چندہ برائے ڈیم، مگر ڈیم چندوں سے نہیں بنتے

12 جولائ 2018

ای میل

پاکستان میں پانی کی قلت پر چیف جسٹس پاکستان کی حساسیت قابل ستائش ہے مگر نہایت ادب کے ساتھ عرض ہے کہ اس طرح انفراسٹرکچر کی مالی ضروریات پوری نہیں کی جاتیں۔ آپ لوگوں کے چندے سے ڈیم نہیں بناسکتے۔ بلکہ یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ایسا کہنا باعثِ شرمساری ہے۔

دیامیر بھاشا ڈیم کی فنڈنگ، جس کا تخمینہ 1 اعشاریہ 450 کھرب روپے لگایا گیا، کے لیے رضاکارانہ طور پر اکٹھا کیے گئے چندے کو جب استعمال کرنے کی کوشش کی جائے گی تو جو سوالات کھڑے ہوں گے ان پر ذرا غور کیجیے۔ مذکورہ تخمینہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کو دی گئی پانی و بجلی کے افسران کی بریفننگ سے لیا گیا ہے۔ آبی ذخائر کی تعمیر کا تخمینہ 650 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ بقیہ رقم بجلی کے ٹربائن اور متعلقہ انفراسٹرکچر، زمین کے حصول اور متاثرین کی آبادکاری کو مدنظر رکھتے ہوئے شامل کی گئی۔

آئیے ان اندازوں کا تھوڑا حساب کتاب کرتے ہیں۔ تاوقت تحریر، اس اکاؤنٹ میں اب تک 3 کروڑ 20 لاکھ روپے ڈالے جاچکے ہیں۔ اب چونکہ اکاؤنٹ کو 6 جولائی کو کھولا گیا تو چلیے فرض کرتے ہیں کہ اکاؤنٹ کو کھلے 3 دن ہوئے ہیں؛ اس حساب سے فی دن اکاؤنٹ میں 1 کروڑ روپے ڈالے گئے۔ اب یہ فرض کرتے ہیں کہ اس فی دن کے حساب میں رقم میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ (منگل کے روز ہونے والے اجلاس میں) بینک ملازمین سے پیسے لے کر فنڈنگ میں اضافہ کرنے کے لیے بینکوں پر بن کہے دباؤ ڈالا گیا ہے۔ یہ چندہ کس طرح کا ’رضاکارانہ‘ ہوگا، یہ ایک الگ بحث ہے۔ چلیے فرض کرتے ہیں کہ (اگر بہت ہی زیادہ امیدیں باندھی جائیں تو) فی دن اکاؤنٹ میں 2 کروڑ منتقل ہوتے ہیں ، تو ہدف تک پہنچنے کے لیے 72 ہزار 500 دن یا 199 برس درکار ہوں گے۔

چند لوگ یہاں ہماری بات کاٹتے ہوئے کہیں گے کہ بھئی کام شروع کرنے کے لیے کُل رقم کی ضرورت تھوڑی ہوگی! اچھا تو پھر ایک دوسرے زاویے سے غور کیجیے۔ منصوبہ بندی کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب پبلک سیکٹر ڈولپمنٹ پروگرام کے دستاویز کے مطابق اگلے برس کے لیے اس منصوبے میں شامل ڈیم کے ایک حصے کی خالی تعمیر کے لیے ہی 23 اعشاریہ 68 ارب روپے مختص کیے گئے۔

پڑھیے: پانی کا بحران صرف ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے

چلیے اب حساب کتاب کرتے ہیں۔ 2 کروڑ فی دن کے حساب سے 23 اعشاریہ 68 ارب کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 1184 دن یا 3 اعشاریہ 2 برس درکار ہوں گے۔ مطلب یہ کہ اگلے برس کی پی ایس ڈی پی کی اگلے سال کے لیے مختص کردہ رقم کے برابر پیسے حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

کسی مقصد کے لیے لوگوں کو ان کی محنت سے کمائے ہوئے پیسوں میں سے چندہ دینے کے لیے کہا جائے تو اس سے پہلے لوگ چند بنیادی سوالات پوچھنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ پیسہ کس چیز کے لیے استمعال ہوگا؟ اکٹھا کی گئی مجموعی رقم کو کس طرح استعمال کرنا ہے اس کا اختیار کسے ہوگا؟ رقم کی تقسیم کن اصولوں کے تحت کی جائے گی؟ میری دی ہوئی رقم کس حد تک اثر انداز ہوگی؟

ہم ان مفروضوں کو بدل بھی سکتے ہیں۔ چلیے مان لیتے ہیں کہ چندہ میرے اندازوں سے بہت زیادہ (بہت ہی زیادہ سخاوت کے ساتھ) دیا جاتا ہے۔ مان لیتے ہیں کہ رقم دگنی ہوجاتی ہے۔ یوں پھر عرصہ بھی نصف درکار ہوگا یعنی فقط اگلے برس کے ہدف کو پہنچے کے لیے بھی ڈیڑھ سال سے زائد وقت درکار ہوگا۔

فرض کریں کہ چندے کا مقصد پورے ڈیم کی قیمت کی ادائیگی کے بجائے حکومت کے منصوبے کے لیے مختص کردہ رقوم میں محض اضافہ کرنا ہو۔ اس کے بعد بھی، (فرض کیجیے اگر فی دن 2 کروڑ چندہ دیا جاتا ہے تو) سالانہ 7 اعشاریہ 3 ارب روپے اکٹھا ہوں گے، یہ رقم منصوبے میں شامل دوبارہ آباد کاری کے عمل پر آنے والی لاگت کو بھی پورا کرنے کے لیے ناکافی ہوگی۔

عوام سے مالی امداد مانگنا مذاق کی بات نہیں، ریاست خیرات پر نہیں چلتی، اور بنیادی ڈھانچوں پر آنے والی رقم کو اس طرح لوگوں سے چندہ مانگ کر اکٹھا نہیں کیا جاتا۔ دھیان رہے کہ یہاں پر فرض کیے گئے حساب کتاب کے مطابق سالہا سال تک یومیہ دو کروڑ روپے کے عطیات ہر روز کی ضرورت ہوگی۔ ان عطیات کے پیچھے موجود جوش و جذبہ کب تک برقرار رہے گا؟ ہفتوں تک؟ مہینوں تک؟

پڑھیے: پاکستان میں پانی کی قلت کی باتوں میں کوئی سچائی نہيں؟

کسی مقصد کے لیے لوگوں کو ان کی محنت سے کمائے ہوئے پیسوں میں سے چندہ دینے کے لیے کہا جائے تو اس سے پہلے لوگ چند بنیادی سوالات پوچھنے کا حق رکھتے ہیں۔ یہ پیسہ کس چیز کے لیے استمعال ہوگا؟ اکٹھا کی گئی مجموعی رقم کو کس طرح استعمال کرنا ہے اس کا اختیار کسے ہوگا؟ رقم کی تقسیم کن اصولوں کے تحت کی جائے گی؟ میری دی ہوئی رقم کس حد تک اثر انداز ہوگی؟

غالباً پہلے ان سوالوں کا جواب دیا جانا چاہیے۔ مثلاً کیا اکاؤنٹ سے رقم سیدھا اس جگہ منتقل کی جائے گی جہاں لاگت آنے ہے یا پھر اسے واپڈ، واٹر اینڈ پاور ڈویژن، یا وزارت خزانہ کو دے دی جائے گی؟ اگر رقم کو سیدھا اسی جگہ منتقل کیا جاتا ہے جہاں رقم مطلوب ہے، تو پھر ایک اور مثال ملاحضہ فرمائیں۔

یہ تجویز لینے کے لیے کہ خطے میں بڑی سطح پر بدلتے ہوئے درجہ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کون سا سیمنٹ استعمال کیا جائے اور ڈیم کا ڈھانچہ ایک سال میں کتنا پھیلے گا اور کتنا سکڑے گا، اس لحاظ سے مناسب کنکریٹ کا انتخاب اہم ہے، لہٰذا اس حوالے سے تجویز حاصل کرنے کی غرض سے کسی تکنیکی کنسلٹنٹ کو مقرر کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کون سا کنسلٹنٹ اس کام کے لیے بہتر ہے؟ کنسلٹنٹ کے انتخاب کا معیار کیا ہوگا؟

اس قسم کے بڑے بڑے منصوبوں میں ایسے ہزاروں فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ اکٹھا کی گئی رقم کس طریقہ کار یا اصولوں کے تحت منتقل کی جائے گی۔ اگر رقم کو واپڈا کے ہاتھوں میں دینے کا منصوبہ ہے تو یہ نگرانی کون کرے گا کہ یہ پیسہ صحیح انداز میں خرچ کیا جا رہا ہے؟ وہ شخص اس قسم کے بڑی سطح کے غیر معمولی تکنیکی منصوبوں پر عملی کام کروانے کا کس حد تک تجربہ اور قابلیت رکھتا ہے؟

ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ جب ایک بڑے ہی سنجیدہ معاملے کو مذاق بنا دیا گیا ہے۔ 2005ء کے زلزلے کے بعد پرویز مشرف نے بھی اسی قسم کے ایک فنڈ کا اعلان کیا تھا جسے پریزیڈنٹ رلیف فنڈ کا نام دیا گیا تھا۔ اس کے آغاز کے ساتھ لوگوں سے پیسے نکوالنے کے لیے اسی طرح خاموشی کے ساتھ دباؤ ڈالنے کے طریقے اپنائے گئے، اور ایک ایک کر کے مختلف کمپنیاں یہ کہہ کر قطار میں کھڑی ہو گئیں، ’امداد دینے میں ہمیں خوشی ہوگی’۔ یوں ایک جگہ سے دس لاکھ دوسری جگہ سے 20 لاکھ ملنے لگے، یہ سلسلہ اس وقت تک ہی جاری رہ سکا جب تک کہ لوگوں کی اس میں دلچسپی ختم نہیں ہوگئی اور سب بھول نہیں گئے۔ اسی طرح 90ء کی دہائی میں امدادی رقم سے غیرملکی قرضہ اتارنے کے مقصد سے نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت میں ’قرض اتارو ملک سنوارو‘ نامی اسکیم شروع کی تھی۔ یہ اسکیم بھی شرمندگی کے ساتھ انجام کو پہنچی۔

مجھے ایسی ہی ایک دوسری اسکیم بھی یاد ہے جو ذوالفقار علی بھٹو اپنے آخری سال میں شروع کی تھی۔ ان دنوں ٹی وی پر اشتہارات نشر کیے جاتے جن میں عوام کو کہا جاتا کہ وہ ہر روز ایک روپیہ کی امداد دیں، ان اشتہارات میں رقم کو ترقیاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا وعدہ بھی کیا جاتا تھا۔ اشتہار میں ’ترقی‘ کو سیمنٹ کی لفٹ سے ظاہر کیا جاتا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ دور حاضر میں عوامی پیسے کو اس طرح استعمال نہیں کیا جاسکتا، خاص طور پر بات جب بنیادی ڈھانچے کے لیے مطلوب پیسے کی ہو۔ یہ وقت ہے کہ ہم عقلمندی سے کام لیں اور حقیقت کا سامنا کریں: جب تک ہم واٹر پرائسنگ کے نظام کو ٹھیک کرنے کے علاوہ اس بحران سے باہر نکلنے کا اور کوئی راستہ نہیں۔

یہ مضمون 12 جولائی 2018ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔