقی پسندوں میں صوبائی عصبیت تھی۔ مچھلی شہری نے ترقی پسند لکھاری راشد جہاں پر الزام لگایا کہ انہوں نے ہی مجاز کو شراب کا راستہ دکھایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چغتائی کو مجاز سے شادی کر لینی چاہیے تھی۔

اپنے بھرپور جواب میں حسن مچھلی شہری سے شکر ادا کرنے کو کہتے ہیں کہ راشد جہاں کو اِن الزامات کا علم نہیں تھا۔ جہاں تک چغتائی کی بات ہے تو انہوں نے پہلے ہی خوش کن مگر سخت تحریر ’ایک شوہر کی خاطر‘ لکھ ڈالی تھی اور وہ اتنی آسانی سے کسی اور کا اُن کے لیے شوہر تلاش کرنا برداشت نہیں کرنے والی تھیں۔

حسن کا مضمون نشاندہی کرتا ہے کہ کس طرح کئی خود ساختہ ترقی پسند لکھاری بھی چغتائی اور جہاں سے الجھن محسوس کرتے تھے۔ میری خواہش ہے کہ کاش حسن نے اِس موضوع پر مزید لکھا ہوتا اور اپنی مزید یادداشتوں کو ریکارڈ کیا ہوتا؛ اُن کی دیگر کتابوں کے علاوہ شہرِ نگاراں، جو حیدرآباد میں اُن کے ابتدائی دنوں کی یادگار ہے، ایک زبردست کتاب ہے، اور اپنے آپ میں ایک پورا دفتر ہے۔

یادگاری مضامین کا مجموعہ ’سبطِ حسن: شخصیت اور فکر‘ ایک ملا جلا پیکج ہے۔ حسن کی دانشورانہ وراثت کو بعد میں آنے والے کئی دانشوروں مثلاً حمزہ علوی، مبارک علی، سحر انصاری، احمد ہمدانی، محمد علی صدیقی و دیگران نے اپنایا۔ جن لوگوں نے زیادہ ذاتی قسم کے خراجِ تحسین پیش کیے ہیں اُن میں کیفی اعظمی، زاہدہ حنا، نور ظہیر، شوکت صدیقی، حسن عابدی اور ڈاکٹر انور احمد شامل ہیں۔ حیرانگی کی بات نہیں کہ سب سے بہترین تحریر خود کتاب کے مدیر کی ہے۔ صفحے کے اختتام پر موجود ایک نوٹ کے مطابق یہ طویل مضمون 1987 میں کراچی کے ایک جریدے ’ریسرچ فورم‘ کے ایک یادگاری شمارے کے لیے لکھا گیا تھا۔ یہ تو حسن کے دانشورانہ سفر کی ایک مکمل سوانح کی بنیاد بن سکتا ہے، اور اسے ڈاکٹر احمد سے بہتر کون تحریر کرسکتا ہے؟

ایک دلچسپ تحریر انتظار حسین کی بھی ہے جو کہ حقیقت میں اخباری تعزیت کے طور پر لکھی گئی تھی۔ میں اُسے اُسی سیاق و سباق میں دوبارہ پڑھنا چاہتا تھا کیوں کہ میں جانتا تھا کہ دونوں کا ایک پرتکلف تعلق تھا مگر نظریاتی اختلافات موجود تھے۔ میں پوشیدہ اور مبہم تعریفیں ڈھونڈ رہا تھا جس کے انتظار حسین ماہر تھے۔ اُن کے مطابق اہم بات یہ نہیں تھی کہ پیش کیا گیا تجزیہ آخری حد تک درست تھا یا نہیں، مگر اہم یہ تھا کہ آیا یہ ہمیں سوال اُٹھانے اور سوچنے پر مجبور کرتا ہے یا نہیں۔ وہ اختتامیے میں کہتے ہیں ’ایک ایسے دور میں جہاں ہم صرف خالی نعروں اور جذباتی ردِ عمل پر جی رہے ہوں، وہاں یہ انمول بات ہے کہ یہ لکھاری ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔‘ یہ سبطِ حسن کو پیش کیا گیا نفیس ترین خراجِ تحسین قرار دیا جاسکتا ہے، مگر یہ بھی بتاتا ہے کہ سبطِ حسن آج بھی ایک اہم شخصیت کیوں ہیں۔

اختتام میں موجود اشعار کافی روایتی ہیں، اور حقیقت میں ایک دو تو حسن کی زندگی اور اُن کے کام کو غیر ضروری طور پر جذباتیت کے پردے میں لپیٹ کر کم اہم کردیتے ہیں۔ اِنہیں آسانی سے نکالا جاسکتا تھا کیوں کہ یہ اِس اہم تجزیہ نگار اور سماجی نقاد کے بارے میں ہماری فہم میں اضافہ نہیں کرتے، جو کام اِن دو نئی اور قابلِ قدر کتابوں نے بخوبی انجام دیا ہے۔

کتاب: سبطِ حسن: ادیب اور سماجی عمل

مرتب و ادارت: ڈاکٹر ایس جعفر احمد

پبلشر: مکتبہءِ دانیال

صفحات: 310

آئی ایس بی این: 9694190792-978


کتاب: سبطِ حسن: شخصیت اور فکر

ادارت: ڈاکٹر ایس جعفر احمد

پبلشر: مکتبہءِ دانیال

صفحات: 344

آئی ایس بی این: 9694190785-978

انگلش میں پڑھیں۔

یہ مضمون ڈان اخبار کے بکس اینڈ آتھرز سیکشن میں 12 نومبر 2017 کو شائع ہوا۔

آصف فرّخی

لکھاری لبرل آرٹس اور اردو پڑھاتے ہیں، اور مصنف اور نقاد ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026