بھارت: اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود طلاق بل لوک سبھا سے منظور

اپ ڈیٹ 29 دسمبر 2017

ای میل

کانگریس نے بل کی مخالفت کی—فوٹو: انڈیا ٹو ڈے
کانگریس نے بل کی مخالفت کی—فوٹو: انڈیا ٹو ڈے

بھارت کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا نے اپوزیشن کی سخت مخالفت کے باوجود بیک وقت تین طلاقوں سے متعلق متنازع بل پاس کرلیا۔

ایوان زیریں سے منظوری کے بعد اب اس بل کو ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں آئندہ ہفتے پیش کیے جانے کا امکان ہے، جہاں ممکنہ طور پر حکومت کو مشکلات درپیش ہوں گی۔

لوک سبھا کے مقابلے میں راجیہ سبھا میں حکومتی ارکان کی تعداد کم ہے، جس وجہ سے وہاں بل پر کافی ہنگامے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

لوک سبھا سے پاس کیے گئے بل میں پہلی مرتبہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینے کو سنگین جرم کے زمرے میں ڈالا گیا ہے، جس کے باعث نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس بھی احتجاج کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: طلاق کے معاملے پر نئی قانون سازی کا آغاز

این ڈی ٹی وی کے مطابق بل میں بیوی کو ایک ہی وقت میں 3 طلاقیں دینے والے شوہر کو 3 سال تک قید و جرمانے کی سزا تجویز کی گئی۔

اپوزیشن کے احتجاج اور پارٹیوں کے واک آؤٹ کے باوجود حکومت نے بل منظور کرالیا۔

بل میں متاثرہ خاتون کے لیے نان نفقہ کے بندوبست کی تجاویز بھی دی گئی ہیں، جب کہ خاتون کو کمسن بچوں کی تحویل کا حق بھی حاصل ہوگا۔

نیوز 18 کے مطابق لوک سبھا میں کانگریس ارکان نے کہا کہ بل کو پاس کرنے سے قبل غور کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی میں بھیجا جائے، تاہم ان کی تجویز مسترد کردی گئی۔

بل کی مخالفت کرتے ہوئے کانگریس کی خاتون رکن سشمیتا دیو نے کہا کہ شوہر کی جانب سے ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دیئے جانے کو سنگین جرم قرار دینے سے صلح کا کوئی آپشن نہیں بچے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت بل کی آڑ میں خواتین کو خودمختار بنانے کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: ’بیک وقت تین طلاقیں خواتین کے حقوق کے خلاف‘

علاوہ ازیں مسلم لا بورڈ نے بھی بل کی مخالفت کی تھی، لیکن اس کے باوجود وزیر قانون روی شنکر پرساد کی جانب سے پیش کیے گئے بل کو لوک سبھا سے پاس کرلیا گیا۔

خیال رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی حکومت کو ہدایت کر رکھی تھی کہ تین طلاقوں کے معاملے پر قانون سازی کی جائے۔

اگرچہ اسلامی تنظیموں کا بھی خیال ہے کہ مردوں کی جانب سے خواتین کو بیک وقت تین طلاق دینا بہت بڑا مسئلہ ہے، مگر اس کے لیے قانون میں تبدیلی قابل قبول نہیں، البتہ ایسا کرنے والوں کے لیے سزائیں مقرر کی جاسکتی ہیں۔

اسلامی تنظیموں کو خدشہ ہے کہ انتہاپسند ہندو اپنی مرضی کے مطابق طلاق کے قانون میں تبدیلی کرکے معاملے کو مزید الجھا دیں گے۔