کوک اسٹوڈیو 11 کی دوسری قسط کے‘گھوم چرخڑا’ کے چرچے

اپ ڈیٹ 19 اگست 2018

ای میل

دوسری قسط میں بھی 4 گانے ریلیز کیے گئے—اسکرین شاٹ
دوسری قسط میں بھی 4 گانے ریلیز کیے گئے—اسکرین شاٹ

کوک اسٹوڈیو کے گیارہویں سیزن کا آغاز تو گزشتہ ماہ 24 جولائی کو پاکستان کے عام انتخابات سے ایک دن قبل ہی ‘لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ سے ہوا تھا۔

تاہم اس کی پہلی قسط رواں ماہ 10 اگست کو جاری کی گئی تھی۔

کوک اسٹوڈیو 11 کی پہلی قسط میں 4 گانوں کو ریلیز کیا گیا تھا، جس میں خواجہ سراؤں کا ایک گانا بھی شامل تھا۔

کوک اسٹوڈیو 11 کی پہلی قسط کو یہ اعزاز حاصل رہا کہ اس میں پہلی بار خواجہ سراؤں کو شامل کیا گیا۔

علاوہ ازیں پہلی قسط کے گانے ‘شکوہ جواب شکوہ’ کی بھی دھوم رہی اور علامہ اقبال کی شاعری کو جدید انداز میں پیش کیے جانے پر مداحوں نے موسیقاروں اور گلوکاروں کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔

ساتھ ہی کچھ افراد نے ‘شکوہ جواب شکوہ‘ کو جدید انداز میں پیش کرنے پر کوک اسٹوڈیو کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

تاہم اب کوک اسٹوڈیو 11 کی دوسری قسط بھی جاری کردی گئی، جس میں 4 گانے ریلیز کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوک اسٹوڈیو 11 کی پہلی قسط کے ‘شکوہ جواب شکوہ‘ کی دھوم

کوک اسٹوڈیو 11 کی دوسری قسط کے چاروں گانوں میں اب تک مداحوں میں عابدہ پروین اور علی عظمت کے گانے ‘گھوم چرخڑا’ کے چرچے ہیں۔

اگرچہ دوسری قسط کے بھی تینوں گانے بہترین ہی ہیں، تاہم ‘گھوم چرخڑا’ کی دھوم ہے۔

گھوم چرخڑا

اس گانے کے ذریعے جنون گروپ کے علی عظمت نے بھی کوک اسٹوڈیو ڈیبیو کیا ہے، اس صوفی گانے کو جدید موسیقی کے ساتھ نئی توانائی دے کر موسیقی کے مداحوں کو ایک خوبصورت تحفہ دیا گیا ہے۔

گھوم چرخڑا میں صوفی گانوں کی ملکہ عابدہ پروین کے ساتھ علی عظمت نے خوب آواز کا جادو جگایا ہے۔

رشہ ماما

پشتو گانے رشہ ماما میں جہاں پشتو کی لوک گلوکارہ زرسانگا نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے، وہیں ان کا ساتھ نوجوان گلوکاروں نے دیا ہے۔

رشہ ماما میں گل پنڑا اور خماریاں میوزیکل بینڈ نے بھی اپنی آواز کا جادو جگایا ہے۔

رن وے

اس گانے کے ذریعے امریکی میوزیکل بینڈ ‘کریولا’ نے بھی کوک اسٹوڈیو ڈیبیو کیا ہے۔

اس گانے میں کریولا بینڈ کی دونوں بہنیں جہاں یوسف اور یاسمین یوسف نے ریاض قادری اور غلام علی قادری کے ساتھ آواز کا جادو جگایا ہے۔

گڈئیے

اس گانے میں ملک کے معروف گلوکار عطاء اللہ عیسی خیلوی کے ساتھ اسرار سمیت دیگر نئے گلوکاروں نے آواز کا جادو جگایا ہے۔

روایتی صوفی سازوں کے ملاپ سے گانے کو جدید انداز میں پیش کرکے کئی مداحوں کو موسیقی کا تحفہ دیا گیا ہے۔