متحدہ عرب امارات میں ابراج گروپ کے بانی کے خلاف جرائم کا مقدمہ

اپ ڈیٹ 26 جون 2018

کراچی: متحدہ عرب امارات میں دو چیک باؤنس ہونے کے خلاف پراسیکیوٹر نے ابراج گروپ کے بانی پاکستانی نژاد عارف نقوی کے خلاف جرم کی ایک شکایت درج کرادی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ مئی کے اوائل میں 2 چیک باؤنس ہونے پر پراسیکیوٹر کی جانب سے ایک شکایت درج کرائی گئی ہے۔

رپورٹ میں عدالتی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ 4 کروڑ 82 لاکھ ڈالر کے کل دعویٰ کی رقم کے لیے ’ ضروری فنڈز کے بغیر چیک ‘ لکھنے پر پراسیکیوٹر کی جانب سے عارف نقوی اور ان کے ساتھی محمد رفیق لاکھانی کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے۔

فنانشل ٹائمز کے رپورٹ کے مطابق ’حامد جعفر کی جانب سے ابراج گروپ کو قرضے کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر کے عبوری سیکیورٹی چیک بھی جاری کر دیے گئے تھے‘۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں چیک کا باؤنس ہونا سلاخوں کے پیچھے لے جانے والا جرم ہے۔

اس حوالے سے عارف نقوی نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ ہم دباؤ کو قبول نہیں کریں گے، رقم کی دوبارہ ادائیگی کے حوالے سے معاملے پر تبادلہ خیال جاری ہے اور ہم اس عمل میں شامل تمام لوگوں کے ساتھ اطمینان بخش حل نکالیں گے، لیکن عارف نقوی خود سے اس سماعت میں پیش نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ اس وقت لندن میں ہیں‘۔

اس حوالے سے جمعرات کو سماعت ہوگی، جہاں ان کی غیر حاضری کی صورت میں جج کی جانب سے کارروائی آگے بڑھانے کی امید ہے، اس کے علاوہ پہلی مرتبہ مشرقی وسطیٰ کے بڑے نجی ایکوٹی فنڈز کے آغاز میں مشکلات کے باعث اس فنڈز سے منسلک سینئر لوگوں کو سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں