سود سے متعلق طیب اردگان کا بیان، ترک کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی

اپ ڈیٹ 12 مئ 2018

انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے سود کو ‘تمام شیطانی کاموں کی ماں اور باپ’ قرار دیئے جانے کے بعد ترک کرنسی ’لیرا’ کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق رجب طیب اردگان نے مرکزی بینک پر زور دیا کہ وہ اقتصادی ترقی کے لیے شرح سود میں کٹوتی کرے۔

یہ بھی پڑھیں: ترک فورسز جلد شامی شہر عفرین کا محاصرہ کرلیں گی، رجب طیب اردگان

دوسری جانب ماہر اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اقتصادی معاملات میں سخت مانیٹری پالیسی کی ضرورت ہے کیونکہ گزشتہ 3 ماہ میں ملکی کرنسی کی قدر میں 12 فیصد کمی آچکی ہے اور افراطِ زر کی شرح 10.58 فیصد کی نفسیاتی حد تک پہنچ چکی ہے۔

رجب طیب اردگان نے انقرہ میں سرکاری ٹی وی پر خطاب کے دوران کہا کہ ‘شرح سود تمام شیطانی کاموں کی جڑ ہے اور اسی کی وجہ سے مہنگائی کا گراف بڑھ رہا ہے’۔

طیب اردگان نے امریکا اور جاپان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ممالک میں شرح سود انتہائی کم ہے اور ہمیں بھی اسے کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔

مزید پڑھیں: طیب اردگان کو چیلنج کرنے کیلئے ارکان اسمبلی نے پارٹی بدل لی

انہوں نے وعدہ کیا کہ 24 جون کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ‘وہ شرح سود سے مقابلے کی جنگ میں کامیاب ہوں گے’۔

خیال رہے کہ ترک کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث طیب اردگان نے اقتصادی ماہرین کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں ملکی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔

مذکورہ ہنگامی اجلاس کے بعد ترکی کی کرنسی ’لیرا’ کی قدر میں استحکام دیکھنے میں آیا لیکن شرح سود سے متعلق طیب اردگان کے بیان کے بعد پھر تنزلی دیکھنے میں آئی۔

لیرا کی ٹریڈنگ ڈالر کے مقابلے میں 4.3 پر تھی تاہم بیان کے بعد ایک ہی دن میں اس کی قدر میں 1.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

یہ پڑھیں: ترکی میں 24 جون 2018 کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان

طیب اردگان نے اعتراف کیا کہ مارکیٹ ‘غیر یقینی’ صورتحال سے دوچار ہے لیکن یہ متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ احسن طریقے سے اپنے فرائض انجام دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘ہم مارکیٹ میں منفی رحجانات کو جنم دینے والے محرکات کی نفی کرتے ہیں’۔


یہ خبر 12 مئی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (1) بند ہیں

Malik May 12, 2018 03:35pm
بنک کا نظام چلتا ہی سود پہ ہے، وہ کم ہو یا زیادہ رہے گا سود ہی۔ اگر یہ واقعی سود سے نجات چاہتے ہیں تو کوئی متبادل نظام لائیں، صرف شرح سود میں کمی چہ معنی؟ کیا اس سے سود سے پاک معاشرہ تشکیل پا جائے گا؟