• KHI: Partly Cloudy 22.1°C
  • LHR: Clear 18.6°C
  • ISB: Clear 11.1°C
  • KHI: Partly Cloudy 22.1°C
  • LHR: Clear 18.6°C
  • ISB: Clear 11.1°C

حکومت سے نہیں صرف فوج سے مذاکرات ہوئے، خادم حسین رضوی

شائع November 29, 2017

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی نے انکشاف کیا ہے کہ مظاہرین کو ان کے مطالبات حکومت کی جانب سے پورے کروانے کی یقین دہانی فوج نے کرائی تھی۔

نجی ٹی وی چینل سماء ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ 'ہم نے حکومت سے کہا تھا کہ ہم آپ سے بات نہیں کرسکتے پھر فوج درمیان میں آگئی تھی اور ہمارے رہنماؤں نے فوج اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے افسران سے ملاقات کی تھی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارے تمام مطالبات کو پورا کیا جائے گا'۔

خادم حسین رضوی کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم وزیر داخلہ سے نہیں ملی تھی ’جن کے اس معاہدے پر دستخط ہیں'۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد دھرنا کئی ہفتے بعد ختم، کارواں روانہ

انہوں نے بتایا کہ 'فوج کے افسران نے ہی احسن اقبال سے اس معاہدے پر دستخط کروائے ہوں گے'۔

اسی دوران وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 'معاہدہ بہتر مفاد میں نہیں پیش آیا لیکن حکومت کے پاس اختیارات بہت کم تھے جبکہ ایسی ہی صورت حال اگلے 24 گھنٹے تک رہتی تو فسادات برپا ہوسکتے تھے'۔

خیال رہے کہ ہفتوں تک جاری رہنے والے اس دھرنے نے وفاقی دار الخلافہ کو مفلوج کردیا تھا جس میں کئی لوگوں کی جانیں بھی گئیں تاہم حکومت نے مظاہرین کے آگے گھٹنے ٹیک دیے تھے اور وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا تھا۔

وزیر قانون کا استعفیٰ فیض آباد پر مظاہرین کے خلاف ہفتے کے روز ہونے والے آپریشن کے بعد اتوار کی رات کو کامیاب مذاکرات کے بعد سامنے آیا تھا۔

واضح رہے کہ اس آپریشن کے دوران 6 افراد ہلاک جبکہ ایک سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

معاہدے میں کریک ڈاؤن کے دوران حراست میں لیے گئے تمام مظاہرین کو مقدمات سے استثنیٰ دینا بھی شامل تھا جبکہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چیف ایگزیکٹو کا حکم ماننے کے بجائے آرمی چیف ثالث بن گئے: جسٹس شوکت صدیقی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے فوج کو مذکورہ معاملے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے پر انتہائی سخت ریمارکس دیے تھے۔

جسٹس شوکت صدیقی کا کہنا تھا کہ 'آرمی چیف ملک کے چیف اگزیکٹو کا حکم ماننے کے بجائے ثالث بن گئے ہیں'۔

انہوں براہِ راست فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فوج اپنی آئینی حدود میں رہے کیونکہ اب عدلیہ میں جسٹس منیر کے پیروکار نہیں ہیں اور جن فوجیوں کو سیاست کا شوق ہے وہ حکومت کی دی ہوئی بندوق واپس کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں اور سیاست کا شوق پورا کرلیں۔

کارٹون

کارٹون : 7 فروری 2026
کارٹون : 6 فروری 2026