صحافی افضل خان طویل علالت کے بعد امریکا میں انتقال کرگئے

15 دسمبر 2017

ای میل

واشنگٹن: پاکستان کے تجربہ کار صحافی افضل خان طویل عرصہ علیل رہنے کے بعد گذشتہ روز 80 برس کی عمر میں امریکی ریاست ورجینیا کے علاقے آرلنگٹن میں انتقال کرگئے۔

افضل خان 1937 میں سیالکوٹ کے قریب نوشہرہ کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے اور گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن مکمل کی جبکہ وہ 35 سال سے زائد عرصے تک سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) سے منسلک رہے۔

انہوں نے 1995 سے 2005 تک واشنگٹن میں اے پی پی کے نمائندے کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

اس کے علاوہ افضل خان صاحب عرب نیوز، خلیج ٹائمز، ڈان، دی نیشن، پاکستان ٹائمز اور ہندوستان ٹائمز کے لیے کالمز اور نیوز فیچز بھی لکھا کرتے تھے۔

ان کا شمار پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) کے بانیوں میں ہوتا ہے اور انہوں نے جنرل ضیا الحق کے دور میں آزادی صحافت کی جدوجہد میں اہم کردار بھی ادا کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ہمدرد نونہال کے مدیر مسعود برکاتی انتقال کرگئے

افضل خان نے اپنی تحریروں کے ذریعے مذہبی رواداری، سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کو فروغ دیا جبکہ جمہوریت کی جدوجہد میں ان کے کردار کا وسیع پیمانے پر احترام کیا جاتا ہے۔

افضل خان کا تعلق صحافیوں کی اس نسل سے تھا، جنہوں نے صحافت کو ایک مقصد سمجھا اور اپنی ساری زندگی وقف کردی۔

مرحوم کے اہل خانہ نے خواہش ظاہر کی ہے کہ افضل خان کی تدفین پاکستان میں کی جائے تاہم ورجینیا میں بھی ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے لیے جگہ اور وقت کا انتخاب بعد میں کیا جائے گا۔

سینئر صحافی کے انتقال پر پاکستانی سفارتکار اعزاز احمد چوہدری نے افضل خان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ 1999 میں سفارت خانے میں اپنی گزشتہ مدت کے دوران مرحوم سے کافی وابستگی رہی تھی اور ان کے انتقال کا سن کر شدید دکھ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ افضل خان ایک کامیاب صحافی تھے اور انہوں نے اپنے ملک کے لیے خدمات انجام دی، انہیں ہمیشہ ایک ایماندار اور بے باک صحافی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے مرحوم کی وفات پر دعائے مغفرت کی اور کہا کہ اللہ سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

دی پاکستانی امریکن پریس ایسوسی ایشن نے مرحوم کی وفات پر اظہار افسوس کیا، اپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ افضل خان ایک زبردست شخصیت کے مالک تھے اور انہوں نے دیگر صحافیوں کے لیے ایک شاندار مثال قائم کی۔


یہ خبر 15 دسمبر 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی