دودھ ہم تک کیسے پہنچتا ہے؟

ہم جو دودھ خریدتے ہیں وہ کہاں سے آتا ہے؟ گائے سے کپ تک پہنچنے میں کتنی دیر لگتی ہے؟ سب سے اہم بات کہ وہ محفوظ ہی ہوگا؟
اپ ڈیٹ فروری 13, 2018 05:13pm

ہم جو دودھ خریدتے ہیں وہ کہاں سے آتا ہے؟ گائے سے کپ تک پہنچنے میں دودھ کو کتنی دیر لگتی ہے؟ اور سب سے اہم بات یہ کہ میں کیسے مان لوں کہ یہ ہر دفعہ سو فیصد محفوظ ہی ہوگا؟

دودھ ہماری روز مرّہ کی زندگی کا ایک ضروری حصہ ہے، پاکستان میں اس کے استعمال کے متعلق بے تحاشہ اہم سوالات جبکہ معدودے چند واضح جوابات موجود ہیں۔

نیسلے پاکستان ملک میں ڈبہ بند دودھ سپلائی کرنے والی سب سے پرانی برانڈز میں سے ایک ہے، تو جب ہمیں ان کے معیار کو دیکھنے کے لیے ان کے فارمز، لیبارٹریاں، اور فیکٹریوں کے دورے کا موقع ملا تو ہم نے اپنے بیگ بند کیے، اور ایک چشم کشا ایڈوینچر کے لیے کراچی سے لاہور جا پہنچے۔

اور جیسا کہ ہمیں اندازہ تھا، دودھ کے ہر گھونٹ کے پیچھے ایک کہانی ہے۔


01 : شہباز کا چھوٹا سا فارم

صبح 07:30 بجے

سفر بالکل تھوڑی سی نیند، بغیر ناشتے، مگر بلند حوصلے کے ساتھ شروع ہوا۔ میں اور میری ٹیم ضلع اوکاڑہ میں ایک چھوٹے سے باڑے کی جانب گامزن ہیں۔

یہ لاہور سے باہر 58 میل کا سفر ہے، اور گاڑی کی کھڑکی سے باہر کا منظر متاثر کن انفراسٹرکچر سے لے کر تنگ گلیوں، ریتیلی سڑکوں اور چھوٹے گھروں کے باہر کھیلتے بچوں تک تبدیل ہوتا گیا۔

یہی وہ جگہ ہے جہاں شہباز کا فارم موجود ہے۔ یہ چھوٹی چار دیواری اور ایک خستہ حال دروازے والا ایک چھوٹا سا پلاٹ ہے۔ گائیں دھوپ سے بچنے کے لیے ایک چھپر کے نیچے کھڑی ہیں۔

میں نے جانا کہ روز صبح 6 بجے دودھ دوہا جاتا ہے، اور پھر شام میں 6 بجے ایک بار پھر۔ یعنی مجھے دودھ دوہنے کا تجربہ اپنے ہاتھ سے کرنے کا موقع نہیں ملنے والا تھا۔

جگالی کرتی گائیں اور گوبر کی بو میں میری ملاقات فارم کے مالک شہباز سے ہوئی۔

میں نے تو سوچا تھا کہ شہباز ایک دیہی کسان ہوں گے، مگر وہ تو میری سوچ سے بالکل مختلف نکلے۔ تنگ سیاہ شرٹ، آرمی پرنٹ کی پینٹ، بوٹس، کلین شیو اور مہارت سے تراشے ہوئے بال۔

شہباز بتاتے ہیں کہ پہلے وہ اپنے مرحوم والد کی زیرِ سرپرستی ایک بڑے باڑے کا حصہ تھے۔ ان کے والد کے انتقال کے بعد اس کا بٹوارہ ہوگیا جس کے نتیجے میں انہیں چھے گائیں ملیں۔ ان کی روز مرّہ کی پیداوار کم ہے مگر ان کے گھرانے کے لیے بہت ہے۔

شہباز بتاتے ہیں کہ ابتدائی پانچ سال تک ان کے باڑے کا دودھ ایک مڈل مین کے ذریعے مختلف دودھ فروشوں اور گاہکوں تک پہنچتا تھا۔ پھر ان کے شہر میں نیسلے کی آمد ہوئی۔

اس سے انہیں کئی فوائد حاصل ہوئے جو مڈل مین انہیں نہیں فراہم کر سکتا تھا، مثلاً:

میں ان سے ماحول، ان کے جانوروں کی صحت، اور اس چھوٹے سے باڑے میں صفائی ستھرائی کے انتظامات کے بارے میں پوچھتی ہوں۔ شہباز کہتے ہیں کہ "دودھ یہاں زیادہ دیر تک نہیں رکتا۔"

واقعتاً اس فارم میں دودھ بہت مختصر مدت کے لیے ہی رکتا ہے۔

6 بجے دودھ دوہا جاتا ہے۔ پھر دودھ کو سینیٹائز کیے گئے ڈبوں میں بند کیا جاتا ہے۔ 8 بجے ایک ٹینکر آتا ہے جو کئی طرح کے ٹیسٹ کرنے کے بعد دودھ کو کنٹرولڈ درجہ حرارت والے ایک ٹینک میں بھر کر لے جاتا ہے۔

وہاں سے نکلنے کے بعد اب ہماری منزل نیسلے کا ٹریننگ فارم ہے۔

02: نیسلے کے ٹریننگ فارم پر

صبح 09:00 بجے

ہم دیہی پنجاب کی ٹیڑھی میڑھی اور گرد آلود سڑکوں پر سرسبز و شاداب کھیتوں سے گزرتے ہوئے ایک ایسی تنگ سڑک پر آ گئے جس کی ایک جانب ایک ندی، تو دوسری جانب ایک خندق سی تھی۔ جلد ہی ہم نیسلے کے ٹریننگ فارم 'سرسبز' کے سامنے موجود تھے۔

پہلا تاثر:

جب دروازے کھلتے ہیں تو جراثیم کش اسپرے سے لیس دو شخص ہماری پوری گاڑی کو صاف کرتے ہیں۔ اس کے بعد مجھے اور میری ٹیم کو ایک ایسے ڈبے میں پیر رکھنے کے لیے کہا جاتا ہے جس میں جراثیم کش محلول تھا۔ ہمیں دورے کے لیے ویلنگٹن بوٹس پہنائے جاتے ہیں۔ جانوروں کو صرف قریب سے دیکھنے کے لیے بھی اتنے اقدامات دیکھ کر کافی تسلی ہوئی۔

سرسبز کے مینیجر سہیل میرا استقبال کرتے ہیں۔ مجھے پسینے میں شرابور دیکھ کر وہ مسکراتے ہیں اور ازراہِ مذاق کہتے ہیں کہ،

"یہاں پر مویشیوں کو ہم سے زیادہ ٹھنڈے ماحول میں رکھا جاتا ہے۔"

ہم ایک ہرے بھرے میدان سے گزر کر فارم کی پچھلی جانب پہنچتے ہیں جہاں پر مویشیوں کو رکھا جاتا ہے۔

سہیل مجھے بتاتے ہیں کہ اس فارم کی مدد سے باڑوں کے مالکان کو ڈیری کے کاروبار میں بہترین طرزِ عمل کی تربیت دی جاتی ہے جس میں فارمنگ کے اخراجات سے لے کر مویشیوں کی دیکھ بھال تک کی باریکیاں شامل ہیں۔

نیسلے کی جانب سے تمام تربیت مفت میں فراہم کی جاتی ہے کیوں کہ کمپنی کو دودھ کی زیادہ پیداوار اور بڑھتے معیار سے فائدہ ہوتا ہے۔ سہیل مجھے بتاتے ہیں کہ امریکا میں فی گائے دودھ کی پیداوار تقریباً چالیس لیٹر ہے، جب کہ پاکستان میں مقامی گائے اور بھینس صرف تین سے چار لیٹر دودھ دیتی ہے۔

اس کے مقابلے میں سرسبز میں دودھ کی پیداوار اس سے کہیں زیادہ، یعنی 20 لیٹر ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ، "مگر اس کے باوجود ہم دنیا بھر میں دودھ کی پیداوار میں تیسرے یا چوتھے نمبر پر ہیں۔" اگر ہم فی گائے اتنا کم دودھ حاصل کر کے بھی تیسرے یا چوتھے نمبر پر ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں ڈیری کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے جس سے اس صنعت کے جدت پانے پر فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ سرسبز اسی جانب ایک قدم ہے۔

360 ڈگری ویڈیو میں شیڈ

اس وسیع و عریض شیڈ میں میں نے دیکھا کہ گائیں شہباز کے باڑے سے زیادہ 'خوش' محسوس ہو رہی تھیں۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ بڑا شیڈ انہیں سورج کی تپش سے کافی حد تک محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ مویشیوں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ان پر باقاعدگی سے شاور کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے۔

یہ اہم بھی ہے کیوں کہ چھوٹے فارم کے برعکس یہاں تین مختلف اقسام کے مویشی رکھے گئے ہیں: امپورٹڈ آسٹریلین ہولسٹائین فرائسن، جرسی، اور ان دونوں کا ملاپ۔ ہمارے دورے کے وقت مجموعی طور پر 400 گائیں موجود تھیں جن میں سے 180 دودھ دوہنے کے لیے تھیں۔

یہ تربیتی فارم جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ہے: ہر گائے کے گلے میں ایک خصوصی پٹہ باندھا جاتا ہے جو اس کی نقل و حرکت اور صحت کے بارے میں معلومات اکھٹی کرتا رہتا ہے، جس سے جانور کی دیکھ بھال کرنے اور دودھ کی پیداوار میں مدد ملتی ہے۔ اس کے علاوہ:

سرسبز کی جانب سے شاندار خاطرمدارت کا انتظام کیا گیا، جس کے بعد ہم واپس سڑک پر آ گئے۔ اب ہم کلیکشن پوائنٹ کی جانب گامزن ہیں۔

03: گگا کلیکشن پوائنٹ

صبح 11:00 بجے

تنگ سڑکوں پر سایہ فگن کالی گھٹاؤں کے نیچے ہم چک گگا میں ایک گاؤں پہنچے، جہاں باڑوں کی ایک قطار کے سامنے گگا کلیکشن پوائنٹ واقع ہے۔

پنکھوں اور دودھ کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے چِلر سے آراستہ یہ پختہ عمارت آس پاس موجود چھوٹے باڑوں سے کافی ممتاز نظر آتی ہے۔

نیسلے کے دو نمائندے ہمیں دودھ کے سفر میں اس اگلی منزل کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد سہیل ایک نوجوان اور تجربہ کار شخص ہیں جنہیں دودھ کی کلیکشن اور اسے ٹھنڈا کرنے کے مرحلے (چلنگ) کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہیں۔ میاں حماد لطیف ایک تجربہ کار کلیکشن افسر ہیں جو 15 سال سے نیسلے میں کام کر رہے ہیں۔

دوسرے باڑوں سے اکھٹے کیے گئے دودھ کو چِلر میں ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ یہیں پر ہمیں اس کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

500 لیٹر گنجائش اور چاندی کے رنگ والا یہ بڑا سا ٹینک پنجاب اور سندھ میں پھیلے ہوئے ان ہزاروں ٹینکوں میں سے ہے جن کی گنجائش 500 سے لے کر 2000 لیٹر تک ہوتی ہے۔ معیار اور پیداوار کے حساب سے الگ الگ زمروں میں موجود سپلائرز سے دودھ اکھٹا کر کے اسے یہاں جمع کیا جاتا ہے۔

نیچے دی گئی ویڈیو میں کلیکشن پوائنٹ پر نظر ڈالیں

لطیف کلیکشن کے مرحلے سے بخوبی واقف ہیں جس کے نتیجے میں ٹنوں کے حساب سے دودھ کی فراہمی ممکن ہو پاتی ہے۔ وہ نکتہ بہ نکتہ ہمیں یہ مرحلہ سمجھاتے ہیں۔

  1. فارم مالکان گدھا گاڑیوں، سائیکلوں، یہاں تک کہ کچھ معاملات میں پیدل بھی دودھ کلیکشن پوائنٹ تک لاتے ہیں۔

  2. دودھ کا ایک اورگینو لیپٹک (حِسّی) ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس میں اس کی ہیئت، ذائقے، احساس، اور بو کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

  3. اگر یہ ٹیسٹ کلیئر ہوجائے تو پھر اس کی بناوٹ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ نیسلے پاکستان نے اس کام کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن ڈویلپ کر رکھی ہے جو کہ دودھ اکھٹا کرنے والے ایجنٹوں کے اسمارٹ فونز میں موجود ہے۔ یہ ایپلیکیشن فارم مالکان سے دودھ کی خریداری کا ریکارڈ رکھتی ہے اور جب ایک بار دودھ تمام ٹیسٹ اور مراحل سے گزر جائے، تو انہیں ایک تصدیقی پیغام بھیج دیا جاتا ہے۔

  4. کوئی بھی دودھ جو مسترد ہوجائے، نہیں خریدا جاتا۔ اگر جمع شدہ دودھ خراب ہوجائے، تو یہ ایک مصدقہ تیسرے فریق کی جانب سے ضائع کر دیا جاتا ہے۔

  5. ٹیسٹ کلیئر کرنے والا دودھ پھر ترسیل کے لیے ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور ریجنل سینٹر جانے والے دودھ کے ٹینکر میں بھرا جاتا ہے (ذیل میں دیے گئے انفوگرافس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کون سے دیگر ٹیسٹ کیے جاتے ہیں) اور پھر اسے شیخوپورہ میں نیسلے فیکٹری روانہ کر دیا جاتا ہے۔

ہم بھی اب وہیں جا رہے ہیں۔

04: شیخوپورہ کی ملٹی پراڈکٹ فیکٹری

دوپہر 12 بجے

ریتیلی سڑکیں پیچھے چھوڑتے ہوئے اب شیخوپورہ میں فیکٹری کی جانب ہمارا سفر ایک پختہ اور ہموار، مگر کم دلکش نظاروں والی سڑک پر ہے۔

گرمی اور بدبو کو اگر ہٹا دیں تو میں دیہی زندگی کی دھیمی رفتار اور امن و سکون چاہتی ہوں۔ اگر مجھے ایک اچھا وائی فائی کنکشن مل جائے، تو مجھے فارم چلانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انہی سوچوں میں ہم شیخوپورہ میں واقع نیسلے کی ملٹی پراڈکٹ فیکٹری آ پہنچے۔

پہلا تاثر: اتنی بڑی فیکٹری؟ یہاں کئی بڑے ٹاور موجود ہیں جن میں مجھے بتایا گیا کہ دودھ جمع کیا جاتا ہے۔

نیچے دی گئی ویڈیو میں فیکٹری کی سیر کریں۔

ہمیں فوراً ہی ایک (ٹھنڈے) بورڈ روم میں لے جایا جاتا ہے جہاں ایک درمیانی عمر کے شخص ہمارا استقبال کرتے ہیں۔ یہ فیکٹری مینیجر ابرار احمد ہیں اور ان کے پاس حقائق اور اعداد و شمار کا خزانہ ہے۔

ابرار ہمیں بتاتے ہیں کہ نیسلے کی کبیروالا، ملتان میں ایک اور یو ایچ ٹی ملک فیکٹری ہے۔

زبردست۔ مگر شہباز کا 60 لیٹر دودھ کہاں ہے؟

ہمیں سفید لیب کوٹ، ہائجین کیپس، اور سائز سے بڑے جوتے پہنا کر فیکٹری مینیجر ممتاز حسین کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو ہمارے ٹوئر گائیڈ بھی ہیں اور دودھ کو آلودگی سے پاک رکھنے کے ذمہ دار بھی۔

ٹرانسپورٹ، آف لوڈنگ اور مزید ٹیسٹ

میں واپس چلچلاتی دھوپ میں آ چکی ہوں اور اپنی پہلی منزل کی جانب گامزن ہوں، یعنی وہ جگہ جہاں دودھ کے ٹینکر سے دودھ اتارا جاتا ہے۔ یہاں پر مکمل طور پر سفید کپڑوں میں ملبوس ایک شخص ٹینکر کو دھو کر اور رگڑ کر صاف کر رہا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ دودھ کا ٹینک کھولنے سے قبل اس کی مکمل طور پر صفائی ضروری ہے۔

اس کے بعد کئی مزید ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ (اگر آپ شمار کر رہے ہیں تو اب تک 8 ٹیسٹ ہو چکے ہیں، اور 301 ٹیسٹ مزید ہونے باقی ہیں۔)

سب سے پہلے ایک 50 منٹ طویل مرحلے میں دودھ کے سیمپل لیے جاتے ہیں اور چیک کیا جاتا ہے کہ دودھ کا درجہ حرارت درست ہے یا نہیں، اور آیا یہ درجہ حرارت وہی ہے جو کلیکشن پوائنٹ پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ یہ ٹیسٹ اس لیے ضروری ہے تاکہ دودھ کے کنٹینر میں خرابی کے امکان کو دور کیا جا سکے۔

اس کے بعد سیمپلز کو معیار کو یقینی بنانے والی ایک چھوٹی سی لیبارٹری میں لے جایا جاتا ہے جہاں انہیں بیکٹیریا، تازگی، اور اضافی مٹھاس کے لیے چیک کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یوریا ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے تاکہ دودھ کا گاڑھا پن معلوم کیا جا سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دودھ میں کہیں ملاوٹ تو نہیں۔

پہلا گھونٹ

دودھ کی بناوٹ کو پرکھنے کے ایک دو مزید ٹیسٹس کے بعد ایک ذائقے کا ٹیسٹ بھی کیا جاتا ہے۔ دودھ کو ایک گلاس میں ڈالا جاتا ہے جہاں ٹیکنیشن اسے سونگھتا ہے تاکہ کسی بھی بو کا پتہ چلایا جا سکے۔ اس کے بعد وہ اس کی چکناہٹ اور ذائقے کو پرکھنے کے لیے اس کو چکھتا ہے۔

اس موقع پر میں نے فارم سے کلیکشن پوائنٹ اور پھر وہاں سے اپنے گلاس میں موجود دودھ کو پہلی بار چکھا۔ میں نے گلاس ہلایا، سونگھا، اور پھر بالکل کسی ماہر کی طرح اسے چکھا۔ مجھے بتایا گیا کہ آگے چکھنے کے مزید ٹیسٹ کیے جائیں گے۔

اس کے بعد حسین ہمیں مِلک ریسیونگ یونٹ لے جاتے ہیں جہاں دودھ کے ٹینکر کو رجسٹر کیا جاتا ہے، اور ڈرائیور کو ایک کی ریڈر فراہم کیا جاتا ہے جس میں دودھ پر کیے گئے ہر ٹیسٹ کی تصدیق اور آگے بڑھنے کا اجازت نامہ موجود ہوتا ہے۔

اس کے بعد مجھے ایک اور اسٹیشن لے جایا جاتا ہے جہاں دودھ کو آف لوڈ کیا جاتا ہے۔ یہاں سے پائپس کے ذریعے دودھ کو ایک انتہائی آٹومیٹک (اور بظاہر دلچسپ) نظام میں داخل کر کے دھاتی کنٹینروں والے ایک بڑے کمرے میں لے جاتا ہے جہاں پر پراڈکٹ سے کسی بھی قسم کے انسانی یا بیرونی رابطے کو ختم کر دیا جاتا ہے۔

دودھ کو ابتدائی طور پر گرم کرنے کے بعد اسے اس کی اگلی منزل پر پہنچانے سے قبل ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔

لیبارٹری کے اندر

دوپہر 12:30 بجے

مجھے ایک وسیع و عریض لیبارٹری میں لے جایا جاتا ہے جہاں نیسلے کے دودھ پر کیے گئے پورے 309 ٹیسٹوں کی مزید تفصیلات بتائی جاتی ہیں۔

یہ اب واضح ہے کہ کیوں نیسلے کا دودھ پاکستان میں استعمال کے لیے لائق قرار دی گئی دودھ کی صرف چند برانڈز میں سے ایک ہے۔ جب کوئی کمپنی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر 300 سے زائد ٹیسٹ کرے تو صارف تک خراب دودھ پہنچنے کے امکانات شاید نہ ہونے کے برابر سے لے کر بالکل نہ ہونے کے درمیان ہوں؟ یہاں پر معیار کے بارے میں شک کرنے کی مزید کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔

لیبارٹری میں معیار کے ٹیسٹ سے گزرنے کے بعد بالآخر دودھ کو منظور کر لیا جاتا ہے۔ یہی وہ دودھ ہوتا ہے جو میں اب دکان سے خریدوں گی۔

حسین ہمیں پیکیجنگ پلانٹ کی جانب لے جاتے ہیں جہاں معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ذائقے کا ایک اور ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹ اس لیے ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں پیکجنگ کے بعد دودھ کے ذائقے میں فرق تو نہیں آیا۔

میں مختلف پیکجز میں سے آٹھ گھونٹ لیتی ہوں، جبکہ بیچ بیچ میں پانی بھی، تاکہ ایک سیمپل کا ذائقہ زبان سے صاف ہونے کے بعد ہی دوسرا چکھا جائے۔

پیکجنگ

دوپہر 04:00 بجے

پیکجنگ پلانٹ میں داخل ہونے کے لیے حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے انتہائی احتیاط سے ہمارے ہاتھ دھلوائے جاتے ہیں۔ اندر ایک طویل راہداری کی ابتداء میں ایک کمرہ ہے جہاں صرف مخصوص شخصیات کو داخلے کی اجازت ہے۔ حسین بتاتے ہیں کہ "یہ دودھ کا پیکجنگ سے پہلے آخری ٹیسٹ ہوتا ہے۔ اس کمرے میں موجود لوگوں کا دودھ کے معیاری یا غیر معیاری ہونے کے حوالے سے فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔

کچھ دروازوں کے آگے وہ جگہ ہے جو اس پورے دورے میں میری سب سے پسندیدہ جگہ ہے۔ ایک بہت بڑا ہال، جہاں پر دودھ پیک ہو رہا ہے۔ 333 پیک فی منٹ کی رفتار سے ہونے والے اس مرحلے کو دیکھنا نہایت حیران کن اور ہپناٹائز کر دینے والا ہے۔

05: مکمل چکر

شام 05:00 بجے

اور یوں دودھ کی زندگی میں ایک دن کا اختتام ہوا۔ میں نے دودھ کے ساتھ 200 کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ حقیقتاً مجھے لگا تھا کہ یہ دورہ بیزار کن ہوگا جیسا کہ پہلے سے طے شدہ زیادہ تر دورے ہوتے ہیں۔ مگر یہ کافی مختلف تھا۔ دودھ کا سفر نہایت حیران کن ہے: ایک چھوٹے سے فارم سے لے کر سرسبز، اور وہاں سے فیکٹری تک۔

میں نے جانا کہ ہمارے گھر میں موجود ہر دودھ کے ڈبے کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ ہم جب ایئرپورٹ واپس آ رہے تھے تو تیز بارش اور ہواؤں کے پس منظر میں دور کہیں میں کسانوں کو اپنے گھروں تک جاتا دیکھ پا رہی تھی۔

12 گھنٹوں کے اندر دودھ کا ایک اور چکر شروع ہونے والا تھا۔


رپورٹ : امر ایاز

یہ فیچر نیسلے پاکستان کے تعاون سے لکھا گیا ہے، نیسلے نے بحیثیت اسپانسر اس فیچر کے تمام اخراجات برداشت کیے

اسپانسر مواد کیا ہے؟