آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری جب لاڑکانہ سے جیت چکے ہیں تو وہ اپنی جنم بھومی سے کیسے ہار گئے؟ گوکہ وہ لاڑکانہ سے کامیاب ہوگئے مگر درست بات یہ ہے لاڑکانہ بلاول کی جنم بھومی نہیں بلکہ حلقہ انتخاب ہے۔ بلاول کی سیاسی اور جسمانی جنم بھومی تو لیاری ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی کتاب ’دختر مشرق‘ کے صفحہ نمبر 423 اور 424 پر رقم طراز ہیں،

’ڈاکٹر سیٹنا صبح سویرے مجھے لینے آئے اور کہا کہ ہمیں جلدی کرنی ہوگی کیونکہ لوگ ہسپتال کے باہر جمع ہورہے ہیں۔ انہیں کیسے پتہ چلا کہ میں نے کراچی کے دیدہ زیب اور مہنگے ہسپتال کی بجائے لیاری کے لیڈی ڈفرن ہسپتال کو زچگی کے لیے منتخب کیا تھا۔ میرا پسندیدہ ڈاکٹر بھی وہیں پریکٹس کرتا تھا اور لیاری کی میرے لیے ذاتی اہمیت بھی تھی۔‘

کتاب دختر مشرق کا سرورق
کتاب دختر مشرق کا سرورق

’یہ علاقہ ہماری خوشیوں اور غموں میں برابر کا شریک رہا تھا۔ میرے والد نے اپنی سیاسی جنگوں میں آخری تقریر وہیں کی تھی۔ میں آنسو گیس کا نشانہ وہیں بنی تھی اور آصف اور میری شادی کا عوامی استقبال بھی وہیں ہوا تھا۔ لیاری کے غریب لوگوں نے ضیاء دور میں بہت تکلیف اٹھائی تھی۔ ہم میں بہت کچھ مشترک تھا۔

’میرا یہ بھی خیال تھا کہ میرے بچے کی پیدائش سے لیاری کے لوگوں کا ان ڈاکٹروں اور عملے پر اعتماد بڑھے گا اور وہ اپنے طبی علاج کے لیے اس ہسپتال آیا کریں گے۔ لیکن انہیں میرے ہسپتال میں آنے کا کیسے پتہ چلا؟ کیا خفیہ محکموں کی گاڑیاں جو اب بھی میرا تعاقب کرتی تھیں حکومت کی مختلف ایجنسیوں کو خبریں پہنچا رہی تھیں؟ نرسنگ اسٹاف نے میرے منہ پر چادر ڈال دی تھی تاکہ آپریشن تھیٹر میں مجھے لے جاتے ہوئے کوئی پہچان نہ سکے۔

مزید پڑھیے: بلاول بھٹو زرداری کے نام ایک سِندھی کا کھلا خط

’دوسرے کمرے میں آصف کی والدہ اور کچھ رشتہ دار مجھے درد سے نجات دلانے کے لیے سورۃ مریم کی تلاوت کر رہے تھے۔ آصف کی خواہش تھی کہ بیٹا ہو۔ یہ صرف آصف کا معاملہ نہیں بلکہ تقریباً گزشتہ 8 مہینے میں جس کسی سے بھی ملاقات ہوئی اس نے لڑکے کی خوش خبری سنائی۔ شاید یہ اس لیے بھی تھا کہ پاکستان میں لڑکے کی پیدائش کو خوش بختی سمجھا جاتا ہے۔ لڑکا ہوگا یا لڑکی اس کے بارے میں ساری قیاس آرائیاں 21 ستمبر کی صبح ختم ہوئیں۔ ’بیٹا ہوا ہے‘ میرے شوہر کی فخریہ اور مطمئن آواز میرے کانوں میں سنائی دی جب میں بے ہوشی سے ہوش میں آئی۔ ’وہ مجھ پر گیا ہے‘ میں پھر سوگئی اور بندوق چلنے کی آواز پر جاگی جو خوشی میں ہسپتال کے باہر چلائی گئی تھی۔‘

’پھر ڈھول کی تھاپ اور جئے بھٹو کے نعروں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک مشہور، عظیم ترین اور سیاسی طور پر متنازع بچہ پیدا ہوگیا تھا۔ ہم نے بچے کی پیدائش کی متوقع خبر کو خفیہ رکھا تھا تاکہ ضیاء اپنے انتخابی پروگرام کو میری زچگی کے عرصے سے منسلک نہ کرسکے۔

’تاریخ پیدائش کا پتہ چلانے کے لیے حکومت کے خفیہ ایجنٹوں نے میرے طبی ریکارڈ تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن میں نے وہ ریکارڈ اپنے پاس رکھے۔ حکومت کے ایجنٹوں نے 17 نومبر کا اندازہ لگایا تو ضیاء نے انتخابات کی تاریخ کے لیے 16 نومبر کا اعلان کردیا۔ لیکن بچہ ہم سب کے اندازوں کو دھوکہ دے گیا اور صرف ضیاء ہی ایک ماہ کا غلط اندازہ نہیں لگا سکا بلکہ ہمارا اندازہ بھی وسط اکتوبر کا تھا لیکن خدا نے ہم پر فضل کیا اور ہمارے اندازے سے بھی 5 ہفتے قبل ہی بچہ پیدا ہوگیا۔ یوں مجھے انتخابی مہم وسط اکتوبر سے چلانے کے لیے اپنی توانائی بحال کرنے کو ایک مہینہ مل گیا‘۔

بے نظیر بھٹو کی لیاری سے محبت کس نہج پر تھی، اس کی جھلک انہی کی کتاب کے توسط سے آپ تک پہنچا دی، اب آئیے پاکستان پیپلز پارٹی کی لیاری میں آمد اور رخصتی کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔

70ء کی دہائی سے قبل لیاری بلوچ قوم پرستوں اور بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ افراد کا گڑھ تھا۔ بائیں بازو کے حوالے سے بڑے ناموں میں سے ایک نام مرحوم لالہ لال بخش رند کا تھا جو آٹھ چوک پر نوجوانوں کی فکری و تربیتی نشستیں منعقد کرتے تھے، جن میں انہیں اشتراکیت یعنی سوشلزم کے فوائد سے آگاہ کیا جاتا تھا بلکہ ایک وقت میں لیاری کے علاقے آٹھ چوک کو ’لینن گراڈ‘ کا نام بھی دیا گیا۔

70ء سے قبل معروف سیاسی رہنما میر غوث بخش بزنجو لیاری سے ہی کامیاب ہوکر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ لیاری ہی میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) کی بنیاد رکھی گئی، بعد ازاں طلباء کی اس تنظیم نے بلوچستان کی سیاست میں انتہائی فعال کردار ادا کیا۔

بلاول اپنی والدہ کے ہمراہ
بلاول اپنی والدہ کے ہمراہ

پیپلز پارٹی کی لیاری میں آمد کے حوالے سے معمر سیاسی رہنما رحیم بخش آزاد کا کہنا ہے کہ ’پیپلز پارٹی کا قیام لیاری ہی میں ہوا تھا اور اس وقت جب بھٹو صاحب نے لیاری میں ایک چھوٹے سے کمرے میں پیپلز پارٹی کے قیام کا عندیہ دیا اور ہم لوگوں کو شمولیت کی دعوت دی تو ہم نے ان سے کہا کہ ہم ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن اس وقت لیاری کے عوام کو ایک بہت بڑے مسئلے کا سامنا تھا اور وہ یہ کہ ایوبی آمریت نے ایک منصوبہ بنایا تھا کہ محنت کشوں کی اس بستی یعنی لیاری کو وہاں سے منتقل کرکے کہیں اور آباد کیا جائے تاکہ کراچی کی بندرگاہ سے متصل اِس علاقے میں ایک جدید ٹاؤن شپ کی بنیاد رکھی جائے اور اس منصوبے کے تحت عالیشان قسم کے رہائشی گھر، ہوٹل اور کلبز بنائے جائیں تاکہ بندرگاہ پر جو جہاز لنگر انداز ہوں اس کا عملہ یہاں پر آزادی سے گھومے پھرے اور عدم تحفظ کا شکار نہ ہو۔ بھٹو صاحب نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ایسے کسی منصوبے کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔‘

بھٹو خاندان اور لیاری کے درمیان تبدیلی نے جو خلیج حائل کردی ہے اس کا مداوا تو نہ جانے کب ہوگا؟ بلکہ ابھی تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ایسا ہوسکے بھی یا نہیں؟

ککری گراؤنڈ لیاری کا وہ تاریخی گراؤنڈ ہے جہاں بھٹو صاحب نے ایوبی کابینہ سے استعفیٰ دینے کے بعد رخ کیا اور ایک تاریخی جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔ گویا یہ پیپلزپارٹی کے قیام کا نکتہ آغاز تھا جو لیاری سے شروع ہوا۔

بے نظیر بھٹو لیاری میں اپنی شادی کی تقریب کے موقعے پر۔
بے نظیر بھٹو لیاری میں اپنی شادی کی تقریب کے موقعے پر۔

تقریباً نصف صدی قبل پیپلز پارٹی کے قیام کا نکتہ آغاز لیاری سے ہوا اور پھر یہ کراچی کے اس علاقے میں مسلسل کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے کے بعد اُس وقت ناکامی سے دوچار ہوئی جب 2018ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین اپنی ہی جنم بھومی میں شکست سے دوچار ہوئے۔

لیاری سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عارف بلوچ پیپلز پارٹی کے لیاری سے صفائے کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’اس حلقے میں 6 فیصد نیا ووٹ درج ہوا تھا جو نوجوانوں پر مشتمل تھا جن کی تعداد 14 ہزار تھی۔ پیپلز پارٹی نے اس ووٹ کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا جبکہ یہ ووٹر عمران خان کے تبدیلی کے نعرے سے متاثر ہوکر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب چلا گیا۔ انہی ووٹروں نے لیاری کے اس حلقے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا جس کے باعث پی ٹی آئی نے تاریخی کامیابی سمیٹی اور دوسری جانب پیپلز پارٹی اپنی روایتی نشست سے محروم ہوگی‘۔

مزید پڑھیے: بھٹو نام کا پردہ کب تک ساتھ دے گا؟

سینئر صحافی اور کالم نویس تنویر احمد کے مطابق جن لوگوں کو اس بات پر تشویش ہے کہ یہاں پر مذہبی جماعتوں خصوصاً ایم ایم اے اور تحریک لبیک پاکستان کو کامیابی ہوئی ہے تو یہ لیاری میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں جماعت اسلامی لیاری کے مقامی رہنما بابو غلام حسین یہاں سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے تھے۔

لیاری کے پرانے رہائشی مخدوم ایوب قریشی کا کہنا ہے کہ ’کاش 2013ء کے انتخابات میں گینگ وار کے کہنے پر لیاری میں ٹکٹوں کی تقسیم نہیں کی جاتی تو آج اس صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ لیاری میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے بھی عوام پیپلز پارٹی کی وجہ سے نالاں تھے‘۔

پیپلز پارٹی کی لیاری قیادت میں دھڑے بندی نے بھی پیپلزپارٹی کو بہت نقصان پہنچایا جو بلاول بھٹو کی غیر موجودگی میں ایک منظم اور متاثر کن انتخابی مہم چلانے سے قاصر رہی۔ گوکہ صنم بھٹو اور آصفہ بھٹو نے بھی لیاری کا دورہ کیا لیکن وہ بھی لیاری کے عوام کو ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ ڈلوانے میں ناکام رہے یوں بلاول بھٹو جنہیں اپنی جنم بھومی میں پیپلز پارٹی کی کامیابیوں کی گولڈن جوبلی منانی تھی صد افسوس کہ وہ اس میں ناکام رہے۔

لیکن ایسا نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی نے لیاری میں ترقیاتی کام کروائے ہی نہیں، بلکہ لیاری جنرل ہسپتال کا قیام، لیاری میڈیکل کالج کی بنیاد، شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کا تحفہ، سول ہسپتال میں جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ٹراما سینٹر کی تعمیر ریکارڈ مدت میں مکمل کی لیکن شاید ترقیاتی کام لیاری کے عوام کو مطمئن نہ کرسکے۔

یہ سارے عوامل تو وہ ہوئے جس کی وجہ سے بلاول کو لیاری یعنی اپنی جنم بھومی سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا، لیکن سوال یہ ہے کہ مستقبل میں وہ اپنی اس کھوئی ہوئی نشست کو دوبارہ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

اس حوالے سے معروف سیاسی تجزیہ کار قاضی آصف کہتے ہیں کہ بلاول کو آنے والے وقت میں متعدد کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے مذہبی انتہا پسندی کو روکنا لازمی ہے، لیکن یہ کام کرنا پیپلز پارٹی کے لیے تنہا ممکن نہیں اس کے لیے وسیع تر بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔ بلاول بھٹو کے لئے ضروری ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر لیاری میں کارکنوں کے درمیان دھڑے بندی ختم کروائیں۔ پارٹی کی ازسرِ نو تنظیم سازی کریں اور اس میں نوجوان قیادت کو ترجیحی بنیادوں پر آگے لائیں۔ اسی طرح ان تمام لوگوں سے ہوشیار رہا جائے جو ماضی میں پیپلز پارٹی کو غیر مقبول کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے ہیں۔ سندھ میں حکومت کی تشکیل کے بعد، پیپلزپارٹی تمام مصلحتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے، لیاری گینگ وار کو بنانے کے پیچھے عوامل اور اصل صورتحال کو نا صرف بے نقاب کرے بلکہ اس کا حل نکالنے کا راستہ بھی تلاش کرے اور بلوچ اور کچھی بولنے والے جو صدیوں سے ایک ساتھ رہ رہے تھے، ان کے درمیان موجود اختلافات ختم کروا کر دوبارہ اسی پیج پر لائیں۔‘