نانگا پربت، کوہ پیماؤں کا مقتل بھی، جنوں بھی

اپ ڈیٹ 15 فروری 2018

ای میل

گزشتہ روز ’کِلر ماؤنٹین‘ یا قاتل پہاڑ کے نام سے مشہور نانگا پربت پر پھنسے دو کوہ پیماؤں کے ریسکیو آپریشن کے دوران ریسکیو ٹیم نے کوہ پیمائی کی تاریخ میں ایک بڑا ہی منفرد ریکارڈ قائم کیا۔

26 جنوری کو 7 ہزار 200 میٹر کی بلندی پر پولش کوہ پیما ’ٹام میکسوچ‘ اور فرانسیسی خاتون کوہ پیما 'الزبتھ ریول‘ ایک دوسرے سے بچھڑ کر وہاں پھنس گئے تھے۔

پولش اور فرانسیسی سفارت خانوں کی درخواست پر پاک فوج نے دونوں کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹر روانہ کیے۔ ریسکیو آپریشن میں پولش کوہ پیماؤں کی ٹیم نے رضاکارانہ طور پر حصہ لیا۔

مذکورہ پولش ٹیم ’کے ٹو بیس کیمپ 2‘ پر موجود تھی، جہاں وہ ’کے ٹو‘ کو سر کرنے کی مہم کے لیے تیار تھی، بعد ازاں چار کوہ پیماؤں پر مشتمل اس ٹیم نے رضاکارانہ طور پر ریسکیو آپریشن میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ پولینڈ کی اس ٹیم میں ایڈم بیلیکی، جاروسلا بوتر، پیوترک تومالا اور روسی نژاد پولش ڈینس یوربکو نامی کوہ پیما شامل تھے۔

پولش ٹیم پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ’کے ٹو بیس کیمپ‘ سے ’نانگا پربت بیس کیمپ‘ کے تھوڑا آگے ’کیمپ ون‘ کے قریب پہنچی، جہاں سے وہ دنیا کی مشکل ترین برفانی دیوار کن شوفر وال پر آئے۔

ان کی چڑھائی کا انداز عام انسانوں کے بجائے کسی سپر مین یا مافوق الفطرت صلاحیتوں والی مخلوق جیسا تھا۔ حالانکہ سردیوں کا موسم، رات کا وقت اور درجہ حرارت منفی 40 سے بھی زیادہ تھا۔ وہ رات کے اندھیرے میں صرف ساڑھے 8 گھنٹوں میں 1426 میٹر کی بلندی سر کرکے الزبتھ ریول کو ریسکیو کرنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ دوسرے کوہ پیما ٹام میکسوچ کو تمام تر کوششوں کے باوجود نہیں بچا پائے۔ اسنو بلائنڈنس اور فراسٹ بائٹ کے شکار میکسوچ کے لیے خراب موسم اور منفی 60 کی شدید ترین سردی میں بچنا ممکن نہیں رہا۔ میکسوچ ہمیشہ کے لیے نانگا پربت کی برف میں دفن ہوگئے۔

ریسکیو ٹیم کی جی پی ایس سے حاصل کی گئی رفتار اور طے کردہ مسافت کا نقشہ۔
ریسکیو ٹیم کی جی پی ایس سے حاصل کی گئی رفتار اور طے کردہ مسافت کا نقشہ۔

اس ریسکیو آپریشن کی سب سے حیران کُن بات یہ تھی کہ ایڈم بیلیکی اور ڈینس بوریکو منفی 40 سے منفی 60 درجہ حرارت میں 6 ہزار میٹر سے اوپر ایک بہت ہی مشکل، ٹیکنیکل، سیدھی اور برفانی چڑھائی پر بغیر رُکے 121 میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اوپر چڑھتے رہے۔ یہ رفتار عام کوہِ پیمائی کی نسبت 3 گُنا زیادہ تھی جو کوہِ پیمائی کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے۔

پولیش کوہ پیما ایڈم بیلیکی اور ڈینس بوریکو—فائل فوٹو
پولیش کوہ پیما ایڈم بیلیکی اور ڈینس بوریکو—فائل فوٹو

اس پورے آپریشن میں جہاں اِن کوہ پیماؤں کے کردار، کمال مہارت اور بہادری کو سراہا گیا وہاں پاکستان آرمی عسکری ایوی ایشن کی ریسکیو آپریشن کے لیے معاوضے کی ڈیماند اور آپریشن تاخیر سے شروع کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا پر سوالات اُٹھائے گئے، وہ یقیناً ہر پاکستانی کے لیے شرمندگی کا باعث بنے رہے۔ مگر یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے، آئیں اس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

دنیا کی 9 ویں اور پاکستان کی دوسری بلند چوٹی نانگا پربت کو سر کرنا کوہِ پیماؤں کے لیے ہمیشہ مشکل ٹاسک رہا ہے، اس کے باوجود دنیا بھر کے کوہِ پیماؤں کے لیے یہ چوٹی ہمیشہ سے پُرکشش رہی ہے۔

نانگا پربت کی بلندی 8126 میٹر، طول بلد 35.14 عرض بلد 74.35 ہے۔ کوہِ پیما جہاں ماؤنٹ ایوریسٹ، کے ٹو اور دیگر بُلند چوٹیوں کو سر کرنے کے خواب دیکھتے ہیں، وہاں نانگا پربت سر کرنا ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں ہوتا۔ نانگا پربت کو پہلی مرتبہ اسٹریلیا کے ہیرمن بوہل نے 1953ء میں سر کیا۔

نانگا پربت مہمات کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ اب تک 335 کوہ پیما اس قاتل پہاڑ کو سر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اٹلی کے مشہور کوہ پیما ’سائمن مور‘ اور پاکستان کے ’علی صدپارہ‘ اور اسپین کے ’الکیس ٹاکسن‘ نے 26 فروری 2016ء کو سردی کے موسم میں پہلی مرتبہ یہ چوٹی سر کرکے ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ انہی کے گروپ کی اٹلی سے تعلق رکھنی والی ایک خاتون کوہ پیما ’تمارا لانگر‘ خرابئ صحت کی وجہ سے سر نہیں کر پائیں۔

330 کے قریب کوہ پیماؤں نے گرمیوں میں نانگا پربت کو سر کیا تھا، جبکہ 68 کوہ پیما ایسے ہیں جو مہم کے دوران یا واپس آتے ہوئے ہلاک ہوئے، اس فہرست میں پولش کوہ پیما ’ٹام میکسوچ‘ کا نام ابھی شامل نہیں کیا گیا۔

اٹلی کے کوہ پیما سائمن مور اورپاکستان کے علی صدپارہ کا نانگا پربت سر کرنے کا منظر— فائل فوٹو
اٹلی کے کوہ پیما سائمن مور اورپاکستان کے علی صدپارہ کا نانگا پربت سر کرنے کا منظر— فائل فوٹو

’ٹام میکسوچ‘ اس سے پہلے 6 مرتبہ نانگا پربت سر کرنے کی کوشش کرچکے تھے، وہ مسلسل دو برسوں سے موسم سرما میں اپنی ساتھی کوہ پیما الزبتھ ریول کے ساتھ قسمت آزمائی کر رہے تھے لیکن کامیابی نہ مل سکی۔ اُن کا نام مشہور کوہ پیما کے طور پر جانا جاتا تھا، سلام ہے ’ٹام میکسوچ‘ کی ہمت اور حوصلے کو، 6 بار نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش کے باوجود ہار نہیں مانی اور ایسے مستقل مزاج کہ ہار ماننے کے بجائے بار بار کوہ پیمائی کے لیے آتے رہے اور بالآخر ساتویں بار اپنی جان دے کر نانگا پربت سے اپنی محبت کا ثبوت دیا۔

الزبتھ ریول کا تعلق فرانس سے ہے، وہ دنیا کی پہلی کوہ پیما ہیں جو براڈ پیک گشربروم ون اور ٹو جیسے پہاڑ آکسیجن کے بغیر سر کرچکی ہیں۔ مسلسل تنہا کوہ پیمائی کرنے والی یہ فرانسسی کوہ پیما 2015ء اور 2016ء میں ٹام میکسوچ کے ساتھ مل کر نانگا پربت کے لیے زور آزمائی کرچکی تھیں لیکن خراب مو سم کی وجہ سے نانگا پربت کو سر کرنا ان کے لیے مشکل بنارہا۔

الزبتھ 2015 اور 2016 میں ٹام میکسو چ  کے ساتھ مل کر نانگا پربت کے لیے زور آزمائی کر چکی تھیں۔
الزبتھ 2015 اور 2016 میں ٹام میکسو چ کے ساتھ مل کر نانگا پربت کے لیے زور آزمائی کر چکی تھیں۔

رواں سال، 5 جنوری کو ان دو باہمت کوہ پیماؤں نے ایک بار پھر نانگا پربت کی مہم کا آغاز کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس بار وہ دونوں نانگا پربت کی چوٹی کے بالکل قریب پہنچ کر، تقریباً 8 ہزار میٹر کے قریب خرابئ موسم کی وجہ سے پھنس گئے تھے۔

الزبتھ فراسٹ بائیٹ کا شکار ہوچکی تھیں، لیکن اس کے باوجود میکسوچ کو 7280 میٹر تک نیچے لائیں اور قدرے ہموار جگہ پر ٹینٹ لگا کر لٹا دیا اور خود مدد لانے کے لیے تنہا نیچے روانہ ہوگئی۔ الزبتھ نے بائیں پاؤں کی پانچوں انگلیوں میں فراسٹ بائٹ ہونے کے باوجود نیچے اترنے کا سفر جاری رکھا۔

مشہور کوہ پیما محمد عبدہ کے مطابق فراسٹ بائیٹ عموماً ہاتھوں اور پاؤں پر حملہ کرتا ہے۔ اُنگلیاں بے جان ہوجاتی ہیں اور اُن پر دباؤ یا سردی کا اثر محسوس نہیں ہوتا۔ شروع میں متاثرہ عضو گرم ہوتا ہے، اس میں سوجن آ جاتی ہے اور خاصا نرم ہوتا ہے، کچھ عرصہ بعد اس میں بلسٹر بن جاتے ہیں جن کے اندر سرخی مائل اور پھر گہرے رنگ کا مائع جمع ہوجاتا ہے، جب وہی عضوا ٹھنڈا ہوتا ہے تو بالکل بے حس ہوجاتا ہے۔ اُس میں خون کا دورہ نہیں ہوتا اور بالآخر جسم کا وہ حصہ ایک طرح سے مرجاتا ہے۔

پاکستان کی مشہور کمپنی ایکو ایڈونچر کلب کے اکرام شاہ کے مطابق الزبیتھ نے 7400 میٹر کی بلندی سے ریسکیو کال کی تھی جس کے بعد انہوں نے ٹام میکسوچ کے خاندان والوں سے رابطہ کیا۔ اُن کا رابطہ نہ ہونے کے بعد اُنہوں نے ڈان نیوز کے ذریعے فرانس اور پولش سفارت خانے کو خبر پہنچانے کی کوشش کی، جس میں وہ کامیاب رہیں، پولش اور فرانس سفارتخانوں نے پاک فوج کو ریسکیو آپریشن کی درخواست کی۔

پاک فوج نے ان کی درخواست قبول کرلی مگر آپریشن کے لیے وسائل کا معاملہ درمیان میں آگیا۔ جس پر دونوں سفارتخانوں نے بھی ہاتھ کھڑ ے کردیے۔ جس کے بعد دنیا کے کوہ پیماؤں نے فنڈ کی اپیل کر ڈالی۔ ایک دن میں ایک لاکھ ڈالر اکھٹے کر لیے گئے جبکہ یہ فنڈ اب پاکستانی ڈیڑھ کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ جس سے اب ٹام میکسوچ کے فیملی کی مدد کی جائے گی۔اس لنک پر ان کے لیے اکھٹے کیے گئے فنڈز کی تفصیلات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

جس کے بعد ہنگامی طور پر پاک فوج کو ریسکیو آپریشن شروع کرنے کی درخواست کی گئی، پاک فوج نے اپنی ضروری کارروائی کرنے کے بعد ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا جو کہ کامیابی سے ہم کنار ہوا اور ایک کوہِ پیما کو بچا لیا گیا اور بخیریت اسلام آباد شفٹ کردیا گیا۔

الزبتھ ریول کا اسلام آباد ایئر پورٹ پر پہنچنے کا منظر۔
الزبتھ ریول کا اسلام آباد ایئر پورٹ پر پہنچنے کا منظر۔

پاک فوج کی جانب سے آپریشن سے قبل معاوضے کی طلب اور آپریشن میں تاخیر کی وجہ دراصل وسائل کی کمی تھی۔ ریسکیو آپریشن کے لیے لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں۔ انڈیا اور نیپال میں یہ پیسے ایڈوانس ریسکیو کی مد میں لیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اُن کو ریسکیو کیا جاسکے۔

ہمارے پاس تو اپنی مقامی ریسکیو ٹیمیں بھی نہیں اور اس کام کے لیے ہمیشہ فوج پر انحصار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہمارے پاس دنیا کے مشہور کوہ پیماؤں کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے، لیکن ابھی تک ان سے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھانے کی ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم نے تو اپنے ہیروز کو بھی بستر پر ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر موت کی منہ میں جانے پر اکتفا کیا۔

ان ہیروز میں حسن صدپارہ (تمغہ امتیاز) جیسے کوہ پیما کا نام سرِفہرست ہے، جو کے ٹو اور ماؤنٹ ایورسٹ کو بغیر آکسیجن سر کرنے کا اعزاز رکھتے تھے۔ حسن صدپارہ کینسر کے ہاتھوں 21 نومبر 2016ء کو جان کی بازی ہار بیٹھے، اُنہیں حکومت پاکستان کی طرف سے کسی قسم کی مدد نہ مل سکی۔ حسن صدپارہ نے کے ٹو اور ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ دیگر نامور چوٹیاں بغیر آکسیجن سر کرکے کئی عالمی ریکارڈز اپنے نام کیے تھے۔

ہم نے کوہ پیمائی کے شعبے میں اپنا ہیرو کھودیا لیکن اپنے ہیروز کے لیے ہماری لاپرواہی آج بھی جوں کی توں ہے، اسکردو کے علاقے ہوشے سے تعلق رکھنے والے لٹل کریم پاکستان کے ایک ماہر کوہ پیما مانے جاتے ہیں، وہ اس وقت یرقان کے مرض میں مُبتلا ہیں مگر ان کا کوئی پُرسان حال نہیں۔

کوہ پیمائی کی دنیا میں ایک اور بڑا نام علی صدپارہ کا ہے، انہوں نے گزشتہ برس نانگا پربت سَر کیا اور آج کل ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی تیاری میں ہیں۔ ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی اپنی اس مہم کے لیے علی صدپارہ نے اپنے دوستوں سے قرض لیا ہوا ہے۔

گزشتہ برس ماؤنٹ ایورسٹ سَر کرنے والے اسلام آباد کے جبار بھٹی۔
گزشتہ برس ماؤنٹ ایورسٹ سَر کرنے والے اسلام آباد کے جبار بھٹی۔

اسلام آباد کے جبار بھٹی جو گزشتہ برس ماؤنٹ ایوریسٹ سَر کرچکے تھے، نیپال گورنمنٹ نے ان کو ریسکیو کیا لیکن محکمہء سیاحت کے کسی نمائندے نے اُن کے استقبال کی زحمت نہیں اٹھائی۔

چونکہ قدرت نے پاکستان کو دنیا کی ایک سب سے بلند ترین چوٹیوں سے نوازا ہے اور یہ چوٹیاں بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی توجہ کا مرکز ہیں، لہٰذا ہمیں کوہ پیماؤں کی مہمات کے حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے مثلاً ریسکیو ٹیمیں مرتب کی جائیں اور کوہ پیمائی کے لیے بہتر پالیسی وضح کی جائے تاکہ جہاں مقامی کوہ پیماؤں کی حوصلہ افزائی ہو وہیں بین الاقوامی کوہ پیماؤں کے لیے بھی سہولیات فراہم کی جاسکیں اور وہ خود کو محفوظ بھی تصور کرسکیں۔