خیبرپختونخوا کے ایک ہزار اسکول بند کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 11 دسمبر 2017

پشاور: خیبر پختونخوا کے سیکنڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے صوبے میں داخلوں میں کمی کی وجہ سے تقریباً ایک ہزار اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ داخلوں میں کمی کی وجہ طلبہ کی جانب سے قریبی اسکولوں میں داخلے لینے کا زیادہ رجحان ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ یہ اسکول گزشتہ حکومتوں کی جانب سے ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کے لیے نامناسب اور دشوار گزار علاقوں میں بنائے گئے تھے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ صوبے میں اتنی بڑی تعداد میں سرکاری اسکولوں کے بند ہونے کے بعد صوبے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجود حکومت بھی گزشتہ حکومتوں کی طرح اپنے حکمرانوں کی ایما پر اسی طرح اسکولوں کی تعمیر کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں: پشاور: نجی اسکول پرنسپل کا خواتین کے جنسی استحصال کا اعتراف

تاہم ایک سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں بے بس ہیں اور ان کے پاس اسکولوں کی تعمیر کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں جبکہ صرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کے احکامات کی پیروی کر سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اراکینِ اسمبلی کو مطمئن کرنے کے لیے ان کے حلقوں میں اسکولوں کی تعمیر کی اجازت دے رہے ہیں۔

سرکاری اہلکار کا کہنا تھا کہ ہر سال صوبائی اسمبلی کی جانب سے پاس کیے جانے والے بجٹ میں اسکولوں کی تعمیر کے لیے بھی بجٹ مختص کیا جاتا ہے تاہم وزیراعلیٰ کی ہدایت پر محمکہ تعلیم کی جانب سے ان کی تعمیر کی جاتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے پیش کردہ آراء کو بھی اکثر مسترد کردیا جاتا ہے اور اسکولوں کی تعمیر ایسے علاقوں میں کی جاتی ہیں جہاں وزیراعلیٰ اور اراکینِ اسمبلی چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دہشت گردوں کے 6 سال میں 35 سے زائد تعلیمی اداروں پر حملے

ایک ضلعی ایجوکیشن آفسر نے بتایا کہ ایسے اسکول جہاں بچوں کے داخلے کی 40 سے کم تھے انہیں بند کر دیا گیا ہے اور ایسے اسکولوں کی زیادہ تر تعداد دیہی علاقوں میں ہے۔

جن اسکولوں کو بند کیا گیا ہے ان میں سے 45 پشاور، 100 مانسہرا، 65 ایبٹ آباد، 60 بنوں، 90 بٹگرام، 87 کوہستان، 58 چارسدہ، 55 چترال، 60 مردان، 60 ہری پور، 55 صوابی، 60 لکی مروت، 12 ڈیرہ اسماعیل خان، 15 مالاکنڈ، 10 سوات، 10 ٹانک، 7 ٹوگھر اور 4 نوشہرہ میں قائم ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان مذکورہ اسکولوں کو گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران ہی تعمیر کیا گیا اور یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ان اسکولوں میں داخلوں کی تعداد 40 سے بھی کم بتائی جارہی ہے تو جب وہاں ان اسکولوں کو تعمیر کیا گیا تو اس وقت وہاں طالبِ علموں کی تعداد کتنی ہوگی؟

اسکولوں کی تعمیر کے طریقہ کار کے مطابق ایک پرائمری اسکول ایسی جگہ پر قائم کیا جاتا ہے جہاں پر آبادی ایک ہزار سے زائد ہو جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ اسکول میں کم از کم 160 بچوں کا داخلہ کرائیں گے جبکہ ایک اسکول سے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے تک دوسرا اسکول قائم نہیں ہو سکتا۔

مزید دیکھیں: ڈاکوؤں نے اسکول جانے والی لڑکی کو لوٹ لیا

ذرائع کا کہنا کہ گزشتہ حکومتوں کے دوران اسکولوں کی تعمیر کے لیے اس طریقہ کار کی پیروی نہیں کی گئی جبکہ صرف وزیراعلیٰ اور اراکینِ اسمبلی کے احکامات کی تعمیل کی گئی۔

تاہم ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ایک اہلکار کا اس معاملے میں کہنا تھا کہ محمکہ اسکولوں کی تعمیر کے طریقہ کار کی پیروی کرتے ہوئے نئی تعمیرات کو مسترد کردیتا ہے تو انہیں اگلے ہی روز وزیر اعلیٰ کی جانب سے ایک ہدایت نامہ موصول ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ ’طریقہ کار میں نرمی‘ کی جاسکتی ہے۔

جب محکمہ تعلیم کی ایک افسر سے سوال کیا گیا کہ اب حکومت ان اسکولوں کی خالی عمارتوں کا کیا کرے گی تو ان کا کہنا تھا کہ عمارتوں کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا جبکہ ان کے حوالے سے کئی تجاویز موصول ہوچکی ہیں۔


یہ خبر 11 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (0) بند ہیں