'عینک والا جن' کے زکوٹا جن انتقال کرگئے

ای میل

منالاہوری اور عینک والا جن میں ان کے ساتھ کام کرنے والے حسیب پاشا کی 2014 کے خیال فیسٹیول کی یادگار تصویر — پبلسٹی فوٹو
منالاہوری اور عینک والا جن میں ان کے ساتھ کام کرنے والے حسیب پاشا کی 2014 کے خیال فیسٹیول کی یادگار تصویر — پبلسٹی فوٹو

نوے کی دہائی میں ٹی وی ڈرامے عینک والا جن میں زکوٹا کے کردار سے شہرت پانے والے اداکار مطلوب الرحمن المعروف منا لاہوری انتقال کر گئے۔

منا لاہوری کو جمعہ کی شب طبعیت بگڑنے پر لاہور کے میو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا مگر ان کی حالت سنبھل نہیں سکی اور وہ انتقال کرگئے۔

منا لاہوری کچھ سال پہلے فالج کے حملے کا شکار ہوئے تھے اور اس کے بعد سے ان کی حالت کافی خراب تھی۔

وہ ذیابیطس کے مرض میں بھی مبتلا تھے اور مالی مشکلات کے باعث مناسب علاج کرانے سے قاصر تھے اور اسی وجہ سے خراب حالت میں بھی تھیٹر ڈراموں پر کام کرنے مجبور تھے۔

منا لاہوری کی انتقال کی غلط خبر 2015 میں بھی سامنے آئی تھی۔

اسی طرح 2015 میں بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے اداکار نے شکوہ کیا تھا کہ زندگی کے مشکل ترین دور میں فنکار برادری، آرٹس کونسل یا حکومت کی جانب سے ان کا حال پوچھنے کوئی نہیں آیا اور نہ ہی علاج و گزربسر کے لیے مدد کی۔

ان کا کہنا تھا ' وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے کبھی کبھار چیک مل جاتے ہیں مگر وہ بھی باقاعدگی سے نہیں ملتے'۔

اس انٹرویو میں ان کی اہلیہ رخسانہ کا کہنا تھا کہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے پرانا گھر چھوڑ کر انہیں لاہور کے غیر آباد علاقے میں منتقل ہونا پڑا جہاں آس پاس کوئی مکان نہیں تھا۔

خیال رہے کہ عینک والا جن اپنے دور کے مقبول ترین ڈراموں میں سے ایک تھا اور زکوٹا جن میں منا لاہوری کو بچوں نے بہت زیادہ پسند کیا تھا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں اس ڈرامے میں بل بتوڑی کا کردار ادا کرنے والی نصرت آرا بیگم کا بھی طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا تھا۔

انہیں بھی مالی مشکلات کا سامنا تھا اور آخری وقت تک حکومت سے امداد کی اپیل کرتی رہیں۔