روپلو کولہی سے کرشنا کولہی تک

اپ ڈیٹ 01 مئ 2018

ای میل

سینیٹر کرشنا کولہی صحرائے تھر کے شہر ننگرپارکر سے تعلق رکھتی ہیں۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے اُن کو سینیٹ کا ٹکٹ ملتے ہی الیکٹرانک میڈیا، اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس پر ایک طوفان برپا ہوگیا، جسے پڑھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ کرشنا کولہی کے سینیٹ کا ممبر بننے کے بعد نچلی ذات کے ہندوؤں کی زندگی میں ایک انقلاب برپا ہوجائے گا اور راوی مستقبل میں نچلی ذات کے ہندوؤں کے لیے چین ہی چین کا ورد کرے گا۔

کرشنا کولہی بہت ہی سادہ دل خاتون ہیں، جب سینیٹ کی ممبر منتخب ہونے کے بعد 12 مارچ 2018ء کو حلف لے کر وہ ایوان بالا سے باہر نکلیں تو انہوں نے جذبات کی رو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کولہی برادری کو نمائندگی دی گئی ہے۔‘

کرشنا کولہی نے کہا کہ وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب، آصف علی زرداری صاحب اور، ادی (بہن) فریال تالپور کی بہت احسان مند ہیں جنہوں نے انہیں اِس قابل سمجھا اور کولہی برادری کو نمائندگی دی۔ یہاں ہم کرشنا کولہی کی معلومات میں اضافہ کرنا چاہیں گے، کیونکہ کولہی برادری کو پہلی بار قومی اسمبلی میں نمائندگی 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں حاصل ہوئی تھی، اور ان کے نمائندے پارومل ’پریم پارکری‘ سابق پرائمری ٹیچر، رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

اس اسمبلی میں نچلی جاتی کے وہ تنہا نمائندے نہیں تھے بلکہ میرپورخاص سے گل جی میگھواڑ بھی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ ان انتخابات میں پاکستان کے انقلابی کمیونسٹ رہنما سوبھو گیانچندانی نے بھی میں حصہ لیا تھا اور عام رائے یہ ہے کہ وہ انتخابات میں کامیاب ہوئے تھے لیکن بھلا ضیاء الحق جیسا راسخ العقیدہ مسلمان یہ کہاں برداشت کرسکتا تھا کہ ایک ہندو کمیونسٹ قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوکر اسمبلی میں مظلوموں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرے، اس لیے انتخابات کا جب نتیجہ آیا تو وہ ناکام ہوگئے۔

بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی، ہم بات کر رہے تھے کرشنا کولہی کی جو اب ایوانِ بالا کی رکن ہیں۔ سینیٹ کے پہلے اجلاس میں ان کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ وہ کولہیوں کے روایتی لباس میں شریک ہوئیں جبکہ نومنتخب چیئرمین سینیٹ سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں سے منتخب ہونے والے سینیٹ اراکین کے لباس کا جائزہ لیں تو کوئی بھی ہمیں اپنے روایتی لباس میں نظر نہیں آیا۔ گُمانِ عام ہے کہ سینیٹ وہ ادارہ ہے جہاں تمام صوبوں کی یکساں نمائندگی ہے۔

کرشنا کولہی —تصویر اے پی
کرشنا کولہی —تصویر اے پی

خیر، کرشنا کولہی کا ذکر تو ہوگیا، مگر اب ہم ذکر کریں گے روپلو کولہی کا جو سندھ کی سیاسی تاریخ میں بغاوت کی علامت ہیں۔ پارو مل پریمی اپنی کتاب ’لوک ساگر کے موتی‘ میں ان کا ذکر یوں کرتے ہیں کہ،

‘روپلو کولہی پارکر کے ایک بہادر ہیرو، تعلقہ ننگر پارکر کی گاؤں کنبھاری کے باسی تھے۔ ان کے والد کا نام سامت اور والدہ کا نام کیسر بائی تھا۔ ان کی والدہ کے لیے کہا جاتا ہے کہ جب ہندوستان کے مشہور ڈاکو ٹھاکر بلونت سنگھ چوہان نے پارکر میں پناہ لی، اُس وقت اس نے روپلو کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ روپو ہمارا بھانجا ہے کیونکہ اُن کی ماں چوہان ذات سے تعلق رکھتی تھی۔ کوئی کوئی موتی کا دانہ ہوتا ہے اور شیروں کا غول نہیں ہوتا۔ اس نے انگریز ٹروٹ سے لڑتے ہوئے پارکر کی دھرتی اور ٹھاکروں کے لیے اپنی جان قربان کردی۔ ہندوؤں میں رواج ہے کہ گاؤں کے رہائشی میگھواڑوں سے لیکر برہمن تک ہر لڑکی کو بیٹی سمجھا جاتا تھا۔ غالباً بلونت سنگھ نے اسی روایت کی پاسداری کی۔ روپلو کولہی نے نہ صرف انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی تھی بلکہ وہ مقامی حکمرانوں کے بھی خلاف تھا۔

پڑھیے: بحر گر بحر نہ ہوتا، تو بیاباں ہوتا

روپلو کولہی کی ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کا آغاز اُس وقت ہوا جب اُس نے پارکر کے ٹھاکروں کے خلاف آواز اٹھائی۔ یہ کہانی کچھ یوں ہے کہ، لادھو سنگھ اور اس کے بیٹوں نے اپنی جاگیر کے علاوہ آس پاس کے گاؤں میں بسنے والے تمام افراد کے لیے حکم جاری کیا کہ وہ اپنے جانوروں سے حاصل ہونے والے دودھ کا ایک حصہ دربار کو فراہم کریں۔ اس وقت افیم کھانے کا رواج عام تھا۔ صبح شام پیالے بھر بھر کے افیم پی جاتی تھی، جس کے باعث ٹھاکروں کو دودھ اور دہی کی بہت زیادہ طلب ہوتی تھی۔ دباؤ میں آکر لوگوں نے دودھ بچانا شروع کردیا تھا، لوگوں کے گھروں میں لسی بلونا بند ہوگیا، دودھ، دہی اور لسی کے لیے معصوم بچوں نے رونا پیٹنا شروع کردیا۔ آخرکار علاقے کے لوگوں نے تنگ آکر آپس میں مشورہ کیا اور طے کیا کہ کنبھاری چل کر روپلو کولہی سے ٹھاکروں کے اس حکم کی شکایت کی جائے۔

روپلو کولہی پارکر کے ایک بہادر ہیرو، تعلقہ ننگر پارکر کی گاؤں کنبھاری کے باسی تھے
روپلو کولہی پارکر کے ایک بہادر ہیرو، تعلقہ ننگر پارکر کی گاؤں کنبھاری کے باسی تھے

اگلے روز تمام علاقہ مکین روپلو کولہی کے پاس شکایت کے لیے پہنچ گئے۔ روپلو نے تمام لوگوں کا استقبال کیا اور ان کی بات کو ہمدردی و غور سے سُنا۔ روپلو نے سمجھ لیا کہ ٹھاکروں کے ساتھ اس حکم کے خلاف دو، دو ہاتھ کرنے پڑیں گے۔ اس نے موچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے حاضرین سے کہا کہ دودھ کی فراہمی بند کردیں اور سوڈھوں (ٹھاکروں) کو کہیں کہ دودھ کی فراہمی روپلو نے بند کروائی ہے۔ اس واقعے کی خبر جب سوڈھوں (ٹھاکروں) کو ہوئی تو وہ آگ بگولا ہوگئے اور اپنے حواریوں سمیت مسلح ہوکر کنبھاری جا پہنچے۔

روپلو پہلے ہی تیار تھا، وہ بھی کنبھاری سے کچھ فاصلے پر اپنے مسلح ساتھیوں سمیت ان کے مدِمقابل آپہنچا۔ روپلو نے ٹھاکروں سے کہا کہ راجاؤں کی یہ ریت نہیں جیسا آپ کر رہے ہو۔ آپ لوگوں نے غریب لوگوں کے دودھ سے بھرے برتن اُلٹ دیے ہیں۔ جانور تو جانور لوگ بھی آپ کو دودھ دے دے کر بیزار ہوگئے ہیں۔ آپ لوگوں نے معصوم بچوں کو دودھ اور لسی سے محروم کرکے قہر برپا کردیا ہے۔ بچوں کی چیخیں کوسوں دُور سنائی دیتی ہیں۔ اس ظلم کے سبب رعایا مصیبتوں میں مبتلا ہے۔

وہاں لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ کسی ایک دانش مند شخص نے یہ سارا معاملہ دیکھ کر ٹھاکروں کو ایک جانب لے جاکر انہیں مشورہ دیا کہ اچھا یہی ہوگا کہ روپلو سے مزاحمت کے بجائے اسے آشیرواد دے کر اپنا بنالو کیونکہ یہ بہادر کولہی کبھی بھی کام آسکتا ہے۔ ٹھاکروں نے عقل مندی سے کام لیتے ہوئے روپلو کو گلے لگایا اور اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگ کر واپس لوٹ گئے۔ اس واقعے کے بعد روپلو کی شان میں اضافہ ہوا اور وہ کولہیوں کا قومی سردار کہلانے لگا۔

پارو مل پریمی اپنی کتاب میں صفحہ نمبر 28 پر لکھتے ہیں کہ، ’1857ء کے آخری عشرے میں بلوے کی آگ بجھ گئی، لیکن جاگیرداروں، نوابوں، مقامی ریاستوں اور وطن پرستوں کی دلوں میں آزادی کے دیپ جگمگا رہے تھے۔ اس بات کا اثر پارکر پر بھی ہوا، پارکر کے سوڈھے (ٹھاکر) بے پروا ہوکر اپنی راہ پر چل رہے تھے۔ انگریز اہلکاروں کے حکم کی پرواہ نہیں کر رہے تھے اور افیم سرِعام فروخت ہو رہا تھا۔ سیندھوری والا ناکہ جہاں سے گجرات کی طرف آنے اور جانے والوں سے ٹیکس ٹھاکروں کی جانب سے پرمار کولہی وصول کر رہے تھے۔ چراگاہوں اور نمک کی کان پر بھی ٹھاکروں کا قبضہ تھا اور ٹیکس وصول کرنے والی پالیسی کے تحت پیتھاپور جاگیر میں لے پالک بیٹے کو قبول نہ کرتے ہوئے اُن سے چھین لیے۔ انہی اسباب کی بناء پر ٹھاکر پُرجوش ہوگئے اور رانپور کے ٹیلاٹ رانا سنگھ کے بُلاوے پر تمام سوڈھے (ٹھاکر) اور کولہی مسلح ہوکر میدان میں اتر آئے اور بغاوت کا علم بلند کیا۔

رانا سنگھ کے بُلاوے پر ٹھاکر لادھو سنگھ، پیتھاپور کا سوڈھو کلجی اور دوسرے چھوٹے گاؤں کے ٹھاکر، مسلح ہوکر رانپور میں اس کے کیمپ میں پہنچے۔ بھوڈیسر کے ٹھاکر رانا کرن سنگھ سے پرانی رنجش کے سبب ٹروٹ سے جاملے۔

ٹھاکروں کے پاس کوئی منظم لشکر نہیں تھا، وہ جنگ کے موقعے پر ہی تیاری کرتے تھے۔ ٹھاکروں کی فوج کا دار و مدار کولہی سپاہیوں پر تھا۔ اسی بناء پر لادھو سنگھ خود کنبھاری پہنچا اور روپلو سے جنگ کے لیے مدد طلب کی۔ روپلو نے اپنے برادر نسبتی ڈجی مکوانی سے جنگ کے حوالے سے مشورہ کیا۔ اس موقعے پر روپلو نے ایک شعر پڑھا۔ یہ پُرجوش شعر سنتے ہی ڈجی فوراً گھوڑے پر سوار ہوگیا اور 2 دن کے اندر اندر 5 ہزار کولہی جو تیروں، بھالوں، چھریوں اور کلہاڑیوں سے مسلح تھے اکٹھے کیے۔

روپلو کی قیادت میں کولہیوں کا یہ لشکر اونٹوں، گھوڑوں اور پیادوں پر مشتمل تھا۔ وہ کنبھاری سے انگریزوں کے خلاف نعرے بلند کرتے ہوئے رانپور کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں انہیں رات ہوگئی جہاں 4 بیل پکڑ کر ذبح کیے اور باجرے میں پکا کر اپنی بھوک مٹائی۔ اس دوران انہوں نے علاقے سے رلیاں (روایتی سندھی چادریں) جمع کیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹروٹ نے اپنے کیمپ کے باہر مضبوط باڑ لگائی ہوئی تھی، ارادہ یہ تھا کہ باڑ پر رلیاں بچھا کر پھر حملہ کیا جائے گا۔

پڑھیے: کہانی بھگت کنور رام اور رُک اسٹیشن کی

ضروری صلاح مشورے کے بعد 15 اپریل 1859ء چاند کی چودہویں رات میں حملہ کیا گیا۔ انگریزوں کے بے شمار سپاہی مارے گئے اور کچھ فرار ہوگئے۔ ٹروٹ ایک خفیہ دروازے کے ذریعے ننگر پارکر کے شمال میں گوٹھ پورن واہ میں لادھو مینگھواڑ کے گھر میں ایک بہت بڑے مٹی کے برتن میں جاکر چھپ گیا۔ (مینگھواڑ برادری کے لوگ عموماً ماضی میں جوتے بنانے کا کام کرتے تھے، اسی سبب ہندو برادری کے دوسرے لوگ اُنہیں کم تر سمجھتے تھے، اُس کی وجہ یہ تھی کہ جوتے بنانے کے عمل میں گائے کی کھال استعمال کی جاتی تھی اور اُن کھالوں کو مٹی کے ایک قد آدم برتن میں گیلا کرنے کے لیے رکھا جاتا تھا۔ اس برتن سے بہت زیادہ بدبو اٹھتی تھی اس لیے گھر میں آنے والے افراد اس طرف جانے سے پرہیز کرتے تھے)۔ کولہی وہاں بھی جا پہنچے، پورے گھر کی تلاشی لی لیکن وہ نفرت اور تعفن کے سبب اس برتن کی جانب نہیں گئے۔ لادھو نے حلف دے کر اپنی گلو خلاصی کرائی۔

اگلی رات لادھو نے ایک برق رفتار اونٹ پر ٹروٹ کو حیدرآباد روانہ کیا۔ پارکری فوج نے مختار کار آفس پر حملہ کرکے خزانہ لوٹ لیا۔ پولیس کے باغی سپاہی بھی ان کی فوج میں شامل ہوگئے۔ کچہری (عدالت) کو بھی آگ لگا دی گئی، محکمہ مال کا ریکارڈ جلادیا گیا، ٹیلی گراف کی تاریں کاٹ کر پول گرا دیے گئے۔ گجرات اور سندھ کی جانب جانے والے راستے بھی بند کردیے گئے۔ اس عمل کی وجہ سے ٹھاکروں کی دوبارہ ننگر پارکر پر حکمرانی قائم ہوگئی۔

اس عارضی فتح کے بعد ٹھاکر اور کولہی یہ سمجھ رہے تھے کہ انہوں نے مکمل فتح حاصل کرلی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ ٹروٹ نے حیدرآباد پہنچتے ہی کرنل ایونس کی زیرِنگرانی ایک بڑی فوج تیار کروائی اور کراچی سے توپ خانہ بھی طلب کیا گیا۔ وہ فوج میرپورخاص، مٹھی اور اسلام کوٹ فتح کرتے ہوئے ویرواء پہنچی، اس حملے کے نتیجے میں جدید ہتھیاروں کی وجہ سے کلجی کے سوڈھا (ٹھاکر) ٹھاکروں، کولہیوں اور تیر کمانوں، تلواروں، بھالوں اور نیزوں سے مسلح سپاہیوں نے اپنی جان قربان کی۔ لادھو سنگھ کو قید کیا گیا اور رانپور کا راجا کرن سنگھ، بال بچوں سمیت روپو کی سربراہی میں کارونجھر کے پہاڑی علاقے میں جا چھپا۔

تروٹ نے توپوں کی مدد سے زمین آسمان ایک کردیا اور اس طرح انگریزوں کا پارکر پر دوبارہ قبضہ ہوگیا۔ پارو مل اپنی کتاب ’لوک ساگر کے موتی‘ میں رقم طراز ہیں کہ ’اس جنگ کے نتیجے میں 5 ہزار کولہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بے شمار گھر اجڑ گئے، عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے اور علاقہ مقتل گاہ کا منظر پیش کرنے لگا۔

اب مسئلہ یہ تھا کہ کارونجھر کا پہاڑی سلسلہ 144 مربع میل پر پھیلا ہوا ہے، اس پہاڑی سلسلے میں رانا کرن سنگھ اور اس کے اہلِ خانہ جو روپلو کی نگرانی اور پناہ میں تھے انہیں ٹروٹ آسانی سے گرفتار نہیں کرسکتا تھا لہٰذا بوڈیسر کے ٹھاکروں کی مدد سے رشوت اور لالچ کے عوض لوگ خریدے گئے۔ ان میں مہاوجی لہانہ ہنس پوری باؤ اور لادھو مینگھواڑ نمایاں تھے۔

کچھ دنوں بعد کارونجھر میں رہنے والوں کا راشن ختم ہوا۔ بعد ازاں روپلو راشن کے حصول اور ٹروٹ فوج پر نظر رکھنے کے لیے ایک سادھو کے بھیس میں متعلقہ علاقے میں پہنچا تھا۔ ٹروٹ نے اس کی گرفتاری کے لیے لوگوں کو تیار کر رکھا تھا لیکن روپلو انہیں چکمہ دے کر دوبارہ اپنی کمین گاہ پر پہنچ جاتا تھا۔ اس ساری صورتحال کے پیش نظر باؤ ہنس پوری نے مشورہ دیا کہ کارونجھر کی پہاڑیوں کے اندر جو کنویں ہیں ان کی جانچ کی جائے۔ روپلو اور اس کے ساتھی پانی حاصل کرنے کے لیے ضرور وہاں آئیں گے۔ یہ بات سب کے دل کو بھا گئی اور ٹروٹ نے ان کنوؤں کی تلاش کے بعد اپنے فوجی وہاں پر مقرر کیے۔ پگ واء نامی کنویں پر روپلو روزانہ رات کو آتا تھا، وہیں ٹروٹ کے فوجیوں نے چھپ کر اسے گرفتار کیا اور جاکر ٹروٹ کے سامنے پیش کیا۔

روپلو کو انگریزوں نے پھانسی دینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ روپلو اور انگریزوں کے درمیاں جو مکالمات ہوئے وہ ایک طویل کہانی ہے، جس کا سرسری سا ذکر مندرجہ ذیل کیا جاتا ہے۔

’ٹروٹ: تمہارا نام کیا ہے؟‘

’روپلو: (تھری زبان میں جواب دیتے ہوئے ) مارو نام روپلو کولہی۔‘

’ٹروٹ: تمہارے دوسرے ساتھی کہاں ہیں؟‘

’روپلو: پیٹ میں۔‘

’ٹروٹ: نہیں نہیں، وہ بتاؤ کہاں ہیں؟‘

(روپلو خاموش رہا۔)

’ٹروٹ: روپلو، بتاؤ سوڈھے کہاں ہیں؟‘

’روپلو: سوڈھے میرے پیٹ میں ہیں۔‘

ٹروٹ: بتاؤ، نہیں تو تمہاری حالت بُری ہوگی۔

روپلو: میری ایک ہی بات ہے۔ میرے پیٹ میں ہیں۔

ٹروٹ: روپلو آج رات تک تم مزید سوچ لو ورنہ کل موت کے لیے تیار ہوجاؤ۔

پھانسی کے وقت روپلو کی خواہش تھی کہ وہ کسی بھی طریقے سے سوڈھوں (ٹھاکروں) کی نشاندہی نہیں کریں گے۔ جس کی بناء پر انگریز نے روپلو پر تشدد اور بربریت کی انتہا کردی لیکن اس کے باوجود روپلو کا زندہ رہنا انگریزوں کے سر پر تلوار منڈلانے کی مانند تھا۔

ٹروٹ نے اپنے حواریوں سے مشورے کیے کہ کیا کیا جائے۔ جس پر مہاوجی لہانہ نے مشورہ دیا کہ روپلو کو پھانسی دے کر قصہ تمام کردیا جائے۔ ٹروٹ نے تمام اتنظامات مکمل کیے اور سخت فوجی محاصرے میں ننگر پارکر کے جنوب مشرقی علاقے میں سوئی گام کے مقام پر کیکر کے درخت کی ایک ڈال پر روپلو کو پھانسی دے دی گئی۔

یہ واقعہ 21 جون 1859ء کے شام کو پیش آیا، ٹروٹ نے روپلو کی لاش گم کردی لیکن کمال یہ ہوا کہ جس کیکر کے درخت پر روپلو کو پھانسی دی گئی تھی وہ درخت تو باقی نہیں رہا لیکن وہاں اب پیلو کے ایک جھاڑ نے جنم لیا ہے جو اب بھی وہاں موجود ہے۔ کچھ تاریخی حوالے بھلے ہی روپلو کی موت کی تصدیق کرتے ہوں مگر تھر میں آج بھی وہ زندہ ہے۔