• KHI: Partly Cloudy 25.2°C
  • LHR: Sunny 18.2°C
  • ISB: Sunny 15.2°C
  • KHI: Partly Cloudy 25.2°C
  • LHR: Sunny 18.2°C
  • ISB: Sunny 15.2°C

چینی جنرل کی کرپشن تحقیقات کے پیش نظر خودکشی

شائع November 29, 2017

چین کے صدر شی جن پنگ کی کرپشن کے خلاف مہم کی زد میں آنے والے ایک چینی جنرل نے اپنے خلاف ہونے والے کرپشن کی تفتیش کے پیش نظرخودکشی کرلی۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی ژینہوا کی رپورٹ کے مطابق سینٹرل ملٹری کمیشن کے رکن زینگ یانگ کے خلاف سزا پانے والے سابق فوجی افسران سے تعلق کے حوالے سے تفتیش ہورہی تھے جس کے نتیجے میں انھوں نے دارالحکومت بیجنگ میں واقع اپنے گھر میں خودکشی کر لی۔

خیال رہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے گزشتہ ماہ کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس سے خطاب میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کرپشن کے خلاف کارروائی کریں گے جبکہ 2012 سے اب تک فوج کے سینیئر افسران سمیت اپنی ہی پارٹی کے 15 لاکھ کارکنوں کو کرپشن سزائیں دی جاچکی ہے۔

خودکشی کرنے والے 66 سالہ زینگ اس سے قبل ریاست کے ملٹری کمیشن کے سیاسی شعبے کے سربراہ تھے اور کانگریس سے قبل وہ کمیونسٹ پارٹی کی سینٹرل ملٹری کمیشن کا حصہ تھے۔

چینی خبرایجنسی نے کمیشن کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ 'زینگ نے کھلم کھلا ڈسپلن کی خلاف ورزی کی اور قانون کو توڑا جبکہ ان کے بارے میں رشوت لینے کا شک تھا اور وہ ایسے اثاثوں کے مالک تھے جن کی وضاحت نہیں تھی'۔

فوج کا اخبار روزنامہ پیپلز لیبریشن آرمی میں زینگ کی خودکشی کو 'ذمہ داریوں سے بچنے' کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

اخبار نے زینگ کو دورخی انسان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'اپنے وقت کے اعلیٰ اور نامور جنرل نے اپنی زندگی کا خاتمہ اس برے طریقے سے کردیا اور اپنے منہ سے وفاداری کا راگ الاپنے کے باوجود پیچھے سے کرپشن کرتے رہے'۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'فوج کے پاس بندوق ہے اور ہم کسی کرپٹ عنصر کو اس کے پیچھے چھپنے کی اجازت نہیں دے سکتے'۔

یہ بھی پڑھیں:چینی ساختہ ’انسدادِ کرپشن‘ مہم پاکستان کے لیے کیوں ضروری؟

سرکاری خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ ملٹری کمیشن نے کمیونسٹ پارٹی سے خارج کیے گئے اعلیٰ افسران گیو بوکسیونگ اور زو کائیہو سے تعلق کے شہبے میں زینگ سے 28 اگست کو بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یاد رہے کہ گیو پیپلز لیبریشن آرمی کے سینیئرترین عہدیدار تھے اس قبل وہ کمیشن کے وائس چیئرمین رہے تھے تاہم انھیں کرپشن کے جرم میں 2016 میں عمرقید کی سزا دی گئی تھی۔

دوسری جانب زو کائیہو 2015 میں کنسر کے باعث انتقال کرگئے تھے جبکہ اسی دوران ان کے خلاف کرپشن کی تفتیش کی جارہی تھی۔

شنگھائی نیشنل ڈیفنس اسٹریٹجی انسٹیٹیوٹ کے ایک پروفیسر نی لیکسیونگ کا کہنا تھا کہ زینگ ریاست کے ملٹری کمیشن کے سیاسی شعبے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے انتظامی امور کے انچارج تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وہ طاقت ور تھے اور اپنے 20 سالہ دور میں کتنے اعلیٰ اور چھوٹے افسران کو ان کے عہدوں سے نکال دیا گیا اور مجھے خدشہ ہے کہ اگر تفتیش ہوئی تو ہر سطح کا فوجی افسر متاثر نکلے گا'۔

یاد رہے کہ صدر شی جن پنگ کی جانب سے کرپشن کے خلاف شروع کی جانے والی مہم میں کئی بڑے افسران کے علاوہ اپنی ہی پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں سمیت سینیئر وزرا کو بھی پھانسی دی جاچکی ہے۔

مزید پڑھیں:شی جن پنگ کا نام اور نظریہ کمیونسٹ پارٹی کے آئین میں شامل

شی جن پنگ نے کرپشن کے حوالے سے قانون پر بات کرتے ہوئے گزشتہ ماہ کانگریس میں اعلان کیا تھا کہ پرانے قانون کو جاری نہیں رکھا جائے گا اور اس کی جگہ نیا قانونی طریقہ کار متعارف ہوگا۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کے آئین میں شی جن پنگ کا نام اور نظریہ شامل کرنے کے علاوہ پارٹی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے شی جن پنگ کی مسلح فوج پر مطلق حکمرانی، ان کی خارجہ پالیسی کے مزید فروغ اور ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے نام سے مشہور منصوبے کے بنیادی ڈھانچے کے اقدامات کو آئین میں شامل کیا گیا تھا۔

شی جن پنگ نے 2021 میں پارٹی کی صد سالہ سالگرہ تک چینی معاشرے کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنانے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 7 فروری 2026
کارٹون : 6 فروری 2026