فٹ پاتھ پر چرسی تو قبول ہے مگر اسکول نہیں

اپ ڈیٹ 14 فروری 2018

ای میل

’محترمہ اس اسکول میں پڑھائی نہیں ہوتی، یہ تو بس کمائی کا ذریعہ ہے۔‘ اسکول کے قریب واقع ایک دکان پر بیٹھے ایک صاحب نے سگریٹ سلگاتے ہوئے جیسے مجھے ایک بریکنگ نیوز دی۔ شاید وہ جان چکے تھے کہ میں کراچی میں عبداللہ شاہ غازی کی مزار کے قریب واقع فٹ پاتھ اسکول پر اسٹوری کرنے آئی ہوں۔

کیا آپ کے پاس کوئی ثبوت ہے جو مجھے اس اہم خبر کو دینے میں مدد دے سکے؟ میں نے اگلا سوال کیا۔ جواب ملا کہ ’ثبوت کیا دینا، سارے لوگ جانتے ہیں کہ یہاں کیا ہوتا ہے۔‘ میں نے ان حضرت سے اُن کا تعارف مانگا تو معلوم ہوا کہ وہ وہاں کسی اسٹیٹ ایجنسی میں کام کرتے ہیں ان کی جانب سے جب یہ دعویٰ کیا جارہا تھا تب سنڈے، منڈے، ٹیوز ڈے کی باآوازِ بلند آوازیں میرے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔

میں نے اُن حضرت کا شکریہ ادا کیا اور اسکول جا پہنچی۔ افناس علیشاہ زیدی اس اسکول کو گزشتہ دو برس سے چلا رہی ہیں۔ وہ یہ کیوں کر رہی ہیں؟ انہیں اس سے کیا حاصل ہے؟ وہ اس سے کیا کچھ بنا چُکیں؟ میری دلچسپی اس بات میں نہیں تھی، بلکہ میں یہ جاننا چاہتی تھی کہ چوں کہ سندھ حکومت تمام فٹ پاتھ اسکولوں کو ہٹانے اور اپنی تحویل میں لینے کا ارادہ رکھتی ہے اگر ایسا ہوجاتا ہے تو کون کون سے فٹ پاتھ اسکول متاثر ہوں گے اور بچوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا وہ یہ اسکول ختم ہونے کے بعد سرکاری اسکول میں پڑھنے لگیں گے جہاں یقیناً انہیں ہونا چاہیے، لہٰذا آج میں نے ان کے اسکول کا رخ کیا۔

فٹ پاتھ اسکول—تصویر سدرہ ڈار
فٹ پاتھ اسکول—تصویر سدرہ ڈار

فٹ پاتھ اسکول میں خواتیں اساتذہ بچوں کو سبق پڑھانے میں مصروف تھیں، تو کہیں کوئی بچہ جو پڑھنے میں ذرا تیز تھا دوسروں کو ریڈنگ کروارہا تھا۔

کچھ بچے یونیفارم میں ملبوس تھے کچھ گھر کے کپڑوں میں، لیکن بستے سب کے پاس تھے، پینسلیں سب کے ہاتھ میں تھیں اور لکھنے اور پڑھنے کا جنون سب پر سوار تھا۔ کوئی کُرسی پر آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا تو کسی نے سامنے والی خالی کرسی پر پیر رکھ کر کاپی گود میں رکھی ہوئی تھی۔

چونکہ میں نے اچانک چھاپہ مارا تھا تو افناس کے آنے سے قبل مجھے بچوں سے بات کرنے کا موقعہ مل گیا، میں نے اسکول کے بچوں سے گھوم پھر کر آسان آسان سوال کیے۔ پہلا سوال یہی تھا یہاں پڑھنے کیوں آتے ہو؟ جواب یکساں آیا کہ سرکاری اسکول میں داخلہ نہیں ملتا، کسی نے کہا سرکاری اسکول گئے لیکن روز مار پڑتی تھی کہ یہ کیوں نہیں لائے وہ کیوں نہیں لائے؟ ہم غریب بچے ہیں کہاں سے چیزیں خریدیں۔ ایک بچی نے کہا، ’میری ماں دوسروں کے گھروں میں کام کرنے جاتی ہے جبکہ میں یہاں پڑھنے آتی ہوں۔ یہاں مجھے کھانا بھی ملتا ہے اور روز کے 50 روپے بھی، میں اپنے پیسے اماں کو دیدیتی ہوں جس سے انہیں سہارا رہتا ہے۔‘

فٹ پاتھ اسکول میں سب کے پاس بستے تھے، پینسلیں سب کے ہاتھ میں تھیں اور لکھنے اور پڑھنے کا جنون تھا—تصویر سدرہ ڈار
فٹ پاتھ اسکول میں سب کے پاس بستے تھے، پینسلیں سب کے ہاتھ میں تھیں اور لکھنے اور پڑھنے کا جنون تھا—تصویر سدرہ ڈار

13 سالہ دلبر نے بتایا کہ، ’میں مزار پر شاپر بیچتا تھا پھر اس اسکول میں مجھے پڑھنے کے لیے بُلایا گیا، اس اسکول میں دو سال پڑھائی کرنے کے بعد میں اتنا قابل ہوگیا ہوں کہ اب پانچویں کلاس میں پڑھتا ہوں۔ یہاں کھانا بھی ملتا ہے اور پیسے بھی۔ یہاں سے فارغ ہونے کے بعد میں ایک دکان میں کام بھی کرتا ہوں۔‘

میں نے پوچھا تم تو کم عمری سے کما رہے ہو تو پڑھائی کرکے تو کمائی کم ہوتی ہوگی، اس نے جواب دیا، ’باجی یہاں روزانہ 50 روپے ملتے ہیں، گھر دیتا ہوں تاکہ انہیں شکایت نہ ہو اور وہ مجھے پڑھنے سے نہ روکیں، میں شام کو بھی اسی لیے کام کرتا ہوں تاکہ اور پیسے بن جائیں، میں سرکاری اسکول میں نہیں پڑھ سکتا کیونکہ وہاں یہ سب نہیں ملے گا اور مجھے مجبوراً تعلیم چھوڑ کر زیادہ پیسے کمانے کی خاطر صرف کام کرنا ہوگا۔‘ دلبر کے بعد میں نے مختلف عمروں کے لگ بھگ 15 سے 16 بچوں سے سوالات کیے اور اُن کا مشاہدہ کیا۔

مونٹیسری میں زیرِ تعلیم 5 سالہ زینب کا بھائی یہاں دوسری جماعت میں پڑھتا ہے، اُن بچوں کو بریک ٹائم کے لیے اسنیکس دیے جاتے ہیں۔ لیکن زینب نے بسکٹ اور جوس ہاتھ میں پکڑے رکھا جبکہ سب بچے کھانے پینے میں مصروف تھے۔

میں نے زینب سے پوچھا آپ جوس کیوں نہیں پی رہیں؟ تو اس نے بتایا کہ، ’میں یہ جوس گھر جا کر اپنی چھوٹی بہن کے ساتھ شئیر کروں گی، اس کو روز انتظار ہوتا ہے۔‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا ’او شئیرنگ از کئیرنگ‘ اس نے اثبات میں گردن ہلادی اور پھر جوس اور بسکٹ کو بستے میں رکھ لیا۔

یہ تو تھی فٹ پاتھ اسکول کی کہانی۔۔۔

اسی طرز کا لیکن تھوڑا سا مختلف اسکول حاجی لیمو گوٹھ میں فہد علی چلا رہے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ معاشی مسائل کے سبب جب انہیں ایک اچھے پرائیویٹ اسکول سے سرکاری اسکول میں جانا پڑا تو ان کے ساتھ بچوں اور اساتذہ کا سلوک ناروا تھا اس تجربے سے انہوں نے یہ ٹھانا کہ وہ قلیل آمدنی والے والدین کے بچوں کے لیے ایسا اسکول بنائیں گے جہاں انہیں احساس نہ ہو کہ وہ اس معاشرے میں کسی بھی طرح پیچھے ہیں۔

فہد علی کا اسکول —تصویر سدرہ ڈار
فہد علی کا اسکول —تصویر سدرہ ڈار

فہد کا اسکول پہلے جھونپڑیوں سے شروع ہوا پھر ایک خالی پلاٹ سے اس لیے ہٹایا گیا کہ وہاں کے جرائم پیشہ افراد ان بچوں کی تعلیم کے حق میں نہیں تھے اور انہیں یہ خدشہ تھا کہ پلاٹ پر قبضہ ہوسکتا ہے۔ سو کچھ نوجوانوں نے مل کر ایک 80 گز کا دو منزلہ مکان کرائے پر لیا اور اسکول بنا دیا گیا، جہاں اس وقت 120 بچے زیرِ تعلیم ہیں، جنہیں نصابی کتابیں، یونیفارم اور اسٹیشنری مفت فراہم کی جاتی ہے۔ یہاں ان بچوں کو داخلہ دیا جاتا ہے جن کے والدین کی آمدنی 10 ہزار یا اس سے کم ہو۔

دو منزلہ عمارت میں فہد کا اسکول—تصویر سدرہ ڈار
دو منزلہ عمارت میں فہد کا اسکول—تصویر سدرہ ڈار

ماروی اسی اسکول میں پڑھتی ہیں، ماروی نے اپنے 20 بچوں کو اسی اسکول میں داخلہ لینے پر راغب کیا، ان بچوں میں زیادہ تر تعداد لڑکیوں کی ہے۔ یہ تمام بچیاں لگن سے پڑھ رہی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ تعلیم کے بعد یہ سب آگے بھی علم پھیلانے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اسکول سے ملنے والا سبق وہ اپنے والدین کو بھی سناتی اور دکھاتی ہیں، جس سے انہیں بھی بہت کچھ نیا سیکھنے کو مل رہا ہے۔

اسی اسکول میں پڑھنے والا عرفان بھی اپنے روشن مستقبل کے لیے کافی پرامید نظر آیا، وہ دن کو پڑھائی اور شام کو درزی کا کام کرتا ہے۔ اس اسکول میں پڑھنے والے بچوں کو یہ فکر نہیں کہ سرکار انھیں بے دخل کرے گی کیونکہ وہ ایک چہار دیواری میں کسی بھی نجی اسکول کی طرح بہتر تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کے والدین انکے سر پر ہیں اور ان سب بچوں کے والدین سے اسکول انتظامیہ کا رابط بھی رہتا ہے۔

مگر فُٹ پاتھ اسکول کے بچوں کو یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ اگر ان کے اسکول کو سرکاری تحویل میں لیا گیا تو روزانہ ملنے والے پیسے گھر آنا بند ہوجائیں گے، کھانا نہیں ملے گا اور جب ایسا ہوگا تو ماں باپ پھر سے کام پر لگا دیں گے۔

طالبہ ماروی نے مزید 20 بچوں کو فہد کے اسکول میں داخلہ لینے پر راغب کیا—تصویر سدرہ ڈار
طالبہ ماروی نے مزید 20 بچوں کو فہد کے اسکول میں داخلہ لینے پر راغب کیا—تصویر سدرہ ڈار

کم عُمری میں جہاں ان بچوں نے معاشرے کی دُھتکار سہی وہاں اب اُن کی فکر اور بڑھ گئی ہے۔ سب سے بڑھ کر پریشانی ان بچوں کو ہے جو اسٹریٹ چلڈرن ہیں، جنہیں اپنے والدین کا نہیں معلوم، وہ سڑک پر رہتے ہیں، کچرا چُنتے ہیں اور کسی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی کسٹڈی میں آنا نہیں چاہتے، ان کے لیے یہ اسکول اس لیے بہتر ہے کہ وہ یہاں آکر پڑھتے ہیں، پیٹ بھرتے ہیں اور جیب خرچ ملنے سے رات کو کچھ کھا پی لیتے ہیں۔

یہ سب انہیں سرکاری اسکول میں کیسے میسر آسکے گا۔ فٹ پاتھ اسکول میں کوئی صبح میں آتا ہے تو کوئی شام کو، اگر ایسا کوئی فیصلہ ہوجاتا ہے تو فٹ پاتھ پر رہنے والا بچہ جسے یہ بھی معلو م نہ ہو کہ ب فارم کیا ہے؟ وہ کہاں پیدا ہوا اس کی کیا عمر ہے؟ وہ کمائے گا تو ہی کھائے گا۔

ایک بار پھر سرکاری اسکول کے دروازے کے باہر کاغذ پورے نہ ہونے پر داخل نہیں ہو پائے گا جبکہ ان اسکولوں میں اس سے یہ سوال نہیں کیا جاتا، اس کے کچھ کوائف اسکول اپنے پاس رکھتا ہے، داخلہ دیتا ہے اور وہ پڑھنا شروع کردیتا ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جہاں غربت ہو، دو وقت کی روٹی میسر نہ ہو، بچا کُچا کھانا ماں گھر پر لاتی ہو، مزار کے لنگر سے پیٹ بھرتا ہو، وہاں یہ بچے علم کی اہمیت سے واقف ہوچکے ہیں، یہ کسی معجزے سے کم نہیں؟

لیمو گوٹھ میں فہد کا اسکول —تصویر سدرہ ڈار
لیمو گوٹھ میں فہد کا اسکول —تصویر سدرہ ڈار

ہم تعلیم کو عام کرنے اور ڈھائی کروڑ بچوں کے اسکول نہ جانے کا واویلہ کرتے رہتے ہیں، صوبائی حکومتیں بھی سالانہ رپورٹس میں یہ ظاہر کر رہی ہوتی ہیں کہ اب سرکاری اسکول آنے والے بچوں کی تعداد بڑھنے لگی ہے لیکن جو بنیادی فرق یہ ہے کہ سرکاری اسکول کی عمارت کھڑی انتظار کر رہی ہے کہ بچہ داخلہ لے۔ لیکن اس جیسے اسکول میں بچوں کو قائل کرکے لایا جارہا ہے۔

ان بچوں کے ماں باپ مجبور ہیں کہ وہ اپنے بچوں سے کمائی کروائیں تاکہ گھر کا چولہا جل سکے، وہ کیونکر اپنے بچوں کو اسکول بھیجیں گے۔ لیکن اگر کوئی اسکول اس میں پڑھنے والے بچے کو کھانا دے اور جیب خرچ بھی تو وہ بچہ کیوں نہ پڑھے، اس کی ماں اور باپ ایسی درسگاہ میں کیوں نہ بھیجے۔

جس سماج میں ہم جی رہے ہیں وہاں تنقید کرنا بے حد آسان ہے، الزام لگانا، بہتان بازی بہت سہل، ہم فُٹ پاتھ پر منشیات بکتے ہوئے، چرسیوں کا اوڑھنا بچھوڑنا تو دیکھ سکتے ہیں لیکن اسکول ہمیں ایک دھندہ لگتا ہے۔ اس تمام تر رسہ کشی کے باوجود اگر کسی فُٹ پاتھ پر میلے کُچیلے، بکھرے بالوں اور کُرسی پر بیٹھنے کی تمیز سے آزاد کوئی بچہ کاپی پر اپنا نام لکھ رہا ہے، رنگ بھر رہا ہے، گنتی سیکھ رہا ہے، اپنے کھانے کو دوست سے بانٹ رہا ہے اور کتابیں پینسلیں قرینے سلیقے سے بستے میں ڈال کر چھٹی پر ملنے والی جیب خرچ پر مسکرا کر تھینک یو کہہ رہا ہے تو یقین جانیے اس نے بہت کچھ سیکھ لیا، اس کو علم کی طرف لانے والی کوشش کامیاب ٹھہری.

اس شعور کی جیت ہوگئی جو اس بچے میں بیدار ہوگیا، کیونکہ ضرورت سب کچھ ہوتی ہے اور جہاں ضرورت اور خواہش ساتھ پوری ہو رہی ہو وہ ہی اسکول کامیاب ہے، لہٰذا ان اسکولوں کو چلنے دیا جائے، کچے ذہنوں کو کچھ بَننے کا خواب بُننے دیا جائے، کسی چھوٹی کا جوس پینے کا انتظار قائم رہنے دیا جائے، کسی کو ایک وقت پیٹ بھر کر کھانا کھانے کے بعد مسکرانے دیا جائے۔ اسے یہ سب ملنے کے بعد تعلیم سے محبت کرنے دی جائے۔