نگراں وفاقی کابینہ کے 6 ارکان نے حلف اٹھالیا

اپ ڈیٹ 05 جون 2018

ای میل

اسلام آباد: نگراں حکومت کے دوران حکومتی امور چلانے کے لیے نگراں وفاقی کابینہ کے 6 اراکین نے حلف اٹھالیا۔

حلف برداری کی تقریب ایوانِ صدر میں ہوئی جہاں صدرِ مملکت ممنون حسین نے نگراں کابینہ کے اراکین سے حلف لیا۔

اس تقریب میں نگراں وزیرِاعظم جسٹس (ر) ناصر المک سمیت اعلیٰ شخصیات نے بھی شرکت کی۔

مزید پڑھیں: جسٹس (ر) دوست محمد خان نگراں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا مقرر

نگراں وفاقی کابینہ میں محمد اعظم خان، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر عبداللہ حسین ہارون، محمد یوسف شیخ، مسز روشن خورشید، سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر اور بیرسٹر سید علی ظفر شامل ہیں۔

نئی کابینہ کے اراکین کو وزارتوں کے قلمدان سونپنے کے حوالے سے کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

  • عبداللہ حسین ہارون کو وزارت خارجہ اور نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کا قلمدان سونپا گیا ہے جبکہ ان کے پاس وزارتِ دفاع اور دفاعی پیداوار کا اضافی چارج بھی ہوگا۔

  • محمد اعظم خان کو وزارتِ داخلہ، کیڈ، وزارتِ نارکوٹکس کنٹرول کا قلمدان دیا گیا ہے، جبکہ ان کے پاس وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کا اضافی چارج ہوگا۔

  • ڈاکٹر شمشاد اختر کو وزارتِ خزانہ، ریونیو اور اقتصادری امور، وزارتِ شماریات اور وزارتِ منصوبہ بندی و پلاننگ کا قلمدان سونپا گیا ہے جبکہ ان کے پاس تجارت و ٹیکسٹائل اور صنعت و پیداوار کا اضافی چارج ہوگا۔

  • بیرسٹر سید علی ظفر کے کو وزارتِ قانون وانصاف، وزارتِ پارلیمانی امور اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

  • محمد یوسف شیخ کو تعلیم و تربیت کا قلمدان دیا گیا ہے جبکہ ان کے پاس وزارتِ صحت، وزارتِ مذہبی امور اور وزارتِ بین المذاہب ہم آہنگی کا اضافی چارج ہوگا۔

  • روشن خورشید کو وزارتِ انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ امور کشمیر و گلگت بلتستان اور سیفران کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

عبداللہ حسین ہارون اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مندوب تعینات رہے ہیں، انہوں نے 2008 سے 2012 تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔

بیرسٹر سید علی ظفر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔

ڈاکٹر شمشاد اختر سابق گورنر اسٹیٹ بینک ہیں جنہوں نے 2006 میں 14ویں گورنر کا عہدہ سنبھالا، اور تین سال تک اس عہدے پر فائز رہیں۔

یاد رہے کہ 31 مئی کو گزشتہ حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد رواں ماہ یکم جون کو جسٹس (ر) ناصرالملک نے نگران وزیراعظم کا حلف اٹھایا تھا۔

نگراں وزیرِاعظم اور ان کی وفاقی کابینہ 25 جولائی کے عام انتخابات کے بعد منتخب حکومت کے قیام تک اپنے عہدوں پر فائز رہیں گے۔