سیمی خان! کپتان ہو تو تم جیسا

اپ ڈیٹ 02 مارچ 2018

ای میل

آخری 2 اوورز میں 22 رنز کی ضرورت ہے، ایک اہم بیٹسمین چوکا لگانے کے بعد آؤٹ ہوچکا ہے۔ 7 ویں نمبر پر کسی دوسرے بیٹسمین کو بھیجا جاسکتا تھا لیکن زخمی کپتان نے خود میدان میں اُترنے کا فیصلہ کیا۔

صرف 9 گیندوں پر 17 رنز کی ضرورت ہے اور دوسرے اینڈ پر ایک نوآموز کھلاڑی کھڑا ہے۔ کپتان میدان میں اُترنے سے پہلے کوچ کو کہتا ہے کہ مجھے صرف 3 ایسی گیندوں کی ضرورت ہے، جن پر میں چھکا لگا سکوں، اس لیے مجھے ہی جانا ہوگا۔ وہ میدان میں پہنچا، لنگڑاتے ہوئے ایک رن دوڑا اور ایک شاندار چھکے کے ساتھ اوور کا اختتام کیا۔

اگلے اوور میں وہ ایک ٹانگ پر چھلانگیں مارتا ہوا اسٹرائیک لینے میں کامیاب ہوا اور پھر ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے میچ کا فیصلہ کردیا۔

پڑھیے: پی ایس ایل 3، کچھ مثبت اور کچھ منفی پہلوؤں پر ایک نظر

جی نہیں، یہ کسی آنے والی فلم کا اسکرپٹ نہیں اور نہ ہی کسی جذباتی ناول کا اختتام ہے بلکہ ایک حقیقی داستان ہے پاکستان سپر لیگ میں پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اس مقابلے کی، جسے ہم بلاشبہ سیزن کا سب سے شاندار میچ کہہ سکتے ہیں۔

ڈیرن سیمی کی صرف 4 گیندوں پر 16 رنز کی یہ اننگز محض فاتحانہ ہی نہیں تھی بلکہ اسے تاریخ کی سب سے دلیرانہ اننگز میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اس اننگز نے ثابت کیا کہ آخر کرکٹ شائقین سیمی کو اتنا کیوں پسند کرتے ہیں؟ یہ اُن کی کھیل سے لگن، محبت اور احساسِ ذمہ داری ہی ہے جو اُنہیں اتنی محبوب شخصیت بناتی ہے کہ کسی نے کہا کہ ارباب نیاز اسٹیڈیم، پشاور کا نام بدل کر ڈیرن سیمی اسٹیڈیم رکھ دینا چاہیے۔

کپتان نے زخمی ہونے کے باوجود خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا
کپتان نے زخمی ہونے کے باوجود خود میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا

یہ شارجہ میں ویک اینڈ تھا اور تماشائیوں کی بہت بڑی تعداد میدان میں موجود تھی، جنہیں اس سیزن کا سب سے بہترین میچ دیکھنے کو ملا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے شین واٹسن کے 47 اور رائلی روسو کے 37 رنز کی بدولت 141 رنز بنائے جو بہت بڑا ٹوٹل نہیں تھا اور اس کا دفاع کرنا ایک مشکل کام تھا۔ جواب میں پشاور 15 اوورز میں ہی 100 رنز کا ہندسہ عبور کر چکا تھا۔ اسے باقی 30 گیندوں پر صرف 35 رنز کی ضرورت تھی اور 8 وکٹیں ابھی باقی تھی۔ لیکن یہاں پر 3 اوورز میں صرف 13 رنز بنے اور محمد حفیظ اور تمیم اقبال بھی یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوگئے۔

منظرنامہ یکدم تبدیل ہوچکا تھا۔ یہاں پر جو سب سے بڑا مسئلہ تھا وہ یہ کہ اگلا آنے والا بیٹسمین کون ہوگا؟ ڈیرن سیمی زخمی تھے اور جب 2 اوورز میں 22 رنز کی ضرورت تھی تو اس وقت وہ پیڈ بھی نہیں پہنے ہوئے تھے۔

لیکن یہاں پر انہوں نے ایک بہت بڑا فیصلہ کیا۔ شبیر رحمان ایک چوکا لگانے کے فوراً بعد چھکا رسید کرنے کی کوشش میں وکٹ دے گئے تو وہ لنگڑاتے ہوئے، دھیرے دھیرے میدان میں آئے اور پھر زخمی شیر کی طرح حریف پر جھپٹ پڑے۔

4 گیندوں پر 16 رنز کی یہ اننگز محض فاتحانہ ہی نہیں تھی بلکہ اسے تاریخ کی سب سے دلیرانہ اننگز میں شمار کیا جاسکتا ہے
4 گیندوں پر 16 رنز کی یہ اننگز محض فاتحانہ ہی نہیں تھی بلکہ اسے تاریخ کی سب سے دلیرانہ اننگز میں شمار کیا جاسکتا ہے

پاکستان سپر لیگ میں ہمیشہ کراچی اور لاہور کے مقابلے کا ہنگامہ ہوتا ہے لیکن اگر کسی میچ کو ’دیووں کا مقابلہ‘ یا Clash of Titans کہا جاسکتا ہے تو وہ ہمیشہ پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا رہا ہے۔ ایک تو یہ کہ دونوں پی ایس ایل تاریخ کی کامیاب ترین ٹیمیں ہیں، اور دوسری اہم بات یہ کہ ابتدائی دونوں سیزنز میں یہ پہلے اور دوسرے نمبر پر رہیں اور اُن کا جب بھی ٹکراؤ ہوا تو سنسنی خیزی اپنی انتہاؤں کو پہنچی۔ اسی سے اندازہ لگا لیں کہ پہلے اور دوسرے سیزنز کے کوالیفائر مقابلے کوئٹہ نے صرف ایک، ایک رن سے جیتے تھے۔

پڑھیے: کیا پشاور زلمی اعزاز کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟

2016ء میں جب یہ ٹاپ کی 2 ٹیمیں پہلے کوالیفائنگ فائنل میں ٹکرائی تھیں تو پشاور کو صرف 133 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن 62 رنز پر 5 کھلاڑیوں کے آؤٹ ہوجانے کے بعد یہ ڈیرن سیمی ہی کی اننگز تھی جو مقابلے کو آخری مرحلے تک لے آئی۔ اگر سیمی 18ویں اوور کی آخری گیند پر آؤٹ نہ ہوتے تو یقیناً وہ بازی پشاور زلمی کی ہوتی اور آج شاید تاریخ مختلف ہوتی۔ لیکن سیمی 29 گیندوں پر 38 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوگئے اور پشاور صرف ایک رن سے وہ مقابلہ ہار گیا۔

2017ء میں بھی یہی ہوا۔ کوئٹہ اور پشاور سرِفہرست رہے، پہلے کوالیفائر میں ٹکرائے لیکن اس بار یہ لو-اسکورنگ مقابلہ نہیں تھا۔ کوئٹہ کے 200 رنز کے جواب میں پشاور نے صرف 3 رنز پر 2 وکٹیں گرنے کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور ڈیوڈ ملان اور محمد حفیظ کی مدد سے مقابلے کو آخری مرحلے تک پہنچایا۔

اگر 19ویں اوور میں شاہد آفریدی آؤٹ نہ ہوتے تو شاید نتیجہ بھی مختلف ہوتا۔ سیمی نے پوری کوشش کی لیکن آخری اوور میں چوکا لگانے کے بعد تیسری گیند پر ایک رن لینا مہنگا پڑگیا۔ انہیں دوبارہ اسٹرائیک ہی نہ مل سکی۔ آخری تینوں گیندوں پر وکٹیں گریں اور وہ دوسرے اینڈ سے منہ دیکھتے رہ گئے۔ پشاور ایک مرتبہ پھر صرف ایک رن سے مقابلہ ہار گیا۔

اس مرتبہ سیمی نے سوچا ہوگا کہ اب وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے اور اُنہوں نے زخمی ہونے کے باوجود جرات کی ایسی داستان رقم کی، جسے مدتوں یاد رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ دفاعی چیمپیئن پوائنٹس ٹیبل پر کافی خراب حال میں تھا۔ پشاور نے اپنے ابتدائی 3 مقابلوں میں سے صرف ایک جیتا تھا اور یہاں ایک اور شکست پشاور کے لیے بہت بڑی آزمائش بن جاتی۔ لیکن سیمی کی یہ اننگز اور یہ کامیابی پشاور کے حوصلے پھر سے بلند کرگئی ہے۔

اب عالم یہ ہے کہ کراچی کنگز تو 6 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے لیکن اس کے بعد کوئٹہ، ملتان اور پشاور تینوں کے 4، 4 پوائنٹس ہیں اور فرق ہے صرف نیٹ رن ریٹ کا۔ اگر اسلام آباد اور لاہور اپنے اگلے چند مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں تو لیگ بہت ہی دلچسپ مرحلے میں داخل ہوجائے گی۔