اسلام آباد: پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی ) کے اجلاس میں سیکرٹری پاور ڈیژن اور پیپکو حکام نے بتایا کہ ملک میں بجلی کے مجموعی ترسیلی نقصانات سے قومی خزانے کو 213 ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہو رہا ہے۔

اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کی زیر صدارت میں جاری پی اے سی میں پیپکو حکام نے بجلی سے متعلق ترسیلی نقصانات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گھریلو صارفین کی کل تعداد 86 فیصد میں سے صرف 50 فیصد بجلی استعمال کرتے ہیں۔

یہ پڑھیں: منگلہ ڈیم میں پانی کی شدید قلت کے باعث بجلی کی پیداوار بند

پیپکو حکام نے ترسیلی نظام سے پیدا ہونے والے نقصانات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کو سب سے زیادہ نقصان 32 اعشاریہ 6 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمرشل صارفین کی تعداد 11 فیصد جبکہ بجلی کا استعمال صرف ساڑھے 7 فیصد ہے۔

اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 1.3 فیصد صنعتی صارفین 24 فیصد بجلی استعمال کر رہے ہیں جبکہ اس وقت کل صارفین کی تعداد 2 کروڑ 62 لاکھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بجلی کے بل میں نمایاں کمی لانا چاہتے ہیں؟

پی اے سی کے اجلاس میں بتایا گیا کہ سکھر الیکٹرک پاور کمپنی میں نقصانات کی شرح 37.9 فیصد اور بجلی چوری 18.57 فیصد ہے۔

دوسری جانب پیسکو میں بجلی چوری کی شرح 11.65 فیصد دیکھنے میں آئی۔

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی میں نقصانات کا تناسب 30.6 فیصد جبکہ بجلی چوری 12.14 فیصد ہے۔

کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کے مجموعی نقصانات 23.1 فیصد اور بجلی چوری 1.8 فیصد ہے۔

مزید پڑھیں: کیا انورٹر اے سی کم بجلی خرچ کرتے ہیں؟

حکام نے بتایا کہ مذکورہ تناسب سے ملک میں بجلی کے مجموعی ترسیلی نقصانات سے قومی خزانے کو 213 ارب روپے سے زائد کا خسارہ ہو رہا ہے۔

تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پیسکو میں 48 ارب روپے، میپکو میں 30 ارب، لیسکو میں 34 ارب روپے، حیسکو میں مجموعی طورپر 19 ارب 69 کروڑ روپے اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی میں 20 ارب 41 کروڑ روپے کے ترسیلی نقصانات ہیں۔