میرا ننھا بھانجا ’مانا‘ جب بھی مجھے اخبار پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو ہمیشہ کسی نہ کسی تصویر پر انگلی رکھ کر پوچھتا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ اور میں اسے آسان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن وہ پھر بھی تجسس سے بھرے کیا، کیوں، کیسے کے بہت سے سوالات پوچھتا جاتا ہے اور میں جواب دیتا چلا جاتا ہوں۔

چند دن پیش تر اس نے فلسطین کی ایک تصویر کے بارے میں پوچھ لیا، پھر وہی سوالات کا ایک ناختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا... کہ فوجی پستول کیوں تانے ہوئے ہیں اور مظاہرین غلیلیں کیوں چلا رہے ہیں؟ اکثر وہ ظالموں کے کردار کے حوالے سے مطمئن نہیں ہو پاتا، اُسے سمجھ نہیں آتا کہ ظالم آخر کیوں کسی پر ظلم کرتا ہے؟

آج کل اخبار میں شام کی بھی خبریں شائع ہو رہی ہیں اور مجھے فکر لگی رہتی ہے کہ اگر بھانجے نے ان خبروں کے ساتھ چھپی ظلم و ستم اور بربریت کی داستان سناتی تصویروں سے متعلق سوال کردیا تو میرے لیے اسے مطمئن کرنا مشکل تر ہوجائے گا۔

7 برس بیت گئے، شام کے المیوں کی ’شام‘ ہی نہیں ہو پا رہی۔ اس مقدس سرزمین پر مسلسل انسانیت روندی جا رہی ہے، روزانہ قیامت گزر رہی ہیں، مگر فتح و شکست کی جانے کون سی بازی ہے جس میں مات اگر کسی کو ہو رہی ہے تو وہ صرف اور صرف انسانیت ہے۔

پڑھیے: شام کب تک جلتا رہے گا؟

چند دن قبل برطانیہ میں واقع ‘سرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ نامی تنظیم نے شام کی 7 سالہ خانہ جنگی میں اموات کے اعداد و شمار پیش کیے، جس کے مطابق 7 برسوں کے دوران 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔ ان میں شہریوں کی تعداد 1 لاکھ 6 ہزار 390 ہے، جبکہ ان میں سے بچوں کی تعداد 19 ہزار 811 اور خواتین کی تعداد 12 ہزار 513 ہے۔

مفادات کے ٹھیکے دار ممالک اگر وہاں مخل ہیں، تو شاید وہ بھی اپنے ہاتھ لہو رنگنے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شام میں پہلے گروہ سے بچ جانے والوں کو دوسرا اور دوسرے سے بچ جانے والے کو تیسرا فریق قتل کردینے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔ شام جیسے چھوٹے سے ملک میں مسلسل 7 برس تک بدترین خانہ جنگی کے باوجود ساری دنیا غافل ہے، مسلمانوں کا ذکر کیا کیجیے، کہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دراصل ’مسلمان‘ کہلانے والوں کی جانب سے ہی ہے۔

وہیں ایک خبر میں شامی علاقے ’مشرقی غوطہ‘ میں روزانہ 5 گھنٹے جنگ بندی کا مژدہ سنایا گیا۔ مجھے یہاں ’جنگ بندی‘ کا لفظ کوئی تمسخر کی طرح معلوم ہوا، دراصل یہ اعلان جنگ بندی نہیں بلکہ کھنڈر بن جانے والی اُس دھرتی میں دن کے 19 گھنٹے آگ وخون کا کھیل جاری رکھنے کی منادی تھی!

اس ’جنگ بندی‘ کے ’قیمتی‘ 5 گھنٹے صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک بتائے گئے، گویا خلقت شام کو خبر دی گئی کہ 19 گھنٹے کی مسلسل قیامت کے بعد اگر زندہ رہو تو جی لینا... مگر صرف 9 سے 2 تک!

بچ جانے والے ستم رسیدوں کو ان 5 گھنٹوں کی آزادی ہے کہ اس دوران کوئی بم یا گولی ان پر نہ داغی جائے گی، اس لیے اگر وہ چاہیں تو اس ’امن‘ میں خود شہید ہونے کے خطرے سے بے پروا ہوکر اپنے ’شہیدوں‘ کو سہولت سے دفنا لیں اور خوب آہ و زاری بھی کرلیں، انہیں پوری طرح ’چھوٹ‘ دی جائے گی!

شانتی کے ان لمحوں میں وہ چاہیں تو چائے ناشتا کریں بشرطیکہ میسر ہو اور دوپہر کا کھانا تیار کرکے کھائیں اور ’تازہ دم‘ ہو لیں، آخر 19 گھنٹے پھر سے بارود برسنا ہے۔ بے گناہوں میں اگر بھوک و فاقہ کشی کے مارے جان ہی نہ ہوگی تو انہیں قتل کرنے میں بھلا کیا خاک ’لطف‘ آئے گا؟ دنیا کیا کہے گی کہ فاقہ زدہ لوگوں کو فنا کے گھاٹ اتاردیا... آخر کو کوئی ’انسانیت‘ بھی ہوتی ہے!

پھر 19 گھنٹے کی قیامت کے بعد باقی رہ پاؤ تو پھر نکلو اور مہلت امن میں موت کے سائے میں موت جیسی زندگی کا ذائقہ چکھو!

صبح کے 9 بج گئے ہیں، گویا مسلسل 19 گھنٹے بارود اگلنے والے دہانے تھک گئے ہیں، اُنہیں بھی ذرا دم لینے دو، وہ کوئی خلقِ خدا تو نہیں مشینیں ہیں!

پڑھیے: شام: غوطہ میں بمباری سے عمارتیں تباہ، ہلاکتوں کی تعداد 1102 سے تجاوز

اب مہلت شروع ہوگئی ہے، تو اُٹھو، اگر زندہ ہو تو پھر روزانہ کی طرح اپنے سارے ’معمولات‘ نمٹاؤ، جلدی جلدی اپنے زخم صاف کرو اور دیکھو دھرتی کے سینے پر کسی گھاؤ سے کہیں کوئی پھایا ہٹ گیا ہے تو اس پر بھی مرہم رکھ دو کہ اگلے 19 گھنٹے اس کی چھاتی پر پھر انسانیت کے جانے کتنے اور لاشوں نے تڑپنا ہے۔

یہ اُن بدنصیبوں کے لاشے ہوں گے، جو ایک گروہ کے مظلوم ہیں اور دوسرے کے ظالم، جیسا کہ اس دھرتی میں 7 برس سے ہو ہی رہا ہے۔ انہی لاشوں پر تو کبھی ایک گروہ آہ و زاری کرتا ہے، تو دوسرا اسے ’فتح‘ سے تعبیر کرتا ہے، اور جب دوسرے کی آہیں اُبھرتی ہیں تو پہلا گروہ سرخرو ہونے کی منادی کرنے لگتا ہے، دونوں مرتبہ اگر کسی کی شکست ہوتی ہے تو وہ خلقِ خدا ہے!

ایسا لگتا ہے کہ اس نگر میں آگ و خون کا یہ خوفناک کھیل اُس وقت تک نہیں تھمے گا، جب تک فتح و شکست کی بازی ایسے بھیانک ترین موڑ پر پہنچ جائے گی جب بارود کی ڈسی دھرتی پر خاکم بدہن صرف کھنڈرات اور فقط کھنڈرات رہ جائیں گے۔