مالی بحران کے باعث سی پیک کے مختلف منصوبے تعطل کا شکار

اپ ڈیٹ 23 جولائ 2018

ای میل

اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں مالی بحران کے باعث 52 ارب ڈالر کے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے منسلک سڑکوں کے مختلف منصوبے تعطل کا شکار ہوگئے۔

اس حوالے سے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ کچھ روز پہلے 5 ارب روپے کے چیکس باؤنس ہونے کے بعد سی پیک کے مختلف منصوبوں پر ٹھیکے داروں نے کام روک دیا اور یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سی پیک منصوبوں کو اس صورتحال کا سامنا ہے۔

اس صورتحال سے متاثر ہونے والے منصوبوں میں ہکلا-ڈیرہ اسماعیل خان، سی پیک کا مغربی روٹ اور کراچی- لاہور موٹروے (کے ایل ایم) کے تمام حصے شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: سی پیک منصوبوں پر چینی قیدیوں کے کام کرنے کا انکشاف

ذرائع کے مطابق ہکلا-ڈیرہ اسماعیل خان کے 400 کلو میٹر کے 7 پیکیجز جبکہ کراچی لاہور موٹروے کے تمام منصوبے اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ جن کمپنیوں کے چیک باؤنس ہوئے ان میں ایس کے بی، زیڈ کے بی، نعمان کنسٹرکشن، اے سی جی سی چائینیز، سردار اشرف ڈی بلوچ، چین ریلوے 17 گروپ اور میٹراکون شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اس صورتحال سے نہ صرف سی پیک منصوبے بلکہ تعمیرات سے متعلق صنعتیں اور انجینئر اور مزدوروں کی ایک بڑی افرادی قوت متاثر ہورہی ہے۔

اس تمام صورتحال سے متعلق جب ’این ایچ اے‘ کے ترجمان کاشف زمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہائی وے اتھارٹی نے حکومتی منظوری کے خلاف 29 جون کو کمپنیوں کو 5 ارب روپے کے چیکس جاری کیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’ڈیڑھ ارب روپے کا چیک اسی دن کلیئر ہوگیا تھا جبکہ باقی رقم کے چیکس اگلے دن جمع کرائے گئے تھے لیکن وہ کلیئر نہیں ہوئے‘۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے سی پیک کے تحت سڑکوں کے منصوبوں کی مالی امداد روک دی

کاشف زمان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ حکومت کی جانب سے دیکھا جارہا ہے اور امید ہے کہ یہ جلد ہی حل ہوجائے گا۔

ٹھیکے داروں کی جانب سے کام میں خلل پڑھنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’منصوبے پر جاری کام متاثر نہیں ہوا جبکہ ہزار موٹر وے اور دیگر حصوں پر بھی ہی صورتحال ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر منصوبوں پر کام جاری ہے اور وہ دسمبر 2018 تک مکمل ہوجائیں گے، تاہم یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی اور ٹھیکے داروں کو ادائیگیاں نہیں کی گئیں تو سی پیک منصوبے مزید تاخیر کا شکار ہوسکتے ہیں۔


یہ خبر 23 جولائی 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی