کمسن بچی کا ممکنہ طور پر ’ریپ‘ کے بعد قتل ہوا،آئی جی خیبر پختونخوا

اپ ڈیٹ 29 جنوری 2018

ای میل

— فوٹو: حسن فرحان
— فوٹو: حسن فرحان

انسپیکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود کا کہنا ہے کہ میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق اتوار کو مردان سے جس چار سالہ بچی کی لاش ملی اس کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔

صلاح الدین محسود نے کہا کہ میڈیکو لیگل رپورٹ کے مطابق بچی کو گلا دبا کر قتل کیا گیا جبکہ رپورٹ میں بچی سے جنسی زیادتی کی بھی نشاندہی کی گئی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ پولیس واقعے کی فرانزک رپورٹ کا انتظار کر رہی ہے، کیونکہ میڈیکو لیگر رپورٹ میں کچھ معاملات کی وضاحت نہیں کی گئی۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی پولیس چیف کا کہنا تھا کہ بچی کی لاش اس کے لاپتہ ہونے کے ایک روز بعد گنے کے کھیت سے ملی۔

14 جنوری کو ریجنل پولیس افسر مردان کی سربراہی میں 8 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) انویسٹی گیشن کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زینب قتل کیس: عدالت میں ڈی جی فرانزک اور پولیس کی رپورٹ پیش

صلاح محسود نے کہا کہ متاثرہ بچی کے اہلخانہ، صوبائی ’تنازع حل کونسل‘ کے اراکین اور مقامی سیاسی رہنماؤں پر مشتمل ایک غیر رسمی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جو پولیس کی تحقیقات کی نگرانی کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ڈی این اے کے نمونے سمیت واقعے کے تمام شواہد جمع کر لیے گئے ہیں۔

انہوں نے ملزمان کی جلد گرفتاری کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت یہ واقعہ صوبائی پولیس کی اولین ترجیح ہے۔

واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے بچی کے اہلخانہ اور ضلعی ناظم پر معاملے کو دبانے کی کوشش اور بچی سے زیادتی کو چھپانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) واقعے کے خلاف آج احتجاج کرے گی جبکہ پولیس کی طرف سے بھی واقعے کی فرانزک رپورٹ بدھ کو آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ملک میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ویڈیو دیکھیں: زینب کے اغوا کی ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

تاہم قصور میں چھ سالہ بچی زینب کا ریپ اور قتل کے واقعے نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جس کی لاش گزشتہ ہفتے کوڑے سے ملی تھی۔

کمسن بچی کے ساتھ درندگی کے اس وقعے کے خلاف قصور سمیت ملک بھر میں احتجاج کیا گیا اور ملزمان کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

تاہم واقعے کا مرکزی ملزم صوبائی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے متعدد کمیٹیاں تشکیل دیئے جانے اور کئی ایجنسیوں کے کیس پر کام کرنے کے باوجود تاحال مفرور ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بدھ کے روز قصور کا دورہ کیا اور کہا کہ زینب واقعے میں اہم کامیابی حاصل کرلی گئی ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

انہوں نے واقعے کو سیاست کی نذر کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جس بچی کا مردان میں قتل ہوا وہ بھی قوم کی بیٹی تھی اور کیا مال روڈ پر احتجاج کرنے والے اس بچی سے بھی اسی طرح یکجہتی کا مظاہرہ کریں گے جس طرح انہوں نے زینب کے ساتھ کیا۔