• KHI: Clear 21.2°C
  • LHR: Partly Cloudy 11.6°C
  • ISB: Partly Cloudy 9.6°C
  • KHI: Clear 21.2°C
  • LHR: Partly Cloudy 11.6°C
  • ISB: Partly Cloudy 9.6°C

’پاکستان کو دہشت گردوں کے معاون ممالک کی فہرست میں کوئی شامل نہیں کرسکتا‘

شائع February 19, 2018

وزیر داخلہ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کے معاون ممالک کی فہرست میں کوئی شامل نہیں کرسکتا، عالمی برادری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری قربانیوں کا اعتراف کرے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم اپنے بجٹ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور اس جنگ میں ہونے والے تمام اخراجات خود اٹھا رہے ہیں لیکن چند ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو دہشت گردوں کی ‘واچ لسٹ’ میں ڈالنے کی تیاریاں

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انسداد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے غیر موثر حکمت عملی ہونے کی وجہ سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف) میں پاکستان کا نام شامل کرنے کے قرار داد پیش کرے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے خلاف امریکی قرارداد کو برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

بھارت کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزی جاری ہے، بھارت کو چاہیے کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے بجائے مسائل مذاکرات سے حل کرے۔

وزیر داخلہ احسن اقبال نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں ڈالنے کی درخواست سے متعلق کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے ای سی ایل کو استعمال کرنا ختم ہوچکا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور مریم نواز کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ‘پاکستان کو دہشت گردوں کے معاون ممالک کی واچ لسٹ میں ڈالنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا‘

انہوں نے کہا کہ ایک وقت میں ای سی ایل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے اور ہم ای سی ایل میں نام ڈالنے کی سفارش کا جائزہ لے کر ہی ان کا نام ڈالتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مختلف محکموں کی طرف سے لوگوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا کہا جاتا ہے لیکن ہم ٹھوس بنیاد پر ہی ان افراد کا نام اس فہرست میں ڈالتے ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 3 فروری 2026
کارٹون : 2 فروری 2026