نیب آئندہ ماہ مسلم لیگ (ن) کے وزراء کی قسمت کا فیصلہ کرے گا

اپ ڈیٹ 30 اپريل 2018

ای میل

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام آئندہ ماہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وفاقی وزراء کے خلاف منی لانڈرنگ، آمدن سے زائد اثاثے اور بد عنوانی کے الزامات کی تحقیقات کا فیصلہ کریں گے۔

نیب کے اعلیٰ عہدیدار نے ڈان کو گزشتہ روز بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے بیشتر رہنماؤں کے خلاف درج شکاتیں مئی میں فعال کردی جائیں گی جس کے بعد نیب تحقیقات آغاز کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گا۔

یہ پڑھیں: نیب کا 3 سابق جرنیلوں کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ان کے خلاف کرپشن کے ثبوت مل گئے تو گرفتاری عمل میں لائی جا سکتی ہے ورنہ شکایات کو رد کردیا جا ئے گا’۔

اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ نیب کی تحقیقات کاسامنا کرنے والوں میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وفاقی وزراء سائرہ افضل، اکرم درانی، رضا حسین پیزادہ، خواجہ سعد رفیق، وزیراعظم کے سیکریٹری فواد حسین فواد، سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین نجم سیٹھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ نیب میں کسی کے خلاف تحقیقات کا آغاز اس وقت شروع ہوتا ہے جب درخواست جمع کرانے کے بعد اس کی تصدیق ہوتی ہے اور ابتدائی انکوائری کے بعد ہی تحقیقاتی شعبے کو کیس فراہم کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہی بھرپور تحقیقات شروع ہو تی ہیں اور پھر ریفرنس تیار کیا جاتا ہے۔

نیب حکام کے مطابق راولپنڈی نیب نے فواد حسین فواد کے خلاف کرپشن سے متعلق دوسرا کیس بھی تیار کرلیا ہے جس میں ان پر راولپنڈی میں میگا مال کی تعمیرات کا الزام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے چیئرمین نیب کی تقرری کے بعد کرپشن کے 101 ریفرنس دائر ہونے کا انکشاف

واضح رہے کہ مذکورہ اراضی کی قیمت 12 ارب روپے بتائی جاتی ہے جبکہ کثیرالمنزلہ عمارت کی تعمیرات اپنے آخری مراحل میں ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ایک 21 گریڈ کا افسر اتنی مہنگی تعمیرات کیسے کرواسکتا ہے، اس حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ راولپنڈی کے وسط میں قائم 10 منزلہ عمارت کی ملکیت فواد حسین فواد اور ان کے بھائی کے پاس ہے اور انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مبینہ طور پر جے ایس بینک سے بلڈنگ کی تعمیر کے لیے رقم حاصل کی۔

شکایت کنندہ کے مطابق فواد حسین فواد اور ان کے بھائی نے راولپنڈی حیدر روڈ پر رہائشی پلاٹ کے بدلے میں صدر میں جی پی او کے پاس کمرشل پلاٹ حاصل کیا۔

اس حوالے سے نیب نے مزید بتایا کہ وفاقی وزیر صحت سائرہ افضل تارڑ نے بعض دوا ساز کمپنیوں کو رجسٹریشن کرنے اور ادویات کی قیمت میں اضافے کرنے پر ‘خصوصی رعایت’ فراہم کی۔

مزید پڑھیں: نیب کا 56 پبلک سیکٹر کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ

وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ریاض حسین پیزادہ پر الزام ہے کہ انہوں نے اسپورٹس ڈویژن اینڈ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے امور میں متعدد دفعہ بے ضابطگیاں کیں۔

دوسری جانب اکرم درانی پر بطور وزیر اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور پلاٹس کی غیرقانونی الاٹمنٹ کا الزام ہے، شکایت کے مطابق اکرم درانی نے ڈی ایچ اے فاؤنڈیشن کے سیکٹر 1 سے 12 اور 1 سے 16 میں اپنے منظور نظر دوستوں اور رشتے داروں کے لیے پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں مبینہ کردار ادا کیا جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ نیب نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے پی سی بی چیئرمین نجم سیٹھی کے کھاتوں سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں۔

واضح ہے کہ نجم سیٹھی کے خلاف 2010 میں اثاثے ظاہر نہ کرنے کا کیس دائر ہے، جو منی لانڈرنگ میں آتا ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز نواز نے نجم سیٹھی پر منی لانڈرنگ، ناجائز ذرائع سے آمدنی کے حصول اور بیرون ملک میں اربوں روپے کی مالیت کے اثاثوں کی ملکیت رکھنے کا الزام لگا تھا۔


یہ خبر 30 اپریل 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی