بھارتی میڈیا پیسوں کے عوض ’جھوٹی خبریں‘ چلانے لگا

اپ ڈیٹ 27 مارچ 2018

ای میل

بھارت میں متعدد میڈیا اداروں کی طرف سے بھاری رقوم کے عوض جھوٹی اور پروپیگنڈا پر مبنی خبریں چلانے کا بھانڈا پھوٹ گیا۔

بھارتی تحقیقاتی ویب سائٹ کوبرا پوسٹ نے 7 ٹی وی چینلز، 6 اخبارات اور 3 ویب سائٹس کے ساتھ ’آپریشن 136‘ کے نام سے اسٹنگ آپریشن کیا، جس میں انہیں بھاری رقم کے عوض خبریں تیار اور نشر کرنے پر رضا مندی ظاہر کرتے دکھایا گیا۔

ان میڈیا اداروں میں ’انڈیا ٹی وی‘، ’ڈیلی نیوز اینڈ انالیسز (ڈی این اے)‘ اور ’سَب ٹی وی‘ جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔

دیگر اداروں میں ڈینِک جاگرَن، ہندی خبر، امَر اُجالا، یو این آئی، نائن ایکس ٹَشن، سماچار پلَس، ایچ این این ٹوئنٹی فور سیون، پنجاب کیسری، سواتَنترا بھارت، اسکوپ ہوپ، ریڈِف ڈاٹ کام، انڈیا واچ، آج اور سَدھنا پرائم نیوز شامل ہیں۔

تحقیقاتی ادارے نے اپنی ویب سائٹ پر اس اسٹنگ آپریشن کے دوران مختلف میڈیا اداروں کے افسران سے ملاقات کے دوران بنائی گئی خفیہ ویڈیوز بھی جاری کیں۔

ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوبرا پوسٹ کے انڈر کور رپورٹر نے ان میڈیا اداروں کے مالکان اور اعلیٰ سطح کے افسران سے ملاقات کی اور انہیں 2019 میں بھارت کے عام انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے ’ہندوتوا‘ نظریے کی حمایت میں مہم چلانے اور متعدد اپوزیشن رہنماؤں اور وزراء کو بدنام کرنے کے عوض اشتہارات اور بھاری رقم کی پیشکش کی۔

ان میڈیا اداروں کو قانونی شخصیات، احتجاجی کسانوں کو باؤ باغی ظاہر کرنے اور عدالتی احکامات پر سوالات اٹھانے کے عوض بھی رقم کی پیشکش کی گئی۔

کوبرا پوسٹ کے مطابق جن میڈیا اداروں کے ساتھ اسٹنگ آپریشن کیا گیا ان میں سے تقریباً سب سے اس جھوٹ اور نفرت آمیز مہم کا حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کی۔

ان اداروں نے ہندو قوم پرست کا روپ دھار کر آپریشن کرنے والے رپورٹر کے نہ صرف ’ہندوتوا‘ پھیلانے کے منصوبے کو سراہا بلکہ اسے مزید نفرت آمیز بنانے کے حوالے سے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

واضح رہے کہ تحقیقاتی ادارے نے میڈیا اداروں کے ساتھ اس آپریشن کے پہلے مرحلے کی تفصیلات جاری کی ہیں، الگے مرحلے کے انکشافات اپریل میں کیے جائیں گے۔