ڈاوس: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر فلسطین، اسرائیل کے ساتھ امن قائم کرنے میں تعاون نہیں کرے گا تو اس کی امداد روک دی جائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ میں غیر ملکی خبر رساں ادارے کی جانب سے بتایا گیا کہ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہش مند ہیں، تاہم امریکی نائب صدر مائک پینس کے حالیہ دورہ اسرائیل کے دوران فلسطینی صدر نے ملنے سے انکار کرکے امریکا کو نظر انداز کیا ہے۔

مزید پڑھیں: بیت المقدس سے متعلق ٹرمپ کے فیصلے پر دنیا بھر میں تنقید

امریکی صدر نے کہا کہ جب ایک ہفتے قبل فلسطینیوں نے ہمارے نائب صدر کو وہاں آنے کی اجازت نہیں دی ان سے ملنے سے انکار کیا اور ہم انہیں ہزاروں ڈالر امداد دیتے ہیں، اچھے نمبر دیتے ہیں اور یہ ایسے نمبر ہوتے جو کوئی سمجھ نہیں سکتا، انہوں نے کہا کہ اب یہ رقم ایک میز پر ہے اور تب تک انہیں نہیں دی جائے گی جب تک وہ مذاکرات کے لیے راضی نہیں ہوتے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیلی حکومت یروشلم ( مقبوضہ بیت المقدس ) کو ملک کا ابدی اور ناقابل تقسیم دارالحکومت مانتی ہے تاہم بین الاقوامی سطح پر اسے تسلیم نہیں کیا گیاجبکہ فلسطین مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت کے طور پر دیکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا لیکن میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسرائیل امن چاہتا ہے اور وہ اس عمل کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے ایک امن کی تجویز پیش کی ہے جو فلسطینیوں کے لیے بہت اچھی تجویز تھی، جس میں سالوں سے جاری کئی چیزوں پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان انہیں مذاکرات کی میز تک لے گیا ہے اور اسرائیل اس کا خمیازہ دینے کو تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت کیوں تسلیم نہیں کیا جاسکتا؟

خیال رہے کہ گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا جبکہ اپنا سفارتخانہ بھی یہاں منتقل کرنے کا کہا تھا، تاہم امریکا کے اس فیصلے کے خلاف دنیا بھر میں شدید غصے کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس حوالے سے ایک قرار داد بھی منظور کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی اقدام کو منہ پر طمانچہ قرار دیا تھا اور انہوں نے واشنگٹن کی امن مذاکرات کےلیے کوششوں سے انکار کردیا تھا جبکہ مائک پینس کے دورے سے قبل ہی وہ بیرون ملک چلے گئے تھے۔