سوال یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارتحانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان ایسے موقعے پر ہی کیوں کیا کہ جب فلسطینی تنازع کو 70 سال اور ارضِ فلسطین پر برطانوی قبضے کو 100 سال مکمل ہوئے؟

شاید اس کا جواب یہ ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کی نصف اراضی مشرقی بیت المقدس پر مشتمل ہے، یعنی یہ زمین کے اس حصے پر قائم ہوا ہے جو مستقبل میں قیامِ امن کے بعد عالمی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کا دارالحکومتی علاقہ ہوگا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکی صدر کے اس فیصلے کو فلسطینیوں اور عرب دنیا کے چہرے پر تھپڑ سے تعبیر کیا ہے۔ اگرچہ نئے تحریر شدہ عالمی ضابطوں میں تشدد کی کوئی بھی صورت جائز نہیں ہے اور مغربی دنیا نے تحریکِ آزادی اور دہشت گردی کا فرق محکوم مسلم خطوں میں تو عملاََ ختم کردیا ہے، پھر بھی اس نام نہاد تاریخی دن کے موقعے پر غزہ کی سرحد پر فلسطینی مظاہرین کے قتلِ عام کی ذمہ داری اسرائیل کی قابض حکومت کے ساتھ ہر ہر لحاظ سے امریکی صدر اور انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

جس وقت امریکا اور اسرائیل بارڈر کہ ایک طرف خوشیاں منارہے تھے، وہیں بارڈر کی دوسری طرف ظلم و زیادتی کا ایسا بازار گرم تھا کہ محض چند گھنٹوں میں 70 سے زائد فلسطینیوں کو سانس لینے کے حق سے محروم کردیا گیا جبکہ زخمیوں کی تعداد 2700 سے زائد زندگی اور موت کے درمیان کشمکش کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب اسرائیل نے بنیادی حق کے حصول کے لیے کیے جانے والے احتجاج کو روکنے کے لیے فلسطینی شہریوں کا قتلِ عام کیا ہو۔ سال 2000ء سے لے کر اب تک خود اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج کی کارروائیوں کے دوران 9 ہزار 600 فلسطینی شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔

پڑھیے: غزہ: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 55 فلسطینی جاں بحق، 2400 زخمی

ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی امریکا نے اسرائیلی افواج کی جانب سے وحشیانہ طاقت کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات کروائے جانے کے عالمی مطالبے کو ویٹو کے ذریعے روک دیا۔ نئی تبدیلی نہ صرف سفارتخانے کی منتقلی ہے بلکہ یہ بھی کہ اب امریکی انتظامیہ اسرائیلی افواج کی جانب سے فلسطینی قتلِ عام کا ذمہ دار بھی خود فلسطینیوں کو ہی قرار دیتی ہے۔ امریکی صدر کے داماد کا بیان قابلِ نفرت ہے، جنہوں نے سفارتخانے کی منتقلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی احتجاج کو ’امن دشمن‘ اور اسرائیلی افواج کے وحشیانہ تشدد کو ’امن کی کوشش‘ قرار دیا۔

امریکا کی جانب سے فلسطین اسرائیل تنازعے کے پس منظر میں ٹرمپ کا حالیہ فیصلہ نہایت پریشان کن اس لیے بھی ہے کہ اب فلسطینی اپنے حق کے لیے صرف اسرائیل سے ہی نہیں لڑیں گے بلکہ امریکا کی بھی مخالفت مول لیں گے۔ صدر محمود عباس کی پچھلے 20 سال سے جاری امن کوششیں محض اس لیے کامیاب نہیں ہوسکیں کہ اسرائیل نے ہمیشہ کسی بھی ایسے مذاکراتی عمل میں شرکت سے انکار کیا ہے جس میں 2 ریاستی حل کی بات چیت کا امکان ہو۔

تصویر اے ایف پی
تصویر اے ایف پی

امریکا نے ہر سطح پر اسرائیل کی ہی حمایت کی ہے اور فلسطینیوں کو مذاکرات میں ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ امریکا نے آج تک فلسطینیوں سمیت پوری دنیا کو اس دھوکے میں رکھا ہے کہ وہ اس تنازعے کے حل کے لیے کسی قسم کا مصالحتی کردار ادا کرنے کا خواہشمند ہے۔ صدر عباس نے یہ خوب کہا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے سے امریکا کے چہرے پر سے نقاب اتر گیا ہے، اور اب وہ امریکا کی جانب سے آئندہ کسی بھی مصالحتی کردار کے دھوکے میں نہیں آئیں گے۔

اگرچہ ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کیے جانے کے عمل سے فلسطینیوں کے اس دیرینہ مؤقف کو شدید زک پہنچا ہے کہ بیت المقدس کا مسئلہ اسرائیل-فلسطین تنازع کا بنیادی جزو ہے اور یہ مشرقی بیت المقدس آئندہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اب فلسطینیوں کے اپنے دوست دشمن میں تفریق کی آسانی ہوگئی ہے۔

پڑھیے: مقبوضہ بیت المقدس: امریکی سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر حالات کشیدہ

ٹرمپ کے فیصلے کے بڑے ناقدین میں مغربی یورپی ممالک بالخصوص برطانیہ، فرانس اور جرمنی ہیں، اس کے ساتھ عالمی ادارے اور مسلم امہ بھی ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت کررہے ہیں۔ لیکن مسلم امہ کی مخالفت سے موجودہ امریکی صدر اس لیے خوفزدہ نہیں کہ انہیں ان ممالک کے ساتھ محض کاروباری تعلقات کی پروا ہے، لیکن اس حوالے سے بھی زیادہ ضرور مسلم ممالک کو ہی ہے، جبکہ عالمی ادارے سے بھی امریکی انتظامیہ اس لیے خائف نہیں کہ وہ کوئی تادیبی کارروائی کے مجاز نہیں ہیں۔ تاہم مغربی یورپی ممالک امریکی اتحادی ہیں اور چین اور روس کی جانب سے عالمی سطح پر امریکی اجارہ داری کو چیلنج کیے جانے کے عمل پر امریکا کے ساتھ کھڑے ہیں اور امریکا کو یہ ساتھ ازحد عزیز ہے۔

صدر محمود عباس کے پاس مغربی یورپی ممالک کی جانب سے کسی مصالحتی کردار کی کوشش کے علاوہ اور کوئی راستہ باقی نہیں بچتا۔ مسجد اقصیٰ ٹرسٹ کے وارث ہونے کی حیثیت سے اردن کے شاہ عبداللہ وہ واحد مسلم رہنما ہیں جن سے فلسطینی انتظامیہ اس معاملے پر حقیقی حساسیت کی توقع کرسکتی ہے۔

تصویر اے ایف پی
تصویر اے ایف پی

جس ممکنہ ردِ عمل سے امریکی و مغربی دنیا خائف ہوسکتی ہے وہ یہ کہ کہیں فلسطینی انتظامیہ ریاست اسرائیل کے وجود کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کردے اور فلسطینی علاقوں میں انتظامی عملداری کے حالیہ بندوبست سے مستعفی ہوجائے۔ نتیجے کے طور پر اسرائیل کو اپنی موجودہ آبادی کے لگ بھگ تعداد میں ایسی آبادی کا انتظامی اختیار بھی سنبھالنا پڑجائے گا جو درحقیقت اسرائیلی ریاست سے حالت جنگ میں ہے۔ اسرائیلی افواج اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ گوریلا جنگوں میں فلسطینی تنظیمیں اسرائیل کو پہلے بھی کافی نقصان پہنچا چکی ہیں۔ ایسی صورت میں باہمی تشدد کا ایسا دروازہ کھل جائے گا جسے روکنا شاید عالمی دنیا کے لیے بہت مشکل ہوجائے۔

فلسطینی انتظامیہ اس حساس کارڈ کے ساتھ عالمی عدالت جرائم میں جاسکتی ہے، جہاں وہ اس سے پہلے محض اس لیے نہیں گئے کہ امریکا کی جانب سے انہیں مصالحت کے جھوٹے وعدے کیے جاتے رہے ہیں۔ فلسطینی انتظامیہ اس ادارے کی 2015ء سے ممبر ہے اور یہ ادارہ انفرادی حیثیت میں ملوث ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا مجاز ہے جو نسل کشی یا جنگی جرائم میں ملوث ہوں۔ اگرچہ امریکا، روس اور چین اس ادارے کے رکن نہیں ہیں، تاہم یورپی یونین سمیت 123 ممالک اس ادارے کی ممبر ہیں، لہٰذا یہاں فلسطینی انتظامیہ کو امریکی اثر و رسوخ کی تکلیف برداشت نہیں کرنی ہوگی۔

پڑھیے: ٹرمپ کا مقبوضہ بیت المقدس کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان

صائب اراکات، جو کہ سینئر فلسطینی رہنما اور فلسطینی انتظامیہ کی جانب سے چیف مذاکرات کار ہیں، کا کہنا ہے کہ میں فلسطینیوں کو یہ نصیحت کروں گا کہ وہ اس تکلیف کی گھڑی میں تشدد کا راستہ اختیار نہ کریں بلکہ مہذب قانونی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے اپنے جائز حقوق کے لیے کوشش کریں کیونکہ عالمی قوانین کے احترام کے نتیجے میں ہی مستقبل کی آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام ممکن ہے۔

فرمان ہے کہ امت مسلمہ کی مثال جسدِ واحد کی ہے، اگر ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم دُکھتا ہے۔ نہ معلوم کیا وجہ ہے کہ جدید تاریخ کے سب سے ظالمانہ قبضے پر اُمت مسلمہ کو وہ تکلیف کیوں لاحق نہیں جسے بیان کیا گیا ہے۔ تمام مہذب دنیا ماسوائے امریکا، اس ظلم پر احتجاج کناں ہے۔ جنوبی افریقہ اور ترکی نے اپنے سفراء اسرائیل سے واپس بلا لیے ہیں۔ تاہم مسلم امہ کے لیے ترکی اس لیے ایک مثال ہے کہ اس نے اس ظلم کے بنیادی گھر امریکا تک سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔ اگر 56 مسلم ممالک امریکا سے اپنے سفارتی تعلقات چاہے مختصر مدت اور علامتی طور پر ہی سہی ختم کرلیں تو بلاشبہ اسرائیلی ریاست کا غاصبانہ قبضہ ختم ہوسکتا ہے۔

ہمیں اپنے اقدامات کو اور آواز کو معمولی اور غیر اہم نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ہر ممکنہ حد تک مظلوم فلسطینوں کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے۔ غزہ کے مظلوم ہماری معاونت کے منتظر ہیں۔

اٹھیے اور قلم کی حد تک ہی سہی ان کے حق میں لکھیے۔