اسلام آباد: وفاقی حکومت نے رویت ہلال کمیٹی کی قانون سازی کے لیے تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور مجوزہ بل میں چاند کا نجی اعلان کرنے والے کے لیے ایک سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

مجوزہ بل کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی وفاق کے زیر کنٹرول ہوگی، کمیٹی چیئرمین اور ممبران سمیت 15 رکنی ہوگی جس میں ہر صوبے سے دو علماء اور آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، فاٹا اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا ایک، ایک رکن شامل ہوگا۔

مرکزی کمیٹی میں محکمہ موسمیات، اسپارکو اور وزارت مذہبی امور سے بھی ایک، ایک نمائندہ شامل ہوگا۔

صوبائی کمیٹیاں چیئرمین سمیت 12 ارکان پر مشتمل ہوں گی، جبکہ اسلام آباد کے لیے چیئرمین اور اوقاف کے رکن سمیت 7 ارکان پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

ضلعی سطح پر کمیٹی کا چیئرمین متعلقہ ڈی سی آو ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: چاند کی عمر کتنی ہے؟

مجوزہ بل کے مطابق وفاقی و صوبائی کمیٹیوں کی مدت 3 سال ہوگی۔

مرکزی روہت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کی تقرری وفاقی حکومت کرے گی اور کمیٹی کا چیئرمین ہر تین سال بعد باری باری ہر صوبے سے لیا جائے گا، جبکہ چیئرمین کو ہٹانے کی مجاز وفاقی حکومت یا کمیٹی کی دو تہائی اکثریت ہوگی۔

مجوزہ ’پاکستان رویت ہلال ایکٹ 2017‘ کے بل کے مطابق چاند کی شہادت شرعی طریقہ کار کے مطابق لی جائے گی اور کسی نجی کمیٹی کو چاند دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

بل میں قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے سزا بھی تجویز کی گئی ہے اور قانون شکنی پر 6 ماہ قید، 50 ہزار جرمانہ یا دونوں عائد ہوں گے۔

چاند کا اعلان کمیٹی سے قبل کرنے پر ٹی وی چینلز پر 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوگا، جبکہ چاند کا نجی اعلان کرنے والے کو ایک سال جیل کی سزا ہوگی۔

مزید پڑھیں: رویتِ ہلال کے تنازع کا حل کیا ہے؟

اسی طرح چاند کی غلط شہادت دینے والے کو 6 ماہ قید، 50 ہزار جرمانہ یا دونوں عائد ہوں گے۔

وزارت مذہبی امور نے بل کی منظوری کے لیے سمری وفاقی کابینہ کو ارسال کردی ہے۔

کابینہ سے منظوری کے بعد ’پاکستان رویت ہلال ایکٹ 2017‘ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں