امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز ٹوئٹ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر ترکی نے پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کردیا۔

ترک صدر رجب طیب اردگان نے اپنے پاکستانی ہم منصب ممنون حسین کو ٹیلی فون کیا اور کسی بھی صورتحال میں اپنے مکمل تعاون اور حمایت کا یقین دلایا۔

ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق ترک صدر نے کہا کہ پاکستان کی شاندار قربانیوں کے باوجود امریکی صدر کا طرز عمل ناپسندیدہ ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں تاریخی اور شاندار ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا نے پاکستان کیلئے 25 کروڑ ڈالر سے زائد عسکری امداد روک دی

انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا ٹوئٹ ناپسندیدہ جبکہ پاکستان کی قربانیاں باوقار ہیں۔

اس موقع پر صدر ممنون حسین نے ترک صدر کی جانب سے اظہار یکجہتی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترک بھائیوں کی محبت کا ہمیں پہلے بھی احساس ہے اور اس محبت بھرے پیغام پر ہم فخر محسوس کرتے ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور وہ امریکا کے الزامات کا مناسب جواب دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان تعاون کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے لیکن اس کے جذبات کی قدر نہیں کی گئی۔

اس موقع پر دونوں صدور نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ترکی برادر ممالک ہیں اور ہمیشہ ہر طرح کی صورتحال میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل چین نے بھی پاکستان کی حمایت میں بیان دیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے لیے بے پناہ تعاون کیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال کے آغاز پر اپنے پہلے ٹوئٹ میں پاکستان پر الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات میں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ’پاکستان دہشت گردوں کو مبینہ طور پر محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے جہاں سے دہشت گرد افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کو نشانہ بناتے ہیں، لیکن اب ایسا نہیں چلے گا۔‘

بگڑتے تعلقات

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے حالیہ قومی سلامتی پالیسی کے اعلان کے بعد اسلام آباد اور واشنگٹن میں تعلقات خراب ہوئے تھے، جس میں امریکی صدر کے ٹوئٹ کے بعد مزید بگاڑ پیدا ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، امریکا کی مدد کرنے کا پابند ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

اپنے اعلان کے دوران امریکی صدر نے پاکستان کو یاد دہانی کرائی تھی کہ وہ امریکا کی مدد کرنے کا ذمہ دار ہے کیونکہ وہ ہر سال واشنگٹن سے بڑی تعداد میں رقم وصول کرتا ہے۔

امریکی صدر نے واضح کیا تھا کہ جب ہم شراکت داری کو جاری رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں پاکستان کی حدود سے چلنے والے دہشت گرد گروپوں کو خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنا ہوگی اور ہم ہر سال مدد کے لیے پاکستان کو بڑی رقم دیتے ہیں۔