کوئٹہ کے علاقے سنجدی میں گیس بھرنے سے دھماکے کے باعث کوئلے کی کان میں 14 کان کن پھنس گئے۔

ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے پھنسنے والے کان کنوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے تاہم اب تک ان کان کنوں کے زندہ بچ جانے کے حوالے سے کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔

بلوچستان کے چیف انسپیکٹر برائے مائنز افتخار احمد نے واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ جائے وقوع کی جانب جارہے ہیں تاکہ ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرسکیں۔

بلوچستان میں کول مائنرز ایسوسی ایشن کے اہلکار بخت نواب نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’کوئلے کی کان میں پھنس جانے والے کان کنوں کے بچنے کے امکانات کم ہیں‘۔

پھنسنے والے کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے شانگلہ، سوات اور دیر کے علاقوں سے تھا۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے کی حالت زار کی وجہ سے تقریباً روزانہ کی بنیاد ہر، ہرنئی، سورانج، دکی، مچ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں جانیں ضائع ہوتی ہیں تاہم ان میں سے زیادہ تر رپورٹ نہیں ہو پاتیں۔

کائلے کی کان میں کام کرنا پتھر کی کانوں میں کام کرنے سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مطابق ہر سال تقریباً 100 سے 200 افراد کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال 5 مئی کو کوئٹہ سے 60 کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان مینرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی ملکیت سر رینج کوئلے کی کان مٹی کے تودے کی زد میں آگئی تھی۔

کان میں حادثے کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق ہوئے، تاہم ریسکیو کا عمل مکمل ہونے کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 23 تک پہنچ گئی تھی۔

جاں بحق 23 کان کنوں میں سے دو بلوچستان کے مقامی تھے جبکہ دیگر 21 کان کنوں کا تعلق شانگلہ سے تھا۔