شام: اسلحہ ڈپو میں دھماکا، 12 بچوں سمیت 39 افراد جاں بحق

اپ ڈیٹ 12 اگست 2018

ای میل

عمارت کے ملبے سے مزید لاشیں نکالی جاچکی ہیں—فوٹو:اے ایف پی
عمارت کے ملبے سے مزید لاشیں نکالی جاچکی ہیں—فوٹو:اے ایف پی

شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک اسلحہ ڈپو میں دھماکے سے 12 بچوں سمیت 39 افراد جاں بحق ہوگئے۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق شام میں موجود برطانوی تنظیم نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ دھماکا ادلب کے ایک قصبے سرمدا کی رہائشی عمارت میں ہوا۔

تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ ابتدا میں 12 لاشیں نکال لی گئی تھیں تاہم امدادی کارروائی کے دوران ملبے سے مزید لاشیں ملیں جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دھماکا سرمدا کی رہائشی عمارت میں قائم اسلحہ ڈپو میں ہوا لیکن دھماکے کی وجوہات تاحال معلوم نہ ہوسکیں’۔

رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والوں میں اکثریت کا تعلق جنگجو گروپ حیات التحریر الشام سے تعلق رکھنے والے افراد کے خاندان سے تھا۔

دھماکے کے بعد عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئی اور ملبے سے مزید کئی لاشیں نکال لی گئیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

امدادی کارکنوں کے مطابق ملبے سے 5 افراد کو زندہ نکال لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:اقوامِ متحدہ کا شام میں 30 روز کی عارضی جنگ بندی کا مطالبہ

خیال رہے کہ ادلب کے اکثر علاقوں میں باغیوں اور حیات التحریر الشام کا قبضہ ہے لیکن داعش کا تعاون بھی انہیں حاصل ہے جبکہ حکومت کے پاس محدود کنٹرول ہے۔

شام میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے دھماکوں اور کارروائیوں میں باغیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں صوبے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے۔

ادلب میں باغی گروپوں کے درمیان بھی کشمکش جاری ہے جس کے نتیجے میں صوبے میں ہونے والے چند دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

مزید پڑھیں:شام-عراق میں داعش کے ہاتھوں امریکی،سعودی اسلحہ استعمال ہونے کاانکشاف

دوسری جانب حکومت نے ادلب کے جنوبی علاقے میں کارروائیوں میں تیزی دکھاتے ہوئے بمباری کی اور وہ قریبی علاقوں میں قبضے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

صدر بشارالاسد نے روس کی مدد سے دیگر علاقوں میں کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حکومتی فورسز کو ادلب کا قبضہ حاصل کرنے کا بھی ہدف دیا ہے۔

ادلب میں 25 لاکھ کے قریب آبادی ہے جن میں سے نصف خانہ جنگی کے باعث ملک کے دیگر علاقوں میں بے گھرزندگی گزار رہے ہیں۔

یاد رہے کہ شام میں 2011 میں حکومت مخالف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو بعد میں مسلح بغاوت میں تبدیل ہوا اور جس کے بعد اب تک 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد جاں بحق اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو چکے ہیں۔