رضوان طاہر مبین

رتن تلاؤ کی مندر والی گلی

ہر ہفتے کسی مخصوص دن رتن تلاؤ کی مندر والی گلی میں واقع نانی کے گھر جانا کسی تہوار کی طرح ہوا کرتا تھا۔ اپ ڈیٹ اگست 10, 2019 10:53am

کہیں بھی تو 1992ء نہیں!

وہ لوگ وہ زمانہ نہیں۔ وہ زندگی اور وہ رنگ نہیں، دنیا بہت تیزی سے تبدیل ہوچکی اور ناجانے مزید کیا کچھ اتھل پتھل ہونا ہے۔ اپ ڈیٹ جولائ 08, 2019 11:11am

’ب سے برگر... پ سے پیزا!‘

'بچے کو اسکول میں ’اردو لٹریچر‘ کی کاپی لانے کو کہا جاتا ہے، حالانکہ لٹریچر کے بجائے ’نثر‘ کتنا سہل لفظ ہے۔ٔ شائع فروری 26, 2019 11:43am

پھر پہلی کے چاند کو کون پوچھے گا؟

اگر ’رویت ہلال کمیٹی‘ اٹھ گئی تو ’رویت‘ جیسا اردو کا ایک بہت خوبصورت لفظ ہماری عام بول چال سے بالکل ہی نکل جائے گا! شائع جنوری 19, 2019 11:34am

ہم صحافی بھی رو دیتے ہیں!

ہمیں قارئین کی طرح اخبار کا صفحہ تہہ کرکے ایک طرف رکھنے، چینل، کمپیوٹر یا موبائل کی اسکرین بدلنے کی سہولت نہیں ہوتی! شائع دسمبر 08, 2018 10:03am

’نقش سارے مٹا ڈالے تھے گولی نے!‘

’حکیم سعید اس دیس کے ہر دشمن کے چہرے سے نقاب نوچ رہے تھے۔ ان کی کتابیں مجھے اُن پر کسی ’فرد جرم‘ کی طرح معلوم ہوتی ہیں۔‘ شائع اکتوبر 17, 2018 10:24am

منشور کو عزت دو!

منشور پر بات کرنے کا وقت تو اب ہی شروع ہوا ہے، کیونکہ ان وعدوں پر عمل کا وقت آچکا جو انتخابات سے پہلے کیے گئے تھے شائع ستمبر 08, 2018 10:34am

ایم کیو ایم: 1992ء سے 2018ء تک

ایم کیو ایم میں داخلی انتشار، قیادت کی پے در پے غلطیاں، بدعنوانیاں اور مایوسیوں نے بھی معاملے کو بہت حد تک خراب کیا ہے شائع جون 19, 2018 11:12am

ارے اپنا ہوگا تو مارے گا ہی کیوں؟

سیاست بھی لوگوں کےاپنے پن کےتذکروں سے خالی نہیں۔ یہاں لوگ اپنا بن کر حق جتانے کی ایسی کوشش کرتےہیں کہ بس دیکھتےچلےجائیے۔ شائع مئ 27, 2018 09:52am