امیدوار جو عوام کی امید اپنی آرزو پر وار دے

24 جون 2018

ای میل

انتخابات کے سارے بکھیڑے کا انحصار بس ایک لفظ پر ہوتا ہے ’اُمید‘۔ عوام کو اُمید ہوتی ہے کہ ووٹ کی پرچی پر لگایا گیا ان کا ٹھپا ان کی قسمت کی سیاہی دور اور مسائل حل کرے گا، سیاسی جماعتیں یہ امید لیے میدان میں اُترتی ہیں کہ جیت انہی کی ہوگی، امیدوار اس آسرے پر نوٹ لُٹاتے ہیں کہ یہ نوٹ ووٹ کی پرچیوں میں ڈھلیں گے اور یہ پرچیاں کامیابی دلا کر ان کے لیے بلینک چیک بن جائیں گی، بہت سے لوگ بریانی کی اُمید لیے جلسوں اور پولنگ اسٹیشنوں کا رُخ کرتے ہیں اور بہت سوں کو آس ہوتی ہے کہ آوے ہی آوے کے نعرے لگاویں گے اور پیسے کماویں گے۔

تو بھیا انتخابات کی دنیا امید پر قائم ہے، اور اس دنیا میں جس کی دنیا بنتی یا اُجڑ جاتی ہے اُس مخلوق کا نام ہے ’انتخابی امیدوار۔‘

امیدواری بڑا پُرانا چلن بلکہ دنیا کے قدیم ترین کھیلوں میں سے ایک ہے۔ جب تک کرہ ارض پر بادشاہت برطانیہ کے تاج دار خاندان کی طرح بادشاہی کی پینٹنگ بننے کے بجائے پوری خونخواری کے ساتھ فعال تھی اس دور میں تاج اور تخت کے کئی کئی امیدوار ہوا کرتے تھے۔ یہ لوگ بڑے رحم دل اور عوام دوست تھے، چنانچہ عوام کو زحمت دینے اور قطاروں میں لگوانے کے بجائے اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگا کر خود کو ازخود منتخب کرلیا کرتے تھے۔ اُن کی دھندلی سی اک تصویر آج کے آمروں کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ ان امیدواروں کی امید دوسروں کے مرنے پر منحصر ہوتی تھی۔

ان سے بھی پہلے امیدواروں کی جو قسم وجود میں آئی وہ اب تک چلی آرہی ہے۔ کبھی ان امیدواروں کا مطالبہ ہوا کرتا تھا:

’ہٹاؤ آئینہ امیدوار ہم بھی ہیں تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں۔‘

ڈھیٹ محبوب آئینے کی جان نہیں چھوڑتا تھا تو امیدوار اُکتا کر اور جَھلا کر کہتے تھے:

’آئینہ ہی کو کب تئیں دکھلاؤ گے جمال باہر کھڑے ہیں کتنے اور امیدوار بھی۔‘

اگر محبوب ان کی حالت پر ترس کھالے اور سرِراہے پیک تھوکنے کے بہانے پل بھر کو نقاب اٹھادے تو یہ بے چارے اسی پر خوش ہوجاتے تھے اور کہہ اٹھتے تھے:

’بس تو نے اپنے منہ سے جو پردہ اٹھا دیا حسرت نکل گئی دل امیدوار کی۔‘

کیا امیدوار تھے، ایک جھلک پر صدقے واری ہوکر اس کامیابی کی مسرت میں جھومتے باقی کی زندگی گزار دیتے تھے نہ بیاہ کی تھی تمنا نہ صلے کی پروا۔

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب محبوب آئینے ہی کو منہ دکھا سکتا تھا، اگر کسی نامحرم کے سامنے چہرہ نمائی ہوجائے تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا تھا۔ چنانچہ کسی ماہ رُخ کا ایک نظر دیدار ہی کارنامہ قرار پاتا تھا۔ دید کی امید میں امیدوار پردہ ہلنے تک محبوب کے دروازے پر ساکت کھڑے رہتے تھے، اور جب ہلتے پردے کے پیچھے سے محبوب کے والد بزرگوار نکلتے تھے تو امیدوار حالت سکون سے بجلی کی سی حرکت کے ساتھ رفوچکر ہوجاتے۔

پڑھیے: سامان 100 ’دنوں‘ کا، پَل کی خبر نہیں!

وقت کے ساتھ ساتھ محبوب کی سرگرمیاں بڑھتی گئیں اور اس کے امیدواروں کی کوششوں اور خواہشات کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔ اب ان کے ساکت کھڑے رہنے کے مقامات بس اسٹاپ اور کالج اور یونیورسٹی کے گیٹ قرار پائے۔ مقامات کے ساتھ مطالبات بھی بڑھتے گئے اور دید کے بعد شنید پھر بات ’ھل من مزید‘ تک جاپہنچی۔

زمانہ اور جدید ہوا تو دیدار کی حد تک امیدواروں کے کشٹ اٹھانے کا سلسلہ ختم ہوا، اب فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر وغیرہ پر موجود ہے تصویرِیار، جب ذرا انگلی ہلائی دیکھ لی۔

تاج اور تخت کے امیدواروں کا زمانہ لد گیا تو کرسی اور نشست کے امیدواروں کا دور آیا۔ انہیں پیار سے انتخابی امیدوار کہتے ہیں۔ مختصراً تعریف یہ ہے کہ جو عوام کی امیدوں کو اپنی آرزوؤں اور مفادات پر وار دے اسے کہتے ہیں انتخابی امیدوار۔ الیکشن کا نتیجہ آنے کے بعد عوام کی کوئی امید بر نہیں آتی اور ان امیدواروں کی صورت نظر نہیں آتی، یہ ’ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘ کہہ کر یوں غائب ہوتے ہیں کہ اسمبلی میں بھی کم کم ہی نظر آتے ہیں۔

پڑھیے: سیاسی جماعتوں کو ملنے والے انتخابی نشان اور انکے پیچھے چھپی کہانی

پاکستان میں عام آدمی ساری زندگی ریل کے ٹکٹ، بس کے ٹکٹ، چُڑیا گھر کے ٹکٹ اور کبھی کبھی سنیما کے ٹکٹ کے لیے خوار ہوتا ہے، مگر ہمارے خواص 5 سال بعد پارٹی ٹکٹ کے لیے حال سے بے حال ہوجاتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ عام آدمی کو ٹکٹ نہ ملے تو وہ قطار چھوڑ کر گھر کی راہ لیتا ہے، مگر خواص پوری ڈھٹائی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور پارٹی قیادت کے لَتّے لیتے ہیں۔

میر نے کہا تھا:

’اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی’

امیدواری کے چکر میں عزت جانے کا تو سرے سے خطرہ ہی نہیں ہوتا، کیونکہ امیدوار سیاستدان ہوتے ہیں لیکن اس میں رازداری چلی جاتی ہے اور کب کے ڈالے ہوئے پردے اٹھ جاتے ہیں۔ سو چھپائی ہوئی جائیداد سے نقدی اور شادی تک ہر راز کُھل جاتا ہے۔

امیدواروں کی ایک قسم ہے ’الیکٹ ایبل۔‘ یہ دراصل ’موو ایبل‘ ہوتے ہیں، جنہیں باآسانی اُٹھا کر اِدھر سے اُدھر کیا جاسکتا ہے۔ جب یہ عین چناؤ کے وقت رخصت ہوتے ہیں تو ان سے محروم ہونے والی پارٹی کو یکایک احساس ہوتا ہےِ’ہم کو ان سے وفا کی ہے امید، جو نہیں جانتے وفا کیا ہے۔‘ لیکن یہ امیدوار اُڑان بھر کے جس جماعت کی منڈیر پر جابیٹھتے ہیں وہ جھوم جھوم کر گاتی ہے، ’گھر آیا میرا پردیسی، پیاس بجھی میری انکھین کی۔‘ الیکٹ ایبل سیاسی جماعتوں کے لیے اندھیرے میں چراغ ہوتے ہیں، جن پر دھوئیں کی جتنی بھی سیاہی چڑھی ہو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ سیاسی جماعتیں مانتی اور جانتی ہیں کہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔