صوبائی حکومت عزیر بلوچ، بلدیہ فیکٹری رپورٹس منظر عام پر لانے کی مخالف

اپ ڈیٹ 13 دسمبر 2017

ای میل

صوبہ سندھ کی وزارتِ داخلہ نے لیاری گینگ وار کے مرکزی ملزم عزیر جان بلوچ کے اعترافی بیان اور کراچی کی بلدیہ فیکٹری سانحے کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ منظر عام پر لانے کے حوالے سے اپنا جواب سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرادیا جس میں انہوں نے ان رپورٹس کو منظر عام پر لانے کی مخالفت کردی۔

صوبائی وزارت داخلہ کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کو آگاہ کیا گیا کہ ان رپورٹس کو منظر عام پر لانے کی ضرورت نہیں اور یہ رپورٹس پہلے ہی ٹرائل کورٹ میں جمع کرائی جا چکی ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے رہنما سید علی زیدی کی جانب سے چیف سیکریٹری کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔

تحریک انصاف کے رہنما کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ چیف سیکریٹری سندھ انہیں بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں لگنے والی آگ اور عزیر بلوچ کے اعترافی کے بیان کے حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ فراہم نہیں کر رہے۔

مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ ٹاؤن کے مرکزی ملزم حماد صدیقی پاکستان کے حوالے

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے 2011 میں شفافیت اور حق اطلاعات قانون نافذ کیا تھا جس کے مطابق صوبے کے تمام شہریوں کو معلومات حاصل کرنے کا حق ہے۔

صوبائی وزارتِ داخلہ کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کرایا گیا جس میں کہا گیا کہ مذکورہ مقدمات کی جے آئی ٹی رپورٹ منظر عام پر لانے کے بعد ان کیسز کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو پہلے ہی ٹرائل کورٹ میں زیر التوا ہیں۔

جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان کیسز کی جے آئی ٹی رپورٹ مجرموں کے خلاف بطور شواہد استعمال کی جائیں گی۔

پی ٹی آئی رہنما نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ انہوں نے کئی مرتبہ چیف سیکریٹری سے بلدیہ ٹاؤن کی فیکٹری میں لگنے والی آگ، لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے مبینہ جرائم اور فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے چیئرمین نثار مورائی کے خلاف کیسز کے حوالے سے جے آئی ٹی رپورٹ کی نقول فراہم کرنے کی استدعا کی جو انہیں اب تک موصول نہیں ہوسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: عزیر بلوچ کے سنسنی خیز انکشافات

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القران سیکریٹریٹ کے باہر مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والے تصادم کے حوالے سے جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا حکم دے کر تحقیقاتی رپورٹس کو شائع کرنے کی مثال قائم کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ مجرم انصاف سے مبرا نہ ہو سکے، جے آئی ٹی رپورٹ کی اشاعت انتہائی ضروری ہے۔

علی زیدی نے اپنی درخواست میں سندھ ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ معزز عدالت آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 19 اے کے تحت متعلقہ حکام کو تحقیقاتی رپورٹس منظر عام پر لانے کی ہدایت دے۔

تاہم صوبائی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جواب جمع کرانے کے بعد عدالت عالیہ نے اس کیس کی سماعت ملتوی کردی جبکہ آئندہ سماعت کے لیے تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔


یہ خبر 13 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی