او جی ڈی سی ایل کے 170 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ہونے کا انکشاف

19 دسمبر 2017

ای میل

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) میں 170 ملازمین اور افسران کے جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

خورشید شاہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں وزارت پیٹرولیم کی آڈٹ رپورٹ 17-2016 زیر غور آئی۔

آڈٹ حکام نے رپورٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ’او جی ڈی سی ایل‘ کے ان 170 ملازمین میں سے 5 کو تمام مراعات کے ساتھ جبری ریٹائرمنٹ دے دی گئی، 18 کی تنزلی کی گئی جبکہ 80 ملازمین عدالت میں کیسز کا سامنا کر رہے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ او جی ڈی سی ایل کے 15 ہزار ملازمین کی تصدیق کی گئی۔

کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر بعض ملازمین نے تعلیمی سرٹیفکیٹ میں ٹیمپرنگ کی جن میں تاریخ پیدائش، ڈویژن یا گریڈ میں تبدلی کی گئی۔

کمیٹی چیئرمین نے یہ کہہ کر ملازمین کی جعلی ڈگریوں کا معاملہ نمٹانے کی کوشش کی کہ ’ملازمت پیشہ لوگوں کے پیچھے کیوں پڑتے ہوئے۔‘

یہ بھی پڑھیں: او جی ڈی سی ایل کے تربیتی مراکز بند ہونے سے طلبہ پریشان

آڈٹ حکام نے خورشید شاہ کے موقف کی مخالفت کی جس پر کمیٹی چیئرمین اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے۔

آڈیٹر جنرل کا کہنا تھا کہ ’دیگر اداروں میں اس فیصلے کا غلط پیغام جائے گا۔‘

کمیٹی رکن سردار عاشق گوپانگ کا معاملے پر کہنا تھا کہ ’ان لوگوں کے خلاف کریمنل مقدمات ہونے چاہیئیں۔‘

وزارت پیٹرولیم کی آڈٹ رپورٹ میں سی این جی اسٹیشنز کے سالانہ معائنہ کی مد میں 37 کروڑ روپے کے نقصان کا بھی انکشاف ہوا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ اوگرا کے اختیارات سے تجاوز کے باعث یہ نقصان ہوا، قانون کے تحت معائنے کا اختیار ہائیڈروکاربن ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان (ایچ ڈی آئی پی) کے پاس تھا، اوگرا نے 3 ہزار 330 سی این جی اسٹیشنز میں سے 25 سے 50 فیصد کا معائنہ کروایا۔

کمیٹی کے رکن شیخ رشید احمد نے سوال کیا کہ ملک میں کتنے سی این جی اسٹیشنز بند ہوئے؟

سیکریٹری توانائی نے جواب دیا کہ اس وقت اعداد و شمار دستیاب نہیں، ریکارڈ دیکھ کر بتا سکتے ہیں۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پہلے حکومت نے سی این جی سیکٹر کو فروغ دیا بعد میں ہاتھ اٹھا لیا، لوگوں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جو ڈوب گئی۔

کمیٹی نے حکومت سے سی این جی سیکٹر کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا۔

مزید پڑھیں: ’پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بد عنوانی کے خاتمے میں بے بس‘

آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے تجارتی قرضے 90 ارب سے تجاوز کر گئے ہیں۔

سیکریٹری توانائی نے کہا کہ کے الیکٹرک، اسٹیل مل اور ڈیفنس ہاؤسن اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے ذمہ اربوں کے واجبات ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ ملک کا گردشی قرضہ پھر 500 ارب تک پہنچ گیا ہے، نئی آنے والی حکومت کو پھر گردشی قرضے کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔

کمیٹی نے سوئی سدرن گیس کمپنی کے قرضوں کی 15 دن میں انکوائری کی ہدایت کردی۔