سیکیورٹی کے نام پر موبائل فون سروس کی بندش غیر قانونی قرار

اپ ڈیٹ 26 فروری 2018

ای میل

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سیکیورٹی خدشات کے نام پر ملک بھر میں موبائل فون سروس بند کرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

وفاقی دارالحکومت کی عدالت کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 21 ستمبر 2017 کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے موبائل فون سروس کی بندش خلاف قانون اور اختیارات سے تجاوز ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں موبائل کمپنیوں اور ایک شہری کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: 9 اور 10 محرم: موبائل فون سروس بند رکھنے کا فیصلہ

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی کے نام پر اکثر موبائل فون سروس بند کر دی جاتی ہے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی حق تلفی ہے۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ موبائل فون سروس کی بندش پاکستان ٹیلی کمیونکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996ءکی خلاف ورزی ہے، لہٰذا اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

جس پر پی ٹی اے اور وفاق نے عدالت میں اپنا جواب جمع کرایا تھا، پی ٹی اے نے کہا تھا کہ وہ از خود موبائل فون سروس بند نہیں کرتی بلکہ حکومت کی جانب سے انہیں یہ ہدایات دی جاتی ہیں۔

عدالت میں وفاق کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ حکومت ٹیلی کام ایکٹ کی دفعہ 54(2) کے تحت سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر موبائل فون سروس بند کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

بعد ازاں عدالت نے تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جسے 26 فروری کو سنادیا گیا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں کئی مرتبہ سیکیورٹی خدشات کے نام پر موبائل فون سروس بند رکھی جاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 28 گھنٹوں بعد ملک میں سوشل سائٹس بحال

یاد رہے کہ گزشتہ برس اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد کے مقام پر مذہبی جماعت کے دھرنے کے دوران بھی موبائل فون سروس بند کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ 12 ربیع الاول، 9 اور 10 محرم کو بھی ملک کے مختلف حصوں میں یہ سروس بند رکھی گئی تھی، جس سے شہریوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔