راضی نامے پر رہا ملزم نے اہلیہ سمیت 3 خواتین کو قتل کردیا

اپ ڈیٹ 23 مئ 2018

صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کے ہمک گاؤں میں گھریلو جھگڑے پر ایک شخص نے فائرنگ کر کے اپنی اہلیہ، پھوپھی اور سالی کو قتل کر دیا۔

تھانہ باہتر کی حدود میں پیش آنے والے واقعے میں ملزم کی ایک سالی شدید زخمی ہوگئی جسے علاج کے لیے راولپنڈی کے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

واقعے کے فوری بعد قتل کے ملزم کو اہل علاقہ نے پکڑ کر ایک گھنٹے تک کھمبے سے باندھے رکھا بعد ازاں جائے وقوع پر تاخیر سے پہنچنے والی باہتر پولیس کے حوالے کر دیا۔

مزید پڑھیں: اٹک: ملزم نے اپنے تین بچوں سمیت اہلیہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا

پولیس نے ملزم کو تھانے منتقل کیا جبکہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے اٹک کے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

واقعے کے حوالے سے اہل علاقہ کا کہنا تھا کہ صبح فائرنگ کی آواز آئی جب باہر نکل کر دیکھا تو ملزم خالد محمود کے ہاتھ میں پسٹل تھا اور وہ اپنی اہلیہ عظمٰی بی بی پر فائرنگ کر رہا تھا جبکہ خاتون کو بچانے کے لیے اس کی بہنیں فہمیدہ، عابدہ اور پھوپھی تسلیمہ بی بی سامنے آئیں تو ملزم نے ان پر بھی فائرنگ کردی۔

اہل علاقہ کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں ملزم کی اہلیہ، سالی اور پھوپھی موقع پر دم توڑ گئیں جبکہ ایک سالی شدید زخمی ہوگئی جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹرز نے زخمی خاتون کو راولپنڈی کے ہسپتال ریفر کر دیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اٹک: 'غیرت' کے نام پر لڑکا، لڑکی قتل

اہل علاقہ کے مطابق ملزم سابق سیکیورٹی اہلکار ہے اور اس سے قبل بھی اس نے مرزا گاؤں میں معمولی تلخ کلامی پر شہری کو قتل کردیا تھا جبکہ ملزم کے سالے نے مقتول کے ورثا سے راضی نامہ کر کے بہنوئی کو جیل سے آزاد کرایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ دشمنی سے بچنے کے لیے سالے نے اپنے بہنوئی کو گاؤں میں اپنے پاس جگہ دی تھی جہاں مذکورہ قتل کا واقعہ پیش آیا۔

تھانہ باہتر کے اے ایس آئی سرفراز نے ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مقتولین کا پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے اور جیسے ہی مقتولین کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا جائے گا ملزم کے خلاف قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا جائے گا جبکہ ملزم کو کل علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں بھی پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: اٹک: بچے کا ریپ، ’ملزم نے ویڈیو بھی بنائی‘

ان کا کہنا تھا کہ مقتول خواتین کی عمریں 35 سے 45 برس کے درمیان ہیں جن کے بچے ملازم پیشہ ہیں۔

بعد ازاں تھانہ باہتر میں ملزم کے خلاف مقدمہ اس کے سالے کی مدعیت میں درج کر لیا گیا اور خواتین کی لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔

پولیس کے مطابق مقتولین کو سینے اور سر پر گولیاں لگی ہیں جس وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔

تبصرے (0) بند ہیں