سندھ کے ضلع قمبر کی تحصیل نصیر آباد میں عام انتخابات میں پولنگ افسر کے طور پر فرائض انجام دینے والی لیڈی ہیلتھ ورکر ذمہ داری کی ادائیگی کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئیں۔

نصیر آباد کے قریبی علاقے ڈیرا میں پولنگ افسر شاہدہ مشتاق شیخ نامی لیڈی ہیلتھ ورکر کے انتقال کے بعد احتجاج کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی خواتین احتجاج کر رہی ہیں۔

ایک بزرگ خاتون واقعے کی تفصیل بتارہی ہیں کہ انتقال کرنے والی خاتون نے 4 دن قبل آپریشن کے ذریعے بچے کو جنم دیا تھا اور میڈیکل بنیادوں پر پولنگ اسٹیشن میں ڈیوٹی انجام دینے کے قابل نہیں تھیں لیکن ریٹرننگ افسر نے درخواست رد کردی اور ہر صورت میں پولنگ اسٹیشن پر حاضر رہنے کی ہدایت کی۔

بزرگ خاتون نے دعویٰ کیا کہ ریٹرننگ افسر ایک ذیلی عدالت کے جج ہیں۔

سوشل میڈیا میں گردش کرنے والی اس ویڈیو میں ایک اور خاتون بتا رہی ہیں کہ میں خود جج صاحب کے پاس گئیں اور اپنی بہن کی حالت کے بارے میں آگاہ اور ان سے درخواست کی کہ میری بہن کا آپریشن ہوا ہے اور وہ ڈیوٹی انجام نہیں دے سکتیں مگر جج صاحب نے ایک نہ سنی۔

ویڈیو میں نظر آنے والی ایک اورخاتون بتا رہی ہیں کہ خاتون پولنگ اسٹیشن میں ڈیوٹی پر مامور تھیں کہ اچانک ان کی طبعیت بگڑ گئی، مگر کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے گاڑی کا انتظام نہیں کیا گیا تو ہمارے گھر کے مرد آئے اور اپنی مدد آپ کے تحت خاتون کو ہسپتال لے گئے۔

ویڈیو میں ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ پولنگ اسٹیشن پر موجود کسی کی جانب سے گاڑی کا فوری طور پر انتظام نہیں کیا گیا اور خاتون نے پولنگ اسٹیشن میں دم توڑ دیا تھا۔

اس حوالے سے سندھی روزنامے سندھ ایکسپریس نے 26 جنوری کو ایک خبر شائع کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ لیڈی ہیلتھ ورکر شاہدہ ووٹوں کی گنتی کے دوران دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئیں۔

اس واقعے کے حوالے سے کسی کی جانب سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔