پشاور-کوئٹہ پلے آف مقابلے اور داستان صرف ایک رن کی!

21 مارچ 2018

ای میل

سری لنکا میں ہونے والی ندہاس ٹرافی کے فائنل میں ہم نے چند روز پہلے ہی دنیش کارتھک کو دیکھا تھا جب بھارت کو آخری گیند پر 5 رنز کی ضرورت تھی، اور 32 سالہ کارتھک نے آخری گیند پر چھکا لگا دیا تھا جس کے بعد بھارتی کارتھک کے دیوانی ہوگئے، اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ بھارتیوں نے پہلی بار آخری گیند پر چھکے کے ذریعے ملنے والی فتح کا مزا چکھا ہے۔

ہم تو 32 سال سے جاوید میانداد کے شارجہ والے چھکے کی یادیں تازہ کر رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ہمارے پاس 2014ء میں ہونے والے ایشیاء کپ میں بھارت کے خلاف شاہد آفریدی کے 2 گیندوں پر 2 چھکے بھی ہیں یا پھر پاکستان سپر لیگ 2017ء میں کراچی کنگز کے کیرون پولارڈ کے لاہور قلندرز کے خلاف آخری گیندوں پر 2 جاندار چھکے۔ بس اگر کسی چیز کی کمی تھی تو وہ وہ تھی کارلوس بریتھویٹ جیسی اننگز کی جنہوں نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کے فائنل میں بین اسٹوکس کی 4 گیندوں پر مسلسل 4 چھکے لگائے تھے اور اس کے بہت قریب پہنچ گئے تھے انور علی۔ لیکن…!

پاکستان سپر لیگ میں ایک مرتبہ پھر ٹکراؤ ہوا پشاور زلمی اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا۔ دونوں ٹیمیں جب بھی پی ایس ایل کے پلے-آف مرحلے میں ٹکرائی ہیں، سنسنی خیزی کی انتہائیں توڑی ہیں۔ پہلے سال، یعنی 2016ء میں کوئٹہ 133 رنز کا دفاع کرتے ہوئے ایک رن سے جیتی تھی۔ یہی نہیں بلکہ دوسرے سیزن میں 200 رنز بنانے کے بعد پشاور کو ایک رن سے شکست دی۔ دونوں مرتبہ ان کا مقابلہ کوالیفائر میں ہوا تھا، لیکن اِس بار پشاور-کوئٹہ ٹکراؤ ایلی منیٹر میں تھا، یعنی جو ہارا وہ باہر!

لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں پشاور کو پہلے کھیلنے کی دعوت ملی۔ کوئٹہ کے راحت علی کی عمدہ باؤلنگ اور پشاور کے لیام ڈاسن کی عمدہ بیٹنگ کے ساتھ پہلی اننگز مکمل ہوئی تو اسکور بورڈ پر 157 رنز موجود تھے۔

تعاقب میں کوئٹہ کی ٹیم ابتدائی نقصان کے باوجود سنبھل گئی۔ 9 اوورز میں صرف 2 وکٹوں پر 79 رنز بن چکے تھے یعنی آخری 11 اوورز میں صرف 79 رنز کی ضرورت تھی۔ سرفراز احمد اور محمد نواز کریز پر جمے ہوئے تھے، تب نوجوان ثمین گل کے ایک اوور نے مقابلے کو پہلی بار پلٹا۔ مسلسل 2 گیندوں پر نواز اور سرفراز کی اننگز ختم ہوئیں اور پھر ابر آلود موسم میں جب دیوانہ وار سوئنگ ہو رہا تھا، تب نہ محمود اللہ چلے، نہ رائلی روسو اور نہ ہی مردِ بحران تھیسارا پیریرا۔ آخری 5 اوورز میں 46 رنز کی ضرورت تھی تو عمید آصف نے محمود اللہ اور رائلی روسو کو آؤٹ کردیا اور 19ویں اوور میں حسان خان سمیت پیریرا کی وکٹ بھی گئی۔ مقابلے کا فیصلہ تقریباً ہوچکا تھا جب کوئٹہ کو آخری اوور میں 25 رنز درکار تھے۔

انور علی کریز پر موجود تھے، اب تک وہ 8 گیندوں پر اندھا دھند بلّہ گھماتے ہی نظر آئے تھے اور ایک بار بھی ان کے بلّے سے گیند باؤنڈری لائن تک نہیں پہنچی تھی۔ ڈیرن سیمی تمام اہم باؤلرز سے اوورز کروا چکے تھے اور چاروناچار انہیں آخری اوور لیام ڈاسن کو تھمانا پڑا۔

بیٹنگ میں جوہر دکھانے والے ڈاسن کو اب باؤلنگ میں کچھ کرنا تھا لیکن انور علی ہیلمٹ اتار کر کسی اور جہان میں پہنچ چکے تھے۔ پہلی گیند آئی، بلّا گھوما، گیند نے باہری کنارہ لیا اور تھرڈ مین کی طرف چوکے کے لیے نکل گئی۔ پھر وہ ہونے لگا جو بریتھویٹ نے بین اسٹوکس کے ساتھ کیا تھا، اگلی 4 گیندوں پر انور علی نے 3 چھکے لگا دیے۔

پشاور کے پرستار، جن کی آنکھیں جیت کو قریب دیکھ کر چمک رہی تھیں، سر پکڑ کر بیٹھ گئے جبکہ کوئٹہ والے انہونی کو ہوتا دیکھ رہے تھے۔ آخری گیند پر درکار 3 رنز کے لیے انور علی کے پاس موقع تھا بریتھویٹ بننے کا، گیند آئی، وہ پھر آگے بڑھے، بلّا گھمایا، گیند ہوا میں اٹھی اور لانگ آن پر کھڑے عمید آصف نے ایک آسان کیچ چھوڑ دیا۔ یہاں کام آیا 33 سالہ عمید کا تجربہ، اس نازک ترین مرحلے پر کیچ چھوڑنے کے باوجود انہوں نے حواس نہیں کھوئے۔ فوری طور پر گیند کو باؤنڈری لائن تک جانے سے روکا، واپس پھینکا اور نان-اسٹرائیکنگ اینڈ پر رن آؤٹ لینے میں کامیاب ہوگئے۔ پشاور صرف ایک رن سے جیتنے میں کامیاب ہوگیا اور ہم یہ آواز سننے سے محروم رہ گئے "Anwar Ali! Remember the name!"

اس مرحلے پر جہاں عمید آصف کی تجربہ کاری کام آئی، وہیں میر حمزہ کی ناتجربہ کاری و غائب دماغی نے کوئٹہ کو سپر اوور تک نہ پہنچنے دیا۔ وہ بروقت دوسرا رن نہیں دوڑ پائے اور میچ ٹائی نہ ہوسکا۔

یوں پشاور نے بالآخر پی ایس ایل تاریخ میں پلے-آف مرحلے میں کوئٹہ کے ہاتھوں ایک رن کی 2 شکستوں کا بدلہ لے لیا، وہ بھی اس طرح کہ کوئٹہ کو مقابلے کی دوڑ سے ہی باہر کردیا۔ اب گلیڈی ایٹرز پہلی بار پی ایس ایل فائنل میں نظر نہیں آئیں گے۔ البتہ پشاور کا امتحان ابھی باقی ہے۔ انہیں فائنل تک پہنچنے سے پہلے ’زخمی شیر‘ کراچی کنگز کا سامنا کرنا ہے۔ کیا زندہ دلانِ لاہور کو ایک اور اعصاب شکن مقابلہ دیکھنے کو ملے گا؟

یہ فیصلہ آج ہی ہوجائے گا!