پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کی جانب سے ننھی بچی زینب کے ظالمانہ قتل کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کا مطالبہ کردیا۔

اس حوالے سے سینیٹ سیکریٹریٹ میں تحریک انصاف کے پارلیمانی رہنما اعظم سواتی کی جانب سے تحریک التوا بھی جمع کرائی گئی جبکہ پی ٹی آئی کے شبلی فراز ، نعمان وزیر خٹک، محسن عزیز اور لیاقت خان ترکئی نے اس پر دستخط کیے۔

تحریک التوا میں کہا گیا کہ زینب کے ظالمانہ قتل سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا تشخص مجروح ہوا ہے اور عوام صوبے کے حکمرانوں سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: زینب قتل کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ تبدیل

تحریک التوا میں کہا گیا سینیٹ میں معمول کی کارروائی روک کر اس اہم ترین معاملے پر بحث کی جائے اور مجرموں کو سرعام عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ ان جرائم میں ملوث افراد کو ایک واضح پیغام پہنچ سکے۔

دریں اثناء تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ قصور میں پیش آنے والا واقعہ شرمناک ہے، چند مہینوں میں 12 بچیوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات ہوئے اور انہیں قتل کیا گیا۔

پشاور میں ایک تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان 19 سال سے پنجاب میں حکومت کر رہے ہیں اور آج پنجاب میں پولیس کا براحال ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہے پنجاب بھر میں صرف میٹرو کریسی کا راج ہے جبکہ سڑکیں اور پل بنانے سے ملک ترقی نہیں کرتا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب: بچوں کے خلاف جرائم میں 30 فیصد اضافہ

اس سے قبل قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے کہا کہ قصور جیسے واقعت میں عمر قید کی سزا قوم اور قوم کے بچوں کے ساتھ مذاق ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ قصور بچی کے قتل اور مظاہرے کے دوران 2 افراد کے قتل کی بھی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ قصور واقعے سے ظاہر ہے حکومت ناکام ہوچکی ہے اور اسے اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے۔