سیاسی جماعتوں کو ملنے والے انتخابی نشان اور انکے پیچھے چھپی کہانی

اپ ڈیٹ 11 جون 2018

ای میل

چاہے انتخابات کے بعد پارلیمنٹ میں نام و نشان نہ ملے، لیکن الیکشن لڑنے والی ہر جماعت کو انتخابی نشان ضرور ملتا ہے۔ اگرچہ یہ نشان صرف ٹھپا لگانے کے لیے ہوتا ہے مگر سیاسی جماعتیں اور ان کے حامی اسے دل سے لگا لیتے ہیں اور یہ نشان ہی جماعت کی پہچان بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں اپنے منشور اور نظریات سے زیادہ اپنے نشانات سے پہچانی جاتی ہیں۔

ہم سوچتے ہیں کہ کسی جماعت نے کوئی خاص شے ہی انتخابی نشان کے طور پر کیوں منتخب کی یا اسے کوئی مخصوص نشان ہی کیوں دیا گیا؟ پھر اس نشان کی توجیح کیا ہے؟ اور اس سے بھی پہلے خود نشان کی صحیح شناخت کا تعین بہت ضروری ہے۔

تو آئیے نشان کی صحیح شناخت کے تعین کے لیے بڑی جماعتوں پر مختصر نظر ڈالتے ہیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرین

اب پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹیرین کے تیر ہی کو لیجیے۔ بغیر کمان کے تیر کس کام کا؟ یہ تنہا تیر تو راستے بتانے کے ہی کام آسکتا ہے، مگر آصف زرداری کا کمال ہے کہ کمان میسر نہ ہو تو وہ غلیل میں رکھ کر بھی تیر چلاسکتے ہیں، بلکہ تیر کو نیزے کی طرح پھینک کر بھی نشانہ لگا سکتے ہیں۔

سینیٹ کے الیکشن کے موقع پر انہوں نے یہی فن تو آزمایا تھا۔ یہ بھی طے نہیں کہ یہ کیوپڈ کا تیر ہے یا وہ والا جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا، ’دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف، اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی۔‘

پڑھیے: انتخابی نشانات اور اصطلاحات کا گھن چکر

پاکستان مسلم لیگ (ن)

مسلم لیگ (ن) کے شیر کے بارے میں بھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ یہ جنگل کا شیر ہے، سرکس کا یا چڑیا گھر کا، بلکہ پہلے تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ زندہ شیر ہے یا شکار ہوچکا؟ ویسے (ن) لیگ کی قیادت اور شیر میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ شیر، دہشت اور درندگی کی علامت ہے اور (ن) لیگ کی قیادت ’شریف‘۔ شیر جنگل کے ’عوام‘ کو دیکھتے ہی جھپٹتا ہے اور (ن) لیگ نے عوام سے چاہے جتنا بھی کھایا ہو مگر کبھی عوام کو نہیں کھایا، اب کہیں جا کے دونوں میں یہ مماثلت ہوئی ہے کہ دونوں کو معدومیت کا خطرہ درپیش ہے۔

پاکستان تحریک انصاف

تحریک انصاف کے ’بَلّے‘ کی بابت بھی نہیں بتایا جاتا کہ یہ رنز کے انبار لگاتے یونس خان کا بلا ہے، ٹُک ٹُک کرتے مصباح الحق کا یا ’شاید سینچری‘، ’شاید صفر‘ کی غیر یقینی صورت حال کے ساتھ پچ پر آنے والے ’شاہد‘ آفریدی کا۔

ویسے تحریک انصاف کے چیئرمین شاندار فاسٹ باؤلر تھے، اس اعتبار سے ان کی جماعت کا نشان گیند ہونی چاہیے تھی، اِدھر سے اُدھر لڑھکتی گیند ہی ان کے لیے موزوں تھی۔ خیر بَلّا بھی ناموزوں نہیں، گیند تو مستقل گراؤنڈ میں رہتی ہے، مگر بَلّا امپائر کی انگلی کے اشارے پر آتا ہے چلا جاتا ہے۔

متحدہ مجلس عمل

متحدہ مجلس عمل کی کتاب کے حوالے سے بھی یہی سوال ہے کہ کون سی کتاب؟ یہ وہ کتاب بھی ہوسکتی ہے جس کا عنوان تھا ’گھوڑا کیسے دوڑتا ہے‘ اور ہر صفحے پر لکھا تھا ’ٹکاٹک ٹکاٹک ٹکاٹک ٹکاٹک‘۔ اس کتاب کا عنوان ’سیاست میں کامیابی کے راز‘، ’اقتدار میں مستقل رہنے کے گُر‘ اور ’گیس کی پیداوار آئین کے تناظر میں‘ بھی ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیے: سونامی، ڈرون اور میزائل

اس بار خدشہ ہے کہ یہ نشان ریحام خان کی کتاب نہ بن جائے، اتنی گراوٹ سے اللہ بچائے۔ مجلس عمل والے کتنے بھولے بھالے ہیں، جانتے ہی نہیں کہ پاکستان میں کتابیں پڑھنے سے کسے دلچسپی ہے، اچھا ہوتا کہ وہ کسی اور 'بُک' کے بجائے ”فیس بُک“ کو انتخابی نشان بنالیتے۔

ایم کیو ایم پاکستان

ایم کیو ایم پاکستان کی پتنگ خود بھی یہ سوچ سوچ کر پریشان ہے کہ ’میری ڈور کس کے ہاتھ میں ہے۔‘ وہ بے چاری فضاؤں میں ڈولتی اور گاتی پھر رہی ہے ’مری زندگی ہے کیا اک کٹی پتنگ ہے۔‘ پچھلے سال تک ایم کیو ایم کی گُڈی چڑھی ہوئی تھی، اس گُڈی کی ڈور لندن میں بیٹھے ’گُڈو‘ کے ہاتھ میں اسی طرح تھی جس طرح ایم کیو ایم کے سارے چابی کے گُڈے اس کی انگلیوں کے اشاروں پر چلتے تھے۔

لیکن اب صورت حال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے راہ نما پتنگ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، پتا نہیں وہ بہادر آباد میں گرتی ہے یا پی آئی بی میں لینڈ کرتی ہے۔ پتنگ کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اسے ایک ہی شخص یا ’پتنگ باز سجنا‘ اُڑا سکتا ہے، اور فی الوقت ایم کیو ایم میں یہ ممکن نہیں، سو بھائی لوگوں کو چاہیے تھا کہ پتنگ کی جگہ پلنگ کو انتخابی نشان کرلیتے تاکہ ساتھ بیٹھ سکتے۔

پاک سرزمین پارٹی

پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے لیے مناسب نشان تو مچھلی پکڑنے کا جال ہوسکتا تھا، لیکن ڈولفن کا نشان بھی نامناسب نہیں۔ ہمارا مطلب یہ نہیں کہ ڈولفن تماشا گر کے اشاروں پر کرتب دکھاتی ہے، وہ بات اپنی جگہ، ہم تو بس یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مصطفیٰ کمال کی جماعت کے لیے کسی مچھلی کا نشان ہی موزوں تھا۔ ایک تو یوں کہ پاک سرزمین پارٹی نے یہ بات غلط ثابت کردی ہے کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کردیتی ہے۔

اس نے تو یہ اصول دیا ہے کہ اگر تالاب اچھا ہو تو اس میں آکر گندی سے گندی مچھلی بھی صاف ستھری اور اچھی ہوجاتی ہے۔ پھر مچھلی سمندر میں رہ کر مگرمچھ سے بیر نہیں کرسکتی، مگر مصطفٰی کمال نے تو سمندر میں کود کر مگرمچھ سے بیر پالا، مچھلی اور سمندر سے یہ گہرا تعلق کسی مچھلی کے نشان ہی کو پی ایس پی کے لیے موزوں قرار دیتا ہے۔

پڑھیے: دلچسپ انتخابی نشان

آل پاکستان مسلم لیگ

پرویز مشرف کی آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) نے عقاب کا نشان بہت سوچ سمجھ کر لیا ہے۔ دراصل یہ جماعت اپنے لیڈر کو علامہ اقبال کا شاہین سمجھتی ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ بدنامِ زمانہ سی آئی اے کا نشان بھی عقاب ہے۔

اے پی ایم ایل نے اپنے قائد کو شاعرِ مشرق کا شاہین شاید اس لیے سمجھا کہ موصوف نے فضا میں پرواز کرتے ہوئے اقتدار کا شکار کیا تھا اور جمہوریت کے کبوتر کو سموچا نگل گئے تھے۔ پھر انہوں نے برسوں قصرِ سلطانی کا گنبد آباد رکھا۔ علامہ اقبال کی ہدایت کے مطابق تو انہیں قصرِ سلطانی چھوڑ کر پہاڑوں کی چٹانوں پر آباد ہوجانا چاہیے تھا، لیکن وہ اُڑے تو لندن کے مکانوں پر جا اُترے۔

بہرحال اے پی ایم ایل کو وضاحت کرنی چاہیے کہ اس کا عقاب علامہ اقبال کا مثالی پرندہ ہے، سی آئی کے لوگو والا ہے یا کسی عرب شیخ کے بازو پر بیٹھا شکار کے لیے حکم کا منتظر باز۔

پاکستان مسلم لیگ (ق)

مسلم لیگ (ق) نے بھی بڑے دھیان سے ٹریکٹر کا نشان چُنا ہے۔ پچھلے 2 انتخابات میں اس کی سیاست کی فصلیں اس طرح اُجڑی ہیں کہ لوگ سمجھنے لگے تھے (ق) لیگ کا مطلب ہے ’قصہ ختم لیگ‘۔ چناں چہ (ق) لیگ کو اپنے کھیت دوبارہ آباد کرنے کے لیے ٹریکٹر کی اشد ضرورت تھی۔


یہ طنزیہ بلاگ ہے۔