’فلم پروڈیوسر نے ریپ کیلئے دوست کا ہوٹل استعمال کیا‘

اپ ڈیٹ 25 جون 2018

ای میل

ہاروی وائنسٹن پر اکتوبر 2017 میں پہلی بار خواتین نے الزام عائد کیا—فائل فوٹو: سی بی سی
ہاروی وائنسٹن پر اکتوبر 2017 میں پہلی بار خواتین نے الزام عائد کیا—فائل فوٹو: سی بی سی

ہولی وڈ کے بدنام زمانہ فلم پروڈیوسر 66 سالہ ہاروی وائنسٹن کی جانب سے خواتین، اداکاراؤں و ماڈلز کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کا ’ریپ‘ کرنے کے حوالے سے ایک حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔

انکشاف ہوا ہے کہ 66 سالہ پروڈیوسر خواتین کو درندگی کا نشانہ بنانے کے لیے اپنے ہی قریبی دوست کا معروف ہوٹل کئی عرصے تک بطور شکار گاہ استعمال کرتے رہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ہاروی وائنسٹن کیس میں کسی خاص جگہ کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آئی ہیں، اس سے قبل صرف یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ فلم پروڈیوسر خواتین کا اپنی رہائش گاہ سمیت دیگر مقامات پر ریپ کرتے رہے۔

فلم پروڈیوسر پر 3 دہائیوں تک کم سے کم 100 خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کا ریپ کرنے کا الزام ہے۔

ان کے خلاف سب سے پہلے اکتوبر 2017 میں معاملہ سامنے آیا تھا، جب ان کے خلاف درجنوں خواتین نے الزامات عائد کرتے ہوئے امریکی اخبار میں خط لکھا۔

بعد ازاں دیگر خواتین و اداکارائیں بھی سامنے آئیں، جس کے بعد لندن کی میٹرو پولیٹن پولیس اور لاس اینجلس پولیس نے ان کے خلاف الگ الگ تحقیقات شروع کیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہاروی وائنسٹن پر جنسی جرائم اور ’ریپ‘ کے تحت فرد جرم عائد

رواں برس مئی میں ہاروی وائنسٹن کو لاس اینجلس پولیس نے گرفتار کیا، جسے بعد ازاں ان کے کیس کی سماعت کرنے والی گرینڈ جیوری کے سامنے پیش کیا گیا۔

گزشتہ ماہ مئی میں ہی ان کے خلاف نیویارک کی گرینڈ جیوری نے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کا ریپ کرنے کے کیس کی سماعت شروع کی۔

گرینڈ جیوری نے 31 مئی 2018 کو ہاروی وائنسٹن پر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے اور ان کا ریپ کرنے کی فرد جرم عائد کی تھی۔

گرینڈ جیوری نے ان پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم بھی دیا۔

بعد ازاں ہاروی وائنسٹن نے رواں ماہ 5 جون کو گرینڈ جیوری کے سامنے خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کا ریپ کرنے سے انکار کیا۔

اس سے قبل بھی وہ یہ کہتے آئے ہیں کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں، انہوں نے تمام خواتین کے ساتھ رضامندی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے۔

مزید پڑھیں: ہاروی وائنسٹن کے خلاف لندن اور لاس اینجلس پولیس کی تحقیقات شروع

تاہم اب ان کی جانب سے خواتین کو درندگی کا نشانہ بنانے کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔

نشریاتی ادارے ’پیج سکس‘ نے اپنی رپورٹ میں امریکی خبر رساں ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 66 سالہ پروڈیوسر اپنے قریبی دوست گسیپی کپرانی کے لاس اینجلس کے علاقے بیورلی ہلز میں واقع معروف ہوٹل کو خواتین کی ’شکار گاہ‘ کے طور پر استعمال کرتے رہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہاروی وائنسٹن کئی سالوں تک بیورلی ہلز میں واقع معروف ہوٹل ’مسٹرسی‘ میں خواتین کے ساتھ نامناسب رویے اختیار کرتے رہے۔

رپورٹ میں ہوٹل ملازمین کا حوالے دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہاروی وائنسٹن کو ہوٹل میں ہر قسم کی مکمل آزادی تھی، انہیں کبھی بھی کوئی کام کرنے کے لیے منع نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہاروی وائنسٹن کی جانب سے ہراسان ہونے والی خواتین

رپورٹ میں ہوٹل ملازمین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ فلم پروڈیوسر نے متعدد خواتین، اداکاراؤں و ماڈلز کا وہاں ریپ کیا۔

یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد لاس اینجلس پولیس نے تحقیقات کا دائرہ بڑھاتے ہوئے ہوٹل انتظامیہ کو بھی تفتیش میں شامل کرلیا ہے۔

یہ وہی ہوٹل ہے جس میں ایک اٹلی کی خاتون کو ریپ کا نشانہ بنانے پر ہاروی وائنسٹن پر گرینڈ جیوری نے فرد جرم عائد کر رکھی ہے۔

اگر ہاروی وائنسٹن پر خواتین کو ریپ کرنے کے الزام ثابت ہوگئے تو انہیں 25 سال قید اور بھاری جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔