کیا ہمارے پاس ڈیم بنانا ہی واحد اور آخری حل ہے؟

اپ ڈیٹ 27 جولائ 2018

ای میل

اس وقت ملک میں سیاست کے علاوہ جو موضوع زیرِ بحث ہے وہ ڈیموں کی تعمیر ہے۔ سپریم کورٹ نے ڈیموں کی تعمیر میں انتہائی دلچسپی لیتے ہوئے عدالت عالیہ کے زیرِ انتظام ایک اکاؤنٹ قائم کردیا ہے جس میں تمام پاکستانیوں سے چندے کی اپیل کی گئی ہے (تادم تحریر اس اکاؤنٹ میں 30 کروڑ سے زائد ڈالے جاچکے ہیں۔ سب سے پہلے چیف جسٹس صاحب نے اس مد میں 10 لاکھ کا چندہ دیا)۔

ہم چیف جسٹس کے اس جذبے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ وہ یہ کام کرکے ہی چھوڑیں گے کیونکہ یہ ان کی زندگی کے 2 بڑے مقاصد میں شامل ہے۔ عدالت عالیہ کے اس اقدام کے باعث پوری قوم کی توجہ ڈیموں کی تعمیر کی جانب مبذول ہوگئی اور ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ڈیموں کی تعمیر بن گیا۔ حب الوطنی کا جذبہ جاگا تو لوگوں نے یہ تک کہہ دیا کہ کپڑے اور جوتے بیچ کر بھی ڈیم بنائیں گے۔ ایک صاحب تو اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر ’ضلع‘ میں ڈیم بنا کر رہیں گے۔

اس وقت پوری قوم کا بیانیہ یہ ہے کہ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے فوراً ڈیم بنائے جائیں، لیکن ہم اپنے تجربے اور ماہرین کی رائے کی روشنی میں یہ کہنے کی جسارت کریں گے کہ یہ ’غلط‘ بیانیہ ہے۔ ہمیں آبی ذخائر سے پہلے آبی انتطام کاری کی ضرورت ہے۔ آبی ذخیرہ گاہیں ضروری تو ہیں لیکن اگر پانی کا ضیاع روکا نہ گیا تو یہ ذخیرہ گاہیں کسی کام نہ آسکیں گی۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسی انشاء جی نے کہا ہے کہ،

جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا!

پانی کے ضیاع کو روکے بغیر ہم اپنے آبی وسائل سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ گویا ملک میں پانی کی کمی نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ پانی کا صحیح انتظام ہے۔ ماہرین کے نزدیک ڈیموں کی تعمیر سے بھی زیادہ ضروری مسئلہ یہ ہے کہ آبی وسائل کے ضیاع کو روکا جائے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قدرت ہمیں کتنا پانی عطا کرتی ہے اور ہم اک ادائے بے نیازی سے کتنا پانی ضائع کردیتے ہیں۔

پڑھیے: پاکستان نئے ڈیم نہ بنا کر کیا قیمت چکا رہا ہے؟

دریائے سندھ کے طاس سے ہم سالانہ 14 کروڑ 50 لاکھ (145 ملین) ایکڑ فٹ پانی حاصل کررہے ہیں۔ جس میں دریائے سندھ اور کابل سے 8 کروڑ 90 لاکھ (89 ملین) ایکڑ فٹ، دریائے جہلم سے 2 کروڑ 20 لاکھ (22 ملین) ایکڑ فٹ، چناب سے 2 کروڑ 50 لاکھ (25 ملین) ایکڑ فٹ اور مشرقی دریاؤں سے 90 لاکھ (9 ملین) ایکڑ فٹ پانی حاصل ہوتا ہے۔

ہمارا زیادہ پانی استعمال کرنے والا شعبہ زراعت کا ہے۔ کھیتوں کو پانی دیتے ہوئے صرف نہروں میں 2 کروڑ 40 لاکھ (24 ملین) ایکڑ فٹ پانی ضائع کردیا جاتا ہے۔ 2 کروڑ 10 لاکھ (21 ملین) ایکڑ فٹ واٹر کورسوں (کھالوں) میں اور کھیتوں میں 3 کروڑ 30 لاکھ (33 ملین) ایکڑ فٹ پانی ضائع ہوجاتا ہے۔

پانی کے ضیاع کا یہ تخمینہ مجموعی طور پر 7 کروڑ 70 لاکھ (77 ملین) ایکڑ فٹ بنتا ہے۔ گویا 14 کروڑ 50 لاکھ (145 ملین) میں سے 7 کروڑ 70 لاکھ (77 ملین) ایکڑ فٹ پانی ہم ضائع کردیتے ہیں یوں پانی کی تقریباً نصف مقدار ضائع ہوجاتی ہے اور پانی کی یہ مقدار اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی ہم اپنے تمام مجوزہ ڈیم بنا کر ذخیرہ کریں گے۔ گویا ہمارے پاس پانی کی کمی نہیں بلکہ ناقص انتظام ہمارا اصل مسئلہ ہے۔ ہمیں اپنی قوم کو درست صورت حال بتانے کی ضرورت ہے کہ ڈیموں کی تعمیر سے بھی پہلے زرعی شعبے میں پانی کا صحیح استعمال، ہمارا اولین ہدف ہونا چاہیے۔

دنیا بھر میں زراعت میں آب پاشی کے حوالے سے جدید طریقے استعمال ہورہے ہیں، مثلاً پودوں کو سیلابی انداز میں پانی دینے کے بجائے قطرہ قطرہ پانی فراہم کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں 19ویں صدی کا نہری نظام موجود ہے جسے ہم 21ویں صدی میں جوں کا توں چلا رہے ہیں اور اسے ہرگز تبدیل کرنا نہیں چاہتے۔ حتیٰ کہ قومی آبی پالیسی میں بھی ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی، یہی فرسودہ نظام پانی کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔

بڑے ڈیموں کا ذکر ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ڈیم کثیر المقاصد ہوتے ہیں اور ان سے کم از کم 3 بڑے مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔ پانی کا ذخیرہ، سیلابی پانی کا کنٹرول اور سستی پن بجلی کا حصول۔ ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس ان تینوں مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں۔

ڈیم سے سیلابوں کی روک تھام!

ڈیموں کے جو فوائد بتائے جاتے ہیں ان میں بہت زیادہ مبالغہ ہوتا ہے۔ اگر باریک بینی سے تجزیہ کیا جائے تو مذکورہ تینوں مقاصد ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ کوئی بھی ڈیم بیک وقت ذخیرہ گاہ اور سیلاب کو روکنے کے کام نہیں آسکتا۔

مون سون کے موسم میں جیسے ہی بارشوں کا پانی دریا میں آتا ہے اسے ڈیم میں ذخیرہ کرلیا جاتا ہے اور اس کے لیے اگلی بارش کا انتظار نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ بارش یقینی نہیں ہوتی ہے۔ لہٰذا پہلی بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرلیا جاتا ہے، یعنی کسی ممکنہ سیلاب کے امکان پر ڈیم کو خالی نہیں رکھا جاسکتا۔

اب اگر بارشیں بہت زیادہ ہوجاتی ہیں تو ڈیم تو بھرے ہوئے ہوں گے؟ لہٰذا مزید پانی کو روکا نہیں جاسکے گا۔ آسان الفاظ میں جس ڈیم میں پانی ذخیرہ کیا جائے گا وہ سیلابی پانی کو کنٹرول کرنے میں کام نہ آئے گا۔ لہذا یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے کہ ڈیم سیلاب کنٹرول کرسکتے ہیں۔

پڑھیے: چندہ برائے ڈیم، مگر ڈیم چندوں سے نہیں بنتے

ایک اور سنگین حقیقت یہ ہے کہ بعض دفعہ یہ ڈیم ہی سیلاب کا باعث بن جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو عوام کو بتائی نہیں جاتی۔ جب پانی ڈیم کے انتہائی سطح سے اوپر ہوجاتا ہے تو ڈیم کو بچانے کے لیے ڈیم کا گیٹ کھول دیا جاتا ہے۔ ہماری واٹر پالیسی کی شق نمبر 20.1.4 کے مطابق آپ کو ہر صورت میں اپنے ہائڈرولک اسٹرکچر کو بچانا ہوتا ہے لیکن پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 9 کہتا ہے کہ لوگوں کی جان اور مال کو بچانا ہے۔ یہاں بھی دونوں قوانین میں تضاد سامنے آتا ہے۔

حسن عباس ہی کے مطابق، ’1992ء کی بارشوں میں جب منگلا ڈیم ستمبر تک اپنی انتہائی سطح تک بھرا جاچکا تھا تو دریاؤں میں مزید پانی آگیا اور حکومت نے ڈیم بچانے کے لیے اس کا گیٹ کھول دیا اور جہلم شہر کو ڈبو دیا جس میں 100 لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

’کہا جاتا ہے کہ ڈیم ہوں گے تو سیلاب نہیں آئے گا، میں کہتا ہوں کہ یہ ڈیم ہی ہیں جو سیلاب کی شدت کو بڑھا دیتے ہیں۔ 1992ء کی واپڈا کی مذکورہ سیلاب سے متعلق رپورٹ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ منگلا ڈیم میں فلڈ کنٹرول کے حوالے سے کوئی پروویژن موجود نہیں ہے۔ ایسا ہی ایک سانحہ بلوچستان میں شادی کور ڈیم ٹوٹنے کا ہے۔ 2005ء میں تیز بارشوں سے پانی کی مقدار بڑھ گئی جسے ڈیم کی دیواریں برداشت نہ کرسکیں اور وہ ٹوٹ گئیں، یوں قریبی گاؤں کے 250 ماہی گیر سوتے سوتے سمندر برد ہوگئے۔ آج کسی کو یہ سانحہ یاد بھی نہیں ہے، کوئی ان غریب مچھیروں کی یاد میں دیا تک نہیں جلاتا ہے۔‘

سستی پن بجلی!

یہاں بھی غلط بیانی سے کام لیا جاتا ہے، مثلاً کہا جارہا ہے کہ دیا میر بھاشا ڈیم 14 ارب ڈالرز میں تعمیر ہوجائے گا اور مہمند ڈیم 8 ارب ڈالرز میں لیکن ہم یہ دعوے سے کہتے ہیں کہ ان ڈیموں کی تعمیر تک ان کا تخمینہ کم از کم 3 گنا بڑھ جائے گا اور ان سے حاصل ہونے والی بجلی ہرگز سستی نہیں ہوگی۔

مثلاً نیلم جہلم پن بجلی منصوبے کی جب فزیبیلیٹی تیار کی گئی تھی تو اس کا تخمینہ 94 کروڑ 50 لاکھ (945 ملین) ڈالرز تھا جبکہ 10 سال کی طویل مدت کے بعد جب یہ منصوبہ تیار ہوا تو اس کی لاگت 5 گنا بڑھ کر 5 ارب ڈالر ہوچکی تھی۔ اس سے حاصل ہونے والی بجلی قوم کو ایک واٹ 1000 روپے کی پڑتی ہے اور 100 واٹ کا ایک بلب جلانے کی قیمت ایک لاکھ پڑتی ہے جو حکومتِ پاکستان بین الاقوامی قرضوں کی مد میں ہمارے ہی ٹیکس کے پیسوں سے ادا کرتی ہے۔

اس مہنگی توانائی کی جگہ ہم قابل تجدید توانائی کے وسائل یعنی ہوا اور سورج کی روشنی کو استعمال کرسکتے ہیں۔ آج ساری دنیا اور خصوصاً ترقی یافتہ ممالک ان ہی وسائل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ساحلوں پر تندوتیز ہوائیں اور قدرت کی فیاضی سے سارا سال سورج چمکتا ہے سولر اور ہوا سے فائدہ نہ اٹھانا سمجھ سے بالاتر ہے۔

پڑھیے: پانی کا بحران صرف ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے

ذخیرہ گاہ

دنیا بھر میں اب ڈیم تعمیر کرنے کے بجائے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے قدرت کے فطری اصول استعمال کیے جارہے ہیں۔ کھربوں روپوں کی لاگت سے تیار ہونے والے ڈیم محض 10 سے 20 سال میں اپنی افادیت کھو بیٹھتے ہیں، ان میں ریت جمع ہوجاتی ہے اور ان میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تربیلا ڈیم کا یہی حال ہوا ہے۔

اس مسئلے کا متبادل یا حل صرف اور صرف پانی کی بہترین انتظام کاری ہے جس کی بنیاد قدرتی طریقوں پر ہو۔ اسرائیل کی مثال ہمارے سامنے ہے وہاں کوئی ڈیم موجود نہیں ہے مگر وہ زراعت میں دنیا کا لیڈر بنا ہوا ہے۔ صحرا میں سبزی اگا رہا ہے اور یورپ اور مشرق وسطی تک کو بیچ رہا ہے۔

پانی کی انتظام کاری اور ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ ’دریاؤں کو بہنے دیا جائے‘۔ قدرت نے پانی جمع کرنے کا نظام دریاؤں کے اردگرد خود وضع کر رکھا ہے۔ جب دریا میں پانی بڑھتا ہے اور یہ پانی دریا کے کناروں سے چھلک کر بہتا ہے تو کشش ثقل اسے کھینچتی ہے۔ وہ زمین میں جذب ہونے لگتا ہے۔ جذب ہونے کے مرحلے میں یہ گھاس، مٹی اور ریت کے بیچ سے گزرتا ہے، یہ پانی کے چھاننے کا قدرتی عمل ہے۔ تمام گندگی اور غلاظت اوپر رہ جاتی ہے اور صاف پانی زمین کے اندر چلاجاتا ہے۔

اس پانی پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی اس لیے کوئی جرثومہ بھی چلاجائے تو وہ بھی مرجاتا ہے۔ تمام جراثیم ختم ہوجاتے ہیں اور پانی ایک دم صاف و شفاف ہوجاتا ہے۔ دریا سے بہتے پانی کو نکلنے کا موقع دیں تاکہ یہ صاف وشفاف پانی زیرِ زمین جذب ہوسکے۔ 3 سے 4 کلومیٹر دائیں بائیں جو پانی ذخیرہ ہوسکے گا وہ تقریباً 3 ہزار ملین ایکڑ فٹ ہوگا۔ جی ہاں یہ دریائے سندھ ہی کی بات ہے۔

اس کے برعکس سب سے بڑے ڈیم یعنی تربیلا میں صرف 1 کروڑ 20 لاکھ (12 ملین) ایکڑ فٹ پانی جمع ہوسکتا ہے۔ کالا باغ میں 60 لاکھ (6 ملین) ایکڑ فٹ، بھاشا میں 90 لاکھ (9 ملین)، منگلا میں 120 لاکھ (12 ملین) اور تربیلا میں بھی 120 لاکھ (12 ملین) ایکڑ فٹ، یعنی کھربوں روپے خرچ کرکے تقریباً 4 کروڑ (40 ملین) ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا جبکہ قدرت ہمیں صاف شفاف پانی کا تقریباً 3 ہزار ملین ایکر فٹ کا ذخیرہ مفت میں دے رہی ہے، یہ زیرِ زمین پانی بعد ازاں ہم اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کرسکتے ہیں۔

اس پوری تحریر کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ڈیم بنائے ہی نہ جائیں، لیکن جب تک ہم ڈیم بنانے پر متفق نہیں ہوتے، یا جب تک ہمارے پاس ڈیم بنانے کے لیے فنڈز کا بندوبست نہیں ہوتا، تک تک ہمیں وہ کام ضرور کرلینے چاہیے جن کا اختیار ہمارے پاس موجود ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ ہم قدرتی نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں اور دریاؤں کو ان کے راستے پر بہنے دیں۔