انتخابی عمل: میڈیا کو درپیش مشکلات پر یورپی مبصرین کو بریفنگ

اپ ڈیٹ 28 جون 2018

ای میل

اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن رہنما شیری رحمٰن نے یورپی یونین کے وفد کو ملک میں میڈیا خصوصاً ڈان کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا۔

گزشتہ روز یورپی یونین الیکشن آبزرویشن مشن (ای یو ای او ایم) کے چار رکنی وفد نے مائیکل گاہرل کی سربراہی میں دورہ کیا جہاں سینیٹر شیریں رحمٰن نے ملاقات میں واضح کیا کہ ’انتخابات کے دوران آئینی طور پر تفویض شدہ حق آزادیِ اظہار کے لیے حالات سازگار ہونے چاہئیں ’۔

یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن کی غیر ملکی مبصرین کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوششیں

انہوں نے کہا کہ میڈیا کو حاصل آزادی کی ضمانت پاکستان کے آئین سے ملتی ہے تاہم سینیٹ کی کمیٹیوں کو شکایت موصول ہوئیں جس میں بعض میڈیا ہاؤسز خاص طور پر ڈان کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔

اس حوالے سے شیریں رحمٰن نے مزید کہا کہ ’آزاد ذرائع ابلاغ پر پابندی سے ریاست کے بنیادی حقوق متاثرہوں گے’۔

اس موقع پر انہوں نے غیر ملکی مبصرین کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انتخابات کے دوران بیرونِ ملک سے آئے مبصرین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے شہری اپنے عوامی نمائندے کے انتخاب میں انتہائی پُرامید ہیں اور جمہوری عمل کے ذریعے منتخب ہونے والی حکومت معیاری کارکردگی کا مظاہرہ کرے اور تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے ہر حلقہ اہمیت کا حامل رہے‘۔

مزید پڑھیں: انتخابات 2018: غیر ملکی مبصرین، انتخابی عملے اور دیگر کیلئے ضابطہ اخلاق جاری

سینیٹر کا کہنا تھا کہ ’ماضی میں انتخابات جھگڑوں کا باعث بنے رہے ہیں اور یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی ذمہ داری ہے کہ تمام شکایت کا ازالہ کرے اور انتخابات وقت پر منعقد کرائے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’جمہوری عمل کے ذریعے آئینی طور پر اقتدار کی منتقلی پورے خطے میں مثبت پیغام پہنچے گا‘۔

اس حوالے سے سینیٹر شیریں رحمٰن نے واضح کیا کہ ’عوامی سطح پر شفافیت اور انصاف کے تمام تقاضوں کو خوش آمدید کہتے ہیں لیکن اس کا دائرہ کار چاروں سمت میں ہوناچا ہیے‘۔


یہ خبر 28 جون 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی