خلا نورد جب خلا سے اِس زمین کو دیکھتے ہیں تو اُنہیں یہ ایک ’نیلے کرہ‘ کی شکل میں نظر آتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہماری زمین کا 70 فیصد حصہ نیلگوں سمندری پانی سے ڈھکا ہوا ہے اور صرف 30 فیصد رقبہ ایسا ہے جس پر ہم انسان اپنی زندگی بسر کررہے ہیں۔

سمندر اور انسان کا ساتھ بہت پرانا ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہر ملک کو سمندر کا تحفہ ودیعت کیا گیا ہو، اِس حوالے سے ہمارا پیارا ملک پاکستان ایک انفرادی حیثیت رکھتا ہے کہ صرف سمندر ہی نہیں بلکہ اِس کے حصے میں تو یہ سعادت بھی آئی ہے کہ یہاں ساحلوں سے لے کر گلیشیئر تک مختلف النوع کے ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) موجود ہیں۔

پاکستان کے جغرافیے کو اگر دیکھیں تو ہماری سرزمین پر سنہری ریتیلے ساحلوں سے لے کر منجمند برفانی پہاڑی چوٹیوں تک حیات کی رنگا رنگی اور دلکش مناظر بچھے ہوئے ملتے ہیں۔ پاکستان 11 جغرافیائی، 10 زرعی ماحولیاتی اور 9 بڑے ماحولیاتی زون میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ایسے ممالک دنیا میں کم ہی پائے جاتے ہیں جہاں ہر اقسام کے ماحولیاتی نظام موجود ہوں۔

سمندر انسان کے ہمیشہ سے محسن رہے ہیں، یہ صرف خوراک ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ سورج کی شعاعوں کو جذب کرکے، اپنی لہروں کے ذریعے پھیلا کر اُن شعاعوں کی قوت کو تقسیم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان کو زمین پر خوشگوار موسم ملتے ہیں۔

سمندر انسان کے ہمیشہ سے محسن رہے ہیں—تصویر پاکستان فشر فوک فورم
سمندر انسان کے ہمیشہ سے محسن رہے ہیں—تصویر پاکستان فشر فوک فورم

دنیا میں تجارتی لحاظ سے سمندری پانی انتہائی اہمیت رکھتا ہے اور معدنیات کا سب سے بڑا خزانہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ اِس وقت دنیا میں استعمال ہونے والے کیمیائی عنصر میگنیشیم کی سب سے زیادہ مقدار سمندر سے حاصل کی جارہی ہے، تیل اور گیس کے خزانوں کے علاوہ خوراک کے لیے مختلف نوع کی مچھلیاں، جھینگے، کیکڑے اور دیگر جاندار حاصل کیے جاتے ہیں، اور اِن میں سے بہت سے ادویات کی صنعت میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔

ایک جاپانی دانشور کا قول ہے کہ ’جب دنیا کی آبادی بے تحاشا بڑھ چکی ہوگی، زرعی زمینوں پر بلندو بالا عمارتیں اُگ چکی ہوں گی اور خوراک کی کاشت کے لیے زمین نہیں بچے گی تب یہی سمندر ہوگا جو انسانوں کی بھوک مٹائے گا۔‘ ہم اُن خوش نصیب اقوام میں سے ہیں جنہیں سمندر کی صورت قدرتی وسائل کا خزانہ حاصل ہے۔

سمندری پانی دنیا میں تجارتی لحاظ سے اہمیت کی حامل معدنیات کا سب سے بڑا خزانہ تسلیم کیا جاتا ہے—تصویر پاکستان فشر فورم
سمندری پانی دنیا میں تجارتی لحاظ سے اہمیت کی حامل معدنیات کا سب سے بڑا خزانہ تسلیم کیا جاتا ہے—تصویر پاکستان فشر فورم

ہم اُن خوش نصیب اقوام میں سے ہیں جنہیں سمندر کی صورت قدرتی وسائل کا خزانہ حاصل ہے—تصویر پاکستان فشر فوک فورم
ہم اُن خوش نصیب اقوام میں سے ہیں جنہیں سمندر کی صورت قدرتی وسائل کا خزانہ حاصل ہے—تصویر پاکستان فشر فوک فورم

ماہرین کے مطابق یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بحیرہ عرب میں پیداواری شرح دیگر تمام بحیروں سے بہت زیادہ ہے۔ بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کے کوسٹل ایکو سسٹم کے سربراہ طاہر قریشی کے مطابق بحیرہ عرب میں کاربن کی مقدار دیگر سمندروں سے زیادہ ہے اِسی لیے یہاں پیداوار کی بھی فراوانی ہے۔

ہمارا سمندر کتنا مہربان ہے ذرا انداز لگائیے کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ٹیکنیکل ایڈوائزر اور سابق ڈی جی فشریز معظم علی خان کے مطابق پاکستانی سمندر سے 1800 اقسام کی مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں جن میں سے 350 اقسام کی مچھلیوں کی انتہائی کمرشل ویلیو ہے۔ اِس کے علاوہ جھینگوں کی 25 اقسام، لابسٹر کی 4، کیکڑوں کی 6 جبکہ 12 اقسام شیل کی پائی جاتی ہیں۔ گزشتہ برس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سمندری خوراک کی برآمد سے 3 ارب 2 کروڑ 40 لاکھ امریکی ڈالرز حاصل کیے۔

پاکستان میں 1800 اقسام کی مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں—تصویر پاکستان فشر فوک فورم
پاکستان میں 1800 اقسام کی مچھلیاں پکڑی جاتی ہیں—تصویر پاکستان فشر فوک فورم

پاکستان میں جھینگوں کی 25 اقسام پائی جاتی ہیں—تصویر پاکستان فشر فوک فورم
پاکستان میں جھینگوں کی 25 اقسام پائی جاتی ہیں—تصویر پاکستان فشر فوک فورم

پاکستان کے زرعی شعبے کا حصہ جی ڈی پی میں 22 فیصد کے قریب ہے جس میں ایک فیصد حصہ ماہی گیری کے شعبے کا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی سمندر سے پکڑی جانے والی مچھلی کی مقدار ساڑھے 6 لاکھ ٹن سالانہ ہے, جبکہ ہماری ماہی گیری کی صنعت سے اندازاً 40 لاکھ لوگ وابستہ ہیں۔ یہاں تک تو سب اچھا ہے، مگر ایک دوسرا رخ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ سمندر سے حاصل کردہ تمام فوائد کے بدلے میں سمندر کے ساتھ ہمارا سلوک کافی بدتر ہے۔

پچھلے چند روز سے ہمارا سمندر خبروں کی زد میں رہا کہ یہاں ستمبر میں بلیو وہیل اور اب نومبر کے آخری ہفتے میں شارک وہیل دیکھی گئی۔ خبروں کی نوعیت سے لوگوں کو کچھ ایسا محسوس ہوا کہ شاید ہمارے سمندر میں کوئی مثبت تبدیلی رونما ہوئی ہے جو یہ مچھلیاں یہاں آرہی ہیں لیکن معظم صاحب کے مطابق ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اِن مچھلیوں کا یہاں آنا معمول کی بات ہے، پہلے ایسے مناظر ریکارڈ کرنے کی صلاحیتیں محدود تھیں، مگر اب ہر ہاتھ میں موبائل کی شکل میں کیمرہ موجود ہے اِس لیے یہ واقعے ریکارڈ پر آرہے ہیں۔

سمندر سے حاصل کردہ تمام فوائد کے بدلے میں سمندر کے ساتھ ہمارا سلوک کافی بدتر ہے—پاکستان فشر فوک فورم
سمندر سے حاصل کردہ تمام فوائد کے بدلے میں سمندر کے ساتھ ہمارا سلوک کافی بدتر ہے—پاکستان فشر فوک فورم

ایک اور تلخ بات یہ ہے کہ ہمارے سمندروں میں کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم اپنے سمندروں سے کچھ زیادہ اچھا سلوک نہیں کررہے۔ سمندری وسائل پر بہت زیادہ دباؤ ہے۔ 16 ہزار کشتیاں مچھلی اور جھینگوں کا شکار کرتی ہیں وہ بھی من چاہے جالوں سے جس میں بدنام زمانہ ’قطرہ‘ اور ’بھولو گجو‘ بھی شامل ہیں۔ اِن جالوں پر پابندی ہے لیکن مچھیرے پروا نہیں کرتے۔ اِس کے علاوہ کھلے سمندر میں بڑے ٹرالرز جدید آلات کی مدد سے چھوٹی چھوٹی مچھلیاں تک پکڑ لیتے ہیں جس کی وجہ سے مچھلیوں کی افزائش بُری طرح متاثر ہوتی ہے۔

قطرہ اور بھولو گجو جیسے نقصان دہ جالوں سے مچھلی کا شکار کرنے سے مچھلیوں کی افزائش بُری طرح متاثر ہوئی ہے
قطرہ اور بھولو گجو جیسے نقصان دہ جالوں سے مچھلی کا شکار کرنے سے مچھلیوں کی افزائش بُری طرح متاثر ہوئی ہے

معظم صاحب کا یہ بھی کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کئی مہینوں تک سمندری جانداروں کے شکار پر پابندی عائد ہوتی ہے، خلیج فارس میں صرف 2 مہینے شکار کی اجازت ہے اور 10 ماہ پابندی ہے تاکہ سمندری وسائل متوازن رہ سکیں، مگر ہمارے یہاں معاملہ یکسر مختلف ہے، یہاں صرف 2 مہینے پابندی ہے اور اُس میں بھی چوری چھپے شکار چلتا رہتا ہے۔ ہر وسیلے کی ایک حد ہوتی ہے، ہمیں صورت حال بہتر کرنے کے لیے نہ صرف پابندی کی حد بڑھانی ہوگی بلکہ شکار کی کشتیوں کی تعداد کو بھی کم کرنا ہوگی۔

ساتھ ہی جاری کیے گئے لائسنسز کی تعداد کم کرنا ہوگی۔ حکومت نئی کشتیوں پر پابندی لگاسکتی ہے لیکن پھر اعتراض ہوتا ہے کہ کشتی بنانے والے کاریگر بے روزگار ہوجائیں گے۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ اِس حوالے سے قاعدے اور قوانین بنائے جائیں۔ نئی کشتی لینے والا پرانی کشتی کا لائسنس واپس کرے۔ عموماً مچھیروں کی اکثریت غریب ہوتی ہے لیکن سب نہیں۔

واقفان حال کا کہنا ہے کہ مسئلہ دراصل ’مس مینیجنگ آف منی‘ کا ہے۔ پیسوں کو بے تکے انداز میں خرچ کرتے ہیں، اور اکثر اِسی وجہ سے مقروض ہوجاتے ہیں۔ اِس حوالے سے جب ایک سروے کیا گیا تو اُس کے نتائج بڑے دلچسپ تھے۔ اکثر مقروض مچھیروں نے قرض دوسری یا تیسری شادی کے لیے لیا ہوا تھا۔

حیاتیاتی تحفظ کا عالمی قانون، دی کنوینشن آن بائیولوجیکل ڈائیور سٹی (سی بی ڈی)، جس کا قیام 1993 میں عمل میں آیا، کے تحت سمندری وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے توثیق کردہ ہر ملک کو اپنے سمندر کے 10 فیصد حصے کو محفوظ علاقہ قرار دینا ہوگا۔ اِس قانون کے تحت ہم پر بھی لاگو ہے کہ ہم اپنے سمندر کے 10 فیصد حصے کو محفوظ علاقہ قرار دیں۔

ابھی تک ہم نے صرف جزیرہ ہفت تلہار جسے اسٹولا آئی لینڈ بھی کہا جاتا ہے کو محفوظ علاقہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بلوچستان کی رامسر سائٹ میانی ہور اور چرنا جزیرے اور اُس کے اردگرد کے علاقے کو بھی محفوط قرار دیا جائے تاکہ وہاں پائی جانے والی حیاتیاتی تنوع کو محفوظ کیا جاسکے۔

مچھلیوں کے شکار کے لیے اِن ممنوعہ جالوں کا استعمال جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہ سمندری وسائل خواب و خیال بن جائیں گے—تصویر پاکستان فشر فوک فورم
مچھلیوں کے شکار کے لیے اِن ممنوعہ جالوں کا استعمال جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہ سمندری وسائل خواب و خیال بن جائیں گے—تصویر پاکستان فشر فوک فورم

چرنا جزیرے کے اردگرد مونگے اور مرجان کی کمیاب چٹانوں کے علاوہ دیگر سمندری حیات کی بھی فراوانی ہے۔ یہاں تفریحی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں جس سے یہاں موجود حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اِس کے علاوہ دریائے سندھ کا پانی جس جگہ سمندر میں داخل ہوتا ہے وہ علاقہ بھی حیاتیاتی تنوع سے مالامال ہے، یہ علاقہ ڈولفن اور شارک کے لیے جنت ہے، اِس لیے اِسے بھی محفوظ علاقہ قرار دیا جائے۔ اِس طرح اِس کنوینشن کے تحت لازمی قرار دیا جانے والے 10 فیصد محفوظ سمندری علاقے کی شق پر بھی عمل درآمد ہوجائے گا۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف، آئی یو سی این اور کئی دیگر این جی اوز، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ اور حکومتِ بلوچستان مل کر کوشش کررہے ہیں کہ اِن سمندری علاقوں کو محفوظ قرار دیا جاسکے۔

مچھیروں کے حوالے سے کام کرنے والی ایک تنظیم فشر فوک فورم سے وابستہ کمال شاہ کا کہنا ہے کہ سمندری وسائل کے استحصال میں خود مچھیرے (جن کی بقا کا آخری ذریعہ یہی وسائل ہیں) پوری طرح شریک ہیں۔ حکومت نے اگرچہ قطرہ، بھولو گجو جال کے استعمال پر پابندی لگادی ہے لیکن اِس کے باوجود اِن جالوں کا استعمال کھلے عام ہورہا ہے۔ صرف اگر کراچی کے ساحل کا جائزہ لیا جائے تو یہاں موجود 22 کھاڑیوں میں سے 17 کھاڑیوں میں اِن غیر قانونی جال کا استعمال ہورہا ہے۔

سندھ کے ساحلوں پر مختلف مقامات پر ہزاروں ماہی گیر اِن جالوں کا استعمال کررہے ہیں۔ یہ بھولو گجو جال کشتیوں سے 24 گھنٹے بندھا رہتا ہے اور سمندر میں کسی جھاڑو کی طرح کام کرتا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی مچھلی سمیٹ لاتا ہے۔ کمال شاہ کا کہنا ہے کہ ماہی گیر جانتے ہیں کہ یہ جال کتنے نقصان دہ ہیں لیکن وہ لالچ میں اندھے ہورہے ہیں اور نہیں جانتے کہ وہ اپنا ہی مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر مچھلیوں کے شکار کے لیے اِن ممنوعہ جالوں کا استعمال جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہ سمندری وسائل خواب و خیال بن جائیں گے۔ ماہرین کے مطابق 2045 تک یہاں سے مچھلیوں کی بہت سی انواع اور جھینگوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا۔

حکومت کُھلی آنکھوں سے یہ سب تماشا دیکھ رہی ہے لیکن صورت حال کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کررہی ہے۔ اگر تو ہمیں یہ اندوہناک مستقبل منظور ہے تو پھر خاموشی برقرار بھی رہے تو مسئلہ نہیں، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہماری یہ صنعت، روزگار کا بہترین ذریعہ اور سب سے بڑھ کر یہ قدرتی حسن برقرار رہے تو پھر حکومت کو خاموشی توڑنی ہونی۔ قاعدے اور قوانین بھی بنانے ہوں گے اور اُن پر عمل درآمد بھی کروانا ہوگا۔